• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک … عفت

webmaster by webmaster
اپریل 26, 2016
in First Page, کالم
0
سفرِ ِ جدوجہد   …… عفت
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
عفت
images (5)وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا وہ تو بس گذرتا چلا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذمے قدرت نے یہی کام لگایا ہے اب حالات نے اس کی رفتار کو بڑھا دیا ہے کہ ہم سب اس گردشِ ِ دوراں میں بھاگے چلے جا رہے۔اکثر مجھے خیال آتا ہے کہ پہلے بہت وقت ہوتا تھا سب کام بھی ہو جاتے ملنا ملانا بھی ہوتا

خلوص ہوتا قدر ہوتی مہمان کو خدا کی رحمت گردانا جاتا۔خوب آؤبھگت ہوتی ۔بچوں کے پاس کھیلنے کا وقت ہوتا ۔شام کے وقت پارک میں جاتے ۔اہل محلہ کو خبر ہوتی ایک دوسرے کے حالات اور پریشانی کی اور سب مل کر بانٹ لیتے ۔غم اور خوشی سانجھی ہوتی اور مل بانٹنے سے غم کم ہو جاتا اور خوشی دگنی ۔پھر دھیرے دھیرے ایسا وقت آ گیا کہ ہمارے پاس وقت کی قلت ہو گئی اور ہمارے احساسات برف کی طرح منجمند ہو گئے۔اور پھر ایسا وقت آگیا کہ۔
حادثے سے بڑھ کے سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
ہماری پریشانیوں کی اصل وجہ بھی دوری ہے ۔اور یہ دوری بھی کئی قسم کی دوریوں پہ مشتمل ہے ۔اپنوں سے دوری،مذہب سے دوری،اخلاقیات سے دوری،اور سب سے بڑھ کر اپنے مالک سے دوری۔ان سب دوریوں کی عوض ہم مشکلات کا شکار ہیں ۔پانچ سال قبل والد کا انتقال ہوا وہ گورنمنٹ کے ملازم تھے اور پینشن لیتے تھے ان کی وفات کے بعد وہ پینشن والدہ کو ملنی تھی کہنے کو تو سادہ سی بات تھی اور جائز کام تھا مگر مسلسل کوششوں کے باوجود بھی نہیں ہو رہا تھا اور فائل تھی کے کبھی ادھر کبھی ادھر ،کبھی صاحب نہیںimages (7) ،الغرض اس آنا کانی بلکہ بہانہ بازی میں دو سال بیت گئے اتنی پینشن نہیں تھی جتنے چکر لگانے میں لگ گئے ۔پھر بھلا ہو ایک چپڑاسی کا جس نے بتایا کہ کچھ دو اور کچھ لو ۔اب پلے کچھ تھا نہیں جو دیتے بالاآخر صاحب سے یہ طے ہوا کہ ملنے والی رقم سے چالیس ہزار اس مد میں دیے جائیں ۔والدہ اس بات سے اکتا چکی تھیں سو یہ مان لیا اور اس طرح ایک جائز کام رشوت کے ہاتھوں ناجائز ہوا ۔اب کیا کیا جاسکتا زمانے کی بھیڑ چال ہی ایسی ہوگئی کہ جائز آمدنی میں کچھ پورا ہی نہیں پڑتا سو مالِ حرام کے پیٹ میں جانے کا ہر راستہ کھلا ہے ۔خواہشات کے جال میں الجھے بیٹھے ہیں اور خواہشات ہیں کہ اپنا دائرہ وسیع تر کیے جاتی ہیں ۔ آج میں ان تمام کرداروں کا ذکر کرنا چاہوں گی جن سے مجھے ذاتی لگاؤ ہے اور وہ میری زندگی میں مجھے کچھ سبق دے گئے ہیں ۔ میری زندگی کا ایک اہم کردار مرشد بھی ہیں جن کو میں کبھی فراموش نہیں کر پاتی ان کا ناصحانہ انداز کبھی دوستانہ ہوتا تو کبھی استادانہ لیکن حقیقت یہ کہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا وہ ایک انسان دوست شخصیت ہیں اور اکثر خدمتِِ انسانیت میں لگے رہتے ۔پرائمری میں ہمیں ایک استاد پڑھایا کرتے تھے جن کا نام عبدالغفور تھا وہ ریاضی پڑھاتے تھے ان کا طریقہ کار تھا کہ اسکول آنے کے بعد وہ ایک بچے کو گھر بھجواتے اور وہ چائے سے بھرا تھرماس لے آتا وہ ایک کپ بھرتے اور بہت اہتمام سے کرسی پہ بیٹھ کے پرچ میں ڈال کے سڑک سڑک کی آواز کے ساتھ چائے پیتے۔ مجال تھی کہ کوئی بچہ اس دوران بولے پچاس بچوں کی کلاس میں چوں چاں کی آواز تک نہ آتی ہم سب محویت سے انکی سڑک سڑک کی آواز سے محظوظ ہوتے۔پہاڑا نہ آنے کی صورت میں ان کا مولا بخش تیار رہتا ۔دوسری شخصیت اسکول کی استانی تھیں گورنمنٹ اسکول جس میں کم و بیش دو سو سے زیادہ طلباوطالبات تھے ۔ہیڈ مس جو ہر وقت اون سلائیوں کے ساتھ الجھی رہتیں دو بڑی بچیاں قاعدے ہاتھ میں تھامے رٹے لگواتی رہتیں ۔بچے دریوں پہ بیٹھے ایک دوسرے کو چھیڑتے لڑائیاں کرتے جس پہ کلاس کی مانیٹر مس کے پاس جا کر کہتی ، مس جی انیلہ اور صغراں ایک دوجے کا جھاٹا پوٹ رہی ہیں ،تب مس کو جوش آتا اور وہ غصے میں آکر دونوں کا پٹا ہوا جھاٹا مذید پٹ دیتیں ۔چند لمحوں کے لیے سب کو سانپ سونگھ جاتا اور مس کے جاتے ہی پھر وہی بھن بھن شروع ہو جاتی۔زندگی کے سفر میں یاد رہ جانے والی ایک اور ہستی پروفیسر علم دار تھے وہ ہماری ہسٹری کی کلاس لیتے تھے ان کی رائٹنگ بہت خوب تھی اور انہیں لکھنے کا بہت کریز تھا کلاس میں آتے ہی کہتے آج میں آپکو مغل شہنشاہوں کے بارے میں لکھواؤں گا بس پھر بورڈ کی طرف منہ اور ہاتھ میں پکڑی چھوٹی چھوٹی پرچیوں پہ لکھا لیکچر بورڈ کے صفحہ قرطاس بہ بکھرنے لگتا ۔آہستہ آہستہ سب پچھلے دروازے سے کھسکنے لگتے اور بیل کی ٹن ٹن پہ جب سر لمبا سانس کھینچ کر پیچھے مڑتے تو آدھی سے زیادہ کلاس رفو چکر ہو چکی ہوتی۔
یہ سب یادیں زندگی کا حصہ ہیں اب جب عمر ان حدوں کو پار کر رہی اور بقول مرشد ہر سال ہم اپنے ماضی سے دور اور منزل کے قریب ہوتے جاتے ہیں تو یہ یادیں دھندلی ہوتی جاتی ہیں جس طرح گھڑسوار کے پیچھے دھول کے بگولے اٹھتے رہ جاتے اس طرح عمر رفتہ کو محض آواز ہی دی جا سکتی لوٹایا نہیں جا سکتا ۔کسی نے خوب کہا۔
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
زرا عمرِرفتہ کو آواز دینا۔
Tags: urdu column by iffat
Previous Post

وزیر اعلی پنجاب صاحب ضلع لیہ کے غم زدہ اور افسردہ عوام ان سوالوں کا جواب ما نگتے ہیں

Next Post

ملتان گریثرن ایجوکیشن سسٹم کی سالانہ 2015-16کی تقریبِ تقسیم انعامات

Next Post

ملتان گریثرن ایجوکیشن سسٹم کی سالانہ 2015-16کی تقریبِ تقسیم انعامات

قومی/ بین الاقوامی خبریں

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ
صبح پاکستان

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

by webmaster
اپریل 20, 2026
0

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...

Read moreDetails
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
ڈیرہ غازی خا  ن   ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ڈیرہ غازی خا ن ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

اپریل 11, 2026
ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

اپریل 10, 2026
پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

اپریل 10, 2026
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
عفت images (5)وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا وہ تو بس گذرتا چلا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذمے قدرت نے یہی کام لگایا ہے اب حالات نے اس کی رفتار کو بڑھا دیا ہے کہ ہم سب اس گردشِ ِ دوراں میں بھاگے چلے جا رہے۔اکثر مجھے خیال آتا ہے کہ پہلے بہت وقت ہوتا تھا سب کام بھی ہو جاتے ملنا ملانا بھی ہوتا
خلوص ہوتا قدر ہوتی مہمان کو خدا کی رحمت گردانا جاتا۔خوب آؤبھگت ہوتی ۔بچوں کے پاس کھیلنے کا وقت ہوتا ۔شام کے وقت پارک میں جاتے ۔اہل محلہ کو خبر ہوتی ایک دوسرے کے حالات اور پریشانی کی اور سب مل کر بانٹ لیتے ۔غم اور خوشی سانجھی ہوتی اور مل بانٹنے سے غم کم ہو جاتا اور خوشی دگنی ۔پھر دھیرے دھیرے ایسا وقت آ گیا کہ ہمارے پاس وقت کی قلت ہو گئی اور ہمارے احساسات برف کی طرح منجمند ہو گئے۔اور پھر ایسا وقت آگیا کہ۔ حادثے سے بڑھ کے سانحہ یہ ہوا لوگ ٹہرے نہیں حادثہ دیکھ کر ہماری پریشانیوں کی اصل وجہ بھی دوری ہے ۔اور یہ دوری بھی کئی قسم کی دوریوں پہ مشتمل ہے ۔اپنوں سے دوری،مذہب سے دوری،اخلاقیات سے دوری،اور سب سے بڑھ کر اپنے مالک سے دوری۔ان سب دوریوں کی عوض ہم مشکلات کا شکار ہیں ۔پانچ سال قبل والد کا انتقال ہوا وہ گورنمنٹ کے ملازم تھے اور پینشن لیتے تھے ان کی وفات کے بعد وہ پینشن والدہ کو ملنی تھی کہنے کو تو سادہ سی بات تھی اور جائز کام تھا مگر مسلسل کوششوں کے باوجود بھی نہیں ہو رہا تھا اور فائل تھی کے کبھی ادھر کبھی ادھر ،کبھی صاحب نہیںimages (7) ،الغرض اس آنا کانی بلکہ بہانہ بازی میں دو سال بیت گئے اتنی پینشن نہیں تھی جتنے چکر لگانے میں لگ گئے ۔پھر بھلا ہو ایک چپڑاسی کا جس نے بتایا کہ کچھ دو اور کچھ لو ۔اب پلے کچھ تھا نہیں جو دیتے بالاآخر صاحب سے یہ طے ہوا کہ ملنے والی رقم سے چالیس ہزار اس مد میں دیے جائیں ۔والدہ اس بات سے اکتا چکی تھیں سو یہ مان لیا اور اس طرح ایک جائز کام رشوت کے ہاتھوں ناجائز ہوا ۔اب کیا کیا جاسکتا زمانے کی بھیڑ چال ہی ایسی ہوگئی کہ جائز آمدنی میں کچھ پورا ہی نہیں پڑتا سو مالِ حرام کے پیٹ میں جانے کا ہر راستہ کھلا ہے ۔خواہشات کے جال میں الجھے بیٹھے ہیں اور خواہشات ہیں کہ اپنا دائرہ وسیع تر کیے جاتی ہیں ۔ آج میں ان تمام کرداروں کا ذکر کرنا چاہوں گی جن سے مجھے ذاتی لگاؤ ہے اور وہ میری زندگی میں مجھے کچھ سبق دے گئے ہیں ۔ میری زندگی کا ایک اہم کردار مرشد بھی ہیں جن کو میں کبھی فراموش نہیں کر پاتی ان کا ناصحانہ انداز کبھی دوستانہ ہوتا تو کبھی استادانہ لیکن حقیقت یہ کہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا وہ ایک انسان دوست شخصیت ہیں اور اکثر خدمتِِ انسانیت میں لگے رہتے ۔پرائمری میں ہمیں ایک استاد پڑھایا کرتے تھے جن کا نام عبدالغفور تھا وہ ریاضی پڑھاتے تھے ان کا طریقہ کار تھا کہ اسکول آنے کے بعد وہ ایک بچے کو گھر بھجواتے اور وہ چائے سے بھرا تھرماس لے آتا وہ ایک کپ بھرتے اور بہت اہتمام سے کرسی پہ بیٹھ کے پرچ میں ڈال کے سڑک سڑک کی آواز کے ساتھ چائے پیتے۔ مجال تھی کہ کوئی بچہ اس دوران بولے پچاس بچوں کی کلاس میں چوں چاں کی آواز تک نہ آتی ہم سب محویت سے انکی سڑک سڑک کی آواز سے محظوظ ہوتے۔پہاڑا نہ آنے کی صورت میں ان کا مولا بخش تیار رہتا ۔دوسری شخصیت اسکول کی استانی تھیں گورنمنٹ اسکول جس میں کم و بیش دو سو سے زیادہ طلباوطالبات تھے ۔ہیڈ مس جو ہر وقت اون سلائیوں کے ساتھ الجھی رہتیں دو بڑی بچیاں قاعدے ہاتھ میں تھامے رٹے لگواتی رہتیں ۔بچے دریوں پہ بیٹھے ایک دوسرے کو چھیڑتے لڑائیاں کرتے جس پہ کلاس کی مانیٹر مس کے پاس جا کر کہتی ، مس جی انیلہ اور صغراں ایک دوجے کا جھاٹا پوٹ رہی ہیں ،تب مس کو جوش آتا اور وہ غصے میں آکر دونوں کا پٹا ہوا جھاٹا مذید پٹ دیتیں ۔چند لمحوں کے لیے سب کو سانپ سونگھ جاتا اور مس کے جاتے ہی پھر وہی بھن بھن شروع ہو جاتی۔زندگی کے سفر میں یاد رہ جانے والی ایک اور ہستی پروفیسر علم دار تھے وہ ہماری ہسٹری کی کلاس لیتے تھے ان کی رائٹنگ بہت خوب تھی اور انہیں لکھنے کا بہت کریز تھا کلاس میں آتے ہی کہتے آج میں آپکو مغل شہنشاہوں کے بارے میں لکھواؤں گا بس پھر بورڈ کی طرف منہ اور ہاتھ میں پکڑی چھوٹی چھوٹی پرچیوں پہ لکھا لیکچر بورڈ کے صفحہ قرطاس بہ بکھرنے لگتا ۔آہستہ آہستہ سب پچھلے دروازے سے کھسکنے لگتے اور بیل کی ٹن ٹن پہ جب سر لمبا سانس کھینچ کر پیچھے مڑتے تو آدھی سے زیادہ کلاس رفو چکر ہو چکی ہوتی۔ یہ سب یادیں زندگی کا حصہ ہیں اب جب عمر ان حدوں کو پار کر رہی اور بقول مرشد ہر سال ہم اپنے ماضی سے دور اور منزل کے قریب ہوتے جاتے ہیں تو یہ یادیں دھندلی ہوتی جاتی ہیں جس طرح گھڑسوار کے پیچھے دھول کے بگولے اٹھتے رہ جاتے اس طرح عمر رفتہ کو محض آواز ہی دی جا سکتی لوٹایا نہیں جا سکتا ۔کسی نے خوب کہا۔ غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا زرا عمرِرفتہ کو آواز دینا۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.