بلا کی چمک اس کے چہرے پہ تھی مجھے کیا خبر تھی وہجائے مر گا روز اول سے یہ قانون قدرت...
Read moreDetailsقیام چوک اعظم سے ہی یہاں کے باسیوں کی خواہش تھی کہ ایم پی اے یا ایم این اے چوک...
Read moreDetailsگذشتہ کل ڈی جی خان انفارمیشن آ فس سے جاری ہو نے والی ایک تصویر نے مجھے بڑا حیران کر...
Read moreDetailsسیاست کا چولہا بھر پور تپا ہوا ہے، حالات کی چوانتیاں ہر طرف سے بڑھ چڑھ کر اسے بھڑکارہی ہیں....
Read moreDetailsانسان کے بنیادی حقوق میں سے صحت مند ماحول جزو لازم ہے، کیونکہ اچھی اور پاک صاف آب و...
Read moreDetailsاب جس معاشرے میں طلباء سر عام ڈنڈوں سے اپنے استاد کی خبر گیری کرتے نظر آ ئیں اور استاد...
Read moreDetailsتھل جیپ ریلی کے پیچھے دھندے کی کیا کہانی ہے؟ اس بارے میں عرض کرتا ہوں لیکن پہلے میری درخواست...
Read moreDetailsبزمِ فروغِ ادب و ثقافت لیہ کے زیر اہتمام مہمان معروف شاعر میر کوثر عباس کوثر کے اعزاز میں ایک...
Read moreDetailsہم دنیا کے مشاغل میں اس درجہ مصروف ہوگئے ہیں کہ کم ہی یاد رہتا ہے کہ جن کے باعث...
Read moreDetailsپاکستان ایک مقدس خطہ ارض ہے ۔یہ ایک نظریاتی مملکت جسے اسلامی اصولوں کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا...
Read moreDetailsراولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...
Read moreDetailsوہ آئے گھر میں ہمارے،خدا کی قدرت ہے کبھی ہم ان کو، کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں......
راجہ صاحب کی قدم رنجائی پر اہل نظامت تعلقات عامہ نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور تاریخی دورہ تھا کیونکہ اس سے قبل ان کے کسی پیشرو نے ایسی کوئی روایت نہیں چھوڑی. یہ راجہ جی کا امتیاز ہے کہ وہ نئے ا چھوتے اور خوش رنگ انداز سے کار سرکارانجام دے رہے ہیں. انہیں تجربات کرنا اچھا لگتا ہے خاص طو رپر ا یسے تجربات کہ جن میںرنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے......
وزیر اعلی کی آمد قیام اور روانگی تک کے انتظامی امور جہاں سرکار کے دیگر سینئر افسران سرانجام دے رہے تھے وہاں سیکرٹری اطلاعات نے لمحہ، لمحہ کی خبر سے میڈیا کو باخبر رکھا. میڈیا کو باخبر رکھنا ہی تو عوام کو باخبر رکھنا ہے اگر ہم یہ کہیں کہ اس باخبری میں خبریت سے زیادہ آگاہی تھی تو بے جا نہ ہو گا کہ گزشتہ حکومتوں نے تین چار دہائیوں کے دوران میڈیا میں جو دہائی ڈال رکھی تھی جس میں رنگ برنگ اور بدرنگ کے پھوکے اور کھوکھلے نعروں کے ڈھول بجائے جا رہے تھے. اس کے مقابلے میں عثمان بزدار نے نہایت ہی وضعدارانہ طرز حکومت و حکمت اختیار کیا ہوا ہے. اب کسی دورہ پر کم ہی ہوا ہے کہ وزیر اعلی پانچ دس افسران کا صبحانہ، ظہرانہ، عصرانہ یا عشائیہ کریں. ان کی ضیافت نہایت سادہ ہوتی ہے دعوتوں اور استقبالوں کی بجائے وہ اپنی تمام تر توانائی خدمت عوام پر صرف کرتے ہیں ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے لاتعدادفلاحی اقدامات بارے کسی اور دن آپ کو کھل کر بتائیں گے. ویسے تو زیادہ کھلنا بھی اچھانہیں. بس ہولے، ہولے آپ کو یہ بتائے دے رہے ہیں کہ سادگی کا جو کلچر اپنایاگیا ہے اس کے اثرات و ثمرات آپ وزارت اطلاعات و ثقافت میں دیکھ سکتے ہیں جس نے محض ڈیڑھ سال کے عرصے میں کروڑ وں روپے اشتہاری اخراجات بچا کر قومی خزانہ کے تحفظ میں اپنا حصہ پورا، پورا ادا کردیاہے. راجہ جہانگیر انورسیکرٹری اطلاعات و ثقافت ہونے کے باوجود نمود و نمائش کے قائل نہیں ہیں. نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے ٹیم ممبران کی خبرگیری کرتے رہتے ہیں. اس ٹیم میں سرکاری، صحافتی، ادبی، فنکار و دستکاربرادری سے تعلق رکھنے والے سبھی افراد شامل ہیں مجھے یاد ہے کہ دو سال قبل ہمارے دفتر کے مقالہ نگار منصور احمد خان سکھانی کی ناگہانی موت کے موقع پر انہو ں نے فوری طور پر اپنی جیب سے ایک معقول رقم مرحوم کی بیوہ او ربچوں کیلئے بھجوائی تھی اور ساتھ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ منصور کی ترقی جو اس وقت آخری مراحلہ پر تھی وفات کے بعد بھی ضرور کریں گے. راجہ صاحب کی مصروفیات تو ہیں ہی، ہم بھی بھول گئے. آج جب قلم سنبھالا تو یاد آیا کہ ہم روح منصور کے مقروض ہیں سو ہم اپنا فرض ان سطروں میں ادا کیے دیتے ہیں. تازہ چٹھی بطرف سرکار روانہ کر دی ہے اس کامل یقین کے ساتھ کہ ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر صاحب کے توسط سے سیکرٹری محترم اس کار خیر کو مکمل کردیں گے. چلیے! اب چند جملے تشکر و تحسین کے ساتھ اس جذبہ بے مثال کو سلام شوق کہ نوکری او رنمائندگی کا واضح فرق راجہ جہانگیر انور نے نہایت خوبصورتی و مہارت کے ساتھ ہم پر واضح کیا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے میں عزت وتکریم ہے اور لمحہ موجود کے تقاضوں میں کچھ نیا پن جو روایتی و غیر روایتی قدروں کے بین، بین، قدم در قدم آگے بڑھتا رہنا چاہیئے جبکہ یہاں مدت تک حال یہ تھا کہ خود فریبی سی خود فریبی ہےپاس کے ڈھول بھی سہانے لگے اور لوگ اپنے دیئے جلانے لگے...
اگلے مصرع کے مطابق ہم نے داغ دل نہیں جلانا کیونکہ ہم نے تو اب کی بار گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے. جگ، جگ جیو راجہ جی.... ہم آپ کی رہنمائی میں خدمت ملک و ملت کرتے رہیں گے. اس موقع پر ہمارے ساتھی عمران اسلم اور غیر سرکاری رفیق طور خان بزدار کا طرز عمل نہایت قابل تعریف رہا.ان کیلئے بھی محبت و اخلاص کے گلاب حاضر ہیں
bhatticolumnist99@gmail.com