فتح پور پولیس کا چوک اعظم میں چھاپہ،غیر قانونی زہریلی دوابیچنے والے دو بھائی گرفتار ایک فرار بھاری مقدار میں...
Read moreDetailsحکومت پنجاب 1990کے معاہدے کے مطابق ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنے کا اعلان کرے ، الہی بخش جو تہ...
Read moreDetailsسرگودھا ینگ ڈاکٹر کی ہڑتال سے بلیک میل ہو کر دی گئی جھوٹی ایف آئی آر فوری خارج کی جائے...
Read moreDetailsراستوں پر پختہ ریمپ تعمیر نہ کئے جانے پر موضع احمد یار رڈ کے شہر یوں کا احتجاج کوٹ سلطان...
Read moreDetailsچک , 105 زہریلی مٹھائی سے ہلاکتیں،پولیس کی کاروائی، تفتیش کا دائرہ وسیع مقبول ٹریڈرزچوک اعظم کے مالک مقبول جٹ...
Read moreDetailsملتان گریثرن ایجوکیشن سسٹم کی سالانہ 2015-16کی تقریبِ تقسیم انعامات کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد نے بہترین...
Read moreDetailsکون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک عفت وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا وہ تو بس گذرتا...
Read moreDetailsسانحہ چک 105ٹی ڈی اے وزیر اعلی پنجاب صاحب ضلع لیہ کے غم زدہ اور افسردہ عوام ان سوالوں کا...
Read moreDetailsچک 105میں صو بائی وزیر خوراک بلال یسین کی اوپن انکوائری زہریلی مٹھائی سے جاں بحق ہونے والے افراد کے...
Read moreDetailsپورا گھر قبرستان پہنچ گیا ہے ،پیسوں کا کیا کروں گا ؟ زہریلی مٹھا ئی کا شکار ہو نے والے...
Read moreDetailsلاہور { صبح پا کستان }وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں...
Read moreDetailsجوگی پہلے منتر سمجھے
حساس طبعیت کے مالک صابر عطاء کا سرائیکی شاعری کا مجموعہ
تحریر ۔۔ محمد عمر شاکر چوک اعظم دور جدید میں ٹیکنالوجی جس تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے پرانی رویات اسی انداز میں زوال پذیر ہو رہی ہیں ہردور میں ہر معاشرے زبان علاقے میں کتابیں ہی علم و حکمت کا خزینہ رہی ہیں اسے ایک طرف تو تخلیقی اور تعمیری مواد حاصل ہوتا ہے دوسری طرف امن دوستی کی فضا پیدا ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ذہنی ہم آہنگی ختم ہو رہی ہے معاشرے کا ہر فرد اپنی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اجتماعی سوچ اجتماعی معاملات اجتماعی فکر الغرض اجتماعیت کا خاتمہ ہو رہا ہے ہر شخص کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ انٹر نیٹ تک رسائی حاصل کر سکے اور مہنگائی روز مرہ کی ضروریات کے دگر دو سے ہی نہیں نکلنے دے رہی درسی کتب کے علاوہ نوجوانوں کی اکثریت دوسری کتب کا مطالعہ کرنا تو درکنار دیکھ بھی نہیں پاتے حکومتی سر پرستی یا نجی لائبریریوں کی سوچ ہی ختم ہو رہی ہے ان حالات میں محمد صابر عطا ء جو کہ بنیادی طور پر ایک صحافی ہیں بچپن سے ہی شاعری سے لگاوتھانہ صرف چوک اعظم بلکہ جنوبی پنجاب کسی بھی شاعر کا جب بھی کوئی شاعری مجموعہ شائع ہوا ملک صابر عطا جناح ہال چوک اعظم یا پریس کلب چوک اعظم میں اس شاعری مجموعے کی تقریب رونمائی منعقدکراکر صاحب کتاب کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھرپور کوشش کی ادبی سماجی اور صحافی تنظیموں کے زیر اہتمام نوجوان شاعروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور ادب کے جنوبی پنجاب میں فروغ کے لئے مشاعرے کرانے کی روائت بھی چوک اعظم میں صابر عطا نے ڈالی صابر عطاء ایک شخص ایک تحریک کا نام ہے وہ بیک وقت صحافی شاعر گیت نگار اور ان سب سے بڑھ کر سماجی نوجوان ہے ایک متحرک صحافی ہونے کے ناطے اسے ایک طرف تو ارباب اختیار سرمایہ داروں زمینداروں کے قریب رہنے کا موقع ملا جبکہ دوسری طرف وہ معاشرے میں تصویر کا دوسرارخ بھی دیکھتاہے کہ آج بھی مزدور کا بچہ ننگے پاؤں سکول جاتا کسان کا بچے آج بھی زمیندار کے بچے کو حسرت بھری نگاہوں سے سکول جاتے ہیں سرمایہ داروں کے گھوڑے کتے اعلی شان کمروں میں جبکہ اشرف المخلوقات آج بھی جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں صابر عطا ایک حساس طبعیت کا مالک ہے حساسیت میں ہی صابر عطاء کا پہلا شاعری مجموعہ جوگی پہلے منتر سمجھے اس کی مادری زبان سرائیکی میں شائع ہو چکی جوگی پہلے منتر سمجھے نہ صرف ایک شاعری مجموعہ بلکہ صابر عطا کی عملی زندگی کا نچوڑ ہے جس میں الفاظوں کی ہیر پھیر روائتی شاعری سے ہٹ کر صابر عطا نے نوجوانوں کو نئی امنگ نئے جزبے اور عصر حاضر کی ضروریات کے مد نظر نئے راستے تلاش کرنے کا حوصلہ دیا ہے محمد صا بر عطا کا شاعری مجموعہ جوگی پہلے منتر سمجھے نہ صرف سرائیکی ادب بلکہ قومی ادب کا سرمایہ ہے