مرد مجاہد پاکستان کا پہلا شاہین ایئر مارشل اصغر خان کو کارکنوں سے بچھڑے ہوئے 8 برس بیت گئے 5 جنوری 2018 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے ان کے حالات کا اظہار تحریک استقلال کے مرکزی رہنما اور تحریک بحالی صوبہ بہاولپور کے مرکزی رہنما محمد اکرم انصاری نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ایئر مارشل اصغر خان جسٹس پارٹی سے لے کر ایک تحریک استقلال کے آخری دم تک ثابت قدم رہے ایئر فورس میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کی پرزور خدمات انجام دیں حاجی خیر محمد بڈیرہ ایڈووکیٹ ملک ساجد فیروز ایڈووکیٹ انجم صحرائی ملک محمد حافظ فتح خان ایڈووکیٹ ایئر مارشل اصغر خان کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جسٹس میاں اللہ نواز مرحوم جسٹس احمد شاہد صدیقی مرحوم بابر شاہین مرحوم جنون کی حد تک ائیر مارشل اصغر خان کے دیوانے تھے مخدوم رکن دین بھی تحریکِ استقلال کا حصہ تھے اور ایئر مارشل اصغر خان کے جانشینوں میں سے تھے
اکرم انصاری نے کہا کہ جب ایئر مارشل اظہر خان بہاولپور آئے تھے کوئی نہ کوئی واقعہ اپنی زندگی کا بتاتے تھے اسی طرح ایک عظیم لیڈر سے جو قائد اعظم کے جانشینوں میں تھا کھو بیٹھے ہیں تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کی زندہ تاریخ بھی خاموش مشرق پاکستان کو الگ ہونے سے روکنے کے لیے انہوں نے بھرپور کوشش کی اصول دیانت شرافت اور شائستہ سیاست کا عہد تمام ہوا یہ اصغر خان ہی تھے جنہوں نے کوہالہ پل پر 1977 میں بھٹو کو پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا بڑے سیاسی کردار کی جدائی قومی ایشو پر کھل کر اظہار خیال کرنا ان کا شیوہ تھا ایئر مارشل اظہر خان میدان سیاست میں اترے تو قوم کی آنکھوں کا تارا بن گئے ایئر مارشل اصغر خان کو اللہ گرامی رحمت کرے وہ ایسے انسان تھے جو درد دل رکھتے تھے بے شک وہ ایسا شخص تھا جس کے اندر جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا سیاست میں جو اس کا نظریہ تھا وہ ہم سب کا نظریہ تھا عمل میں فرق ہو سکتا ہے اور وہ اپنے فکر کے ادمی تھے میرے ساتھ ٹیلی فون پر اتنی بحث کرتے تھے ایک یہ میرے دوست میری بیگم کہتی تھی کہ اس کی کال ہے میں کہتا تھا ایبٹ اباد کہتی تھی بند نہیں ہو سکتی میں نے کہا یہ بند ہے تحریک استقلال میں ہمارا ساتھ رہا تھا میں نے 1964 میں بہاولپور عباسی اسکول کے گراؤنڈ میں ایک جلسہ اٹینڈ کیا تھا مادر ملت کا نشان یہاں لگا کر ہم نے نعرے لگائے تھے یہ قائد اعظم کا پیروکار ہے بہت سے واقعات ہیں ایئر مارشل اصغر خان فوج میں بھرتی ہوئے تھے تب قائداعظم پاکستان بنانے کی جدوجہد کر رہے تھے جب میں نے ائیر مارشل اصغر خان صاحب کو جوائن کیا تو میرے دوست نے مجھے کہا یہ ٹھیک ہے یہ قومی ہیرو ہے لیکن اگر تم نے سیاستیں کرنی ہیں تو مسلم لیگ میں آجاؤ تو میں نے کہا قائد اعظم کی مسلم لیگ یہ نہیں ہے ائیر مارشل اصغر خان قائد اعظم کا سپاہی تھا اصغر تھا وہ بات کرتا تھا اتنا سچا تھا کتنا صاف اور شفاف کردار تھا











