مدت پہلے اعزاز احمد آذر نے کہا تھا کہ
اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ
فصل بوئی تھی چاندنی کی،
اب اس میں اگنے لگے اندھیرے تو جی میں کیسا ملال رکھنا ،،،
ہم ایسے ہی معاشرے کے باسی ہیں جو ایک زمانے سے اجاڑ موسم کا شکار ہیں ، اوپر سے ریت دھرتی لیکن اس میں ہم بار بار روشنیاں کاشت کیے جا رہے ہیں ،،،
قدرت اپنی فطرت و سائنس کبھی نہیں بدلتی اور نہ ہی بدلے گی کہ وہ ہماری ،،، سادہ دلی ،،، پر گندم کے بیج کاشت کرنے پر کپاس اگا دے یا سبزی کے بیج سے سیب پیدا کرکے دکھائے،،، ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا ۔ یہ بھی نہیں کہ کائنات کا خالق ومالک ایسا کرنے پر قادر نہیں لیکن اس ایک خاص ترتیب سے نظام کو بنایا اور اسے چلائے جا رہا ہے ،،،
ہم سادہ مزاج ، اس میں ترامیم لانا چاہیں بھی تو کبھی کامیاب نہیں ہو ں گے ،
قدرت نے کامیابی محنت میں رکھی ہے نہ کہ جہالت میں ۔۔۔۔ ہماری اس سادہ دلی پر قادر مطلق تبسم فرما کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ہم نے جو خودفریبی کے انداز اپنائے ہیں ان کے ذریعے نہ صنم ملیں گے اور نہ ہی وصال صنم ،،،
صنم جی،جی بالکل صنم کدہ و اقتدار کدہ کی تازہ ترین کہانی کہ حاکمیت و خدمت کے بڑے ایوان میں میں سپیکر صاحب نے اعلان کیا کہ انہیں ہال میں داخل ہوتے ہوئے کچھ رقم ملی ہے ، جن صاحب کی ہو وہ ہاتھ کھڑا کرکے مزکورہ رقم لے سکتے ہیں ، اس رقم کے پندرہ بیس معزز ارکان اسمبلی نے ایک ہی وقت میں ہاتھ کھڑے کر دیے ،،، وقت کے حاکم حقیقی اور حاکم عارضی نے یہ منظر ایک ساتھ دیکھا ،،،،،
آپ ہی بتائیے کہ ایسے لوگ جو خود کو خادمین عوام الناس کہتے ہیں کتنے صادق و امین ہیں،،، یہاں سائنس اپنے تمام تر کرشمات کے ساتھ ریت دھرتی پر اجالے اگائے گی،،،،،، کبھی نہیں ، کبھی نہیں ،
ہم جیسے سینیئر شہریوں نے جس اندھیرے سے اجالے کے سفر شروع کیے تھے وہ اندھیرے ایسی روشنیوں سے کئی گنا زیادہ منور تھے ،،،
نام نہاد اندھیروں میں روشنیوں کی ترامیم لانے کی کوشش لا حاصل سے ابھی تک تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ، دعائیہ کوشش کر تے ہیں کہ ہم اس عہد ترمیمیہ سے نجات پائیں کیونکہ ہم مدت سے ایمان کے کمزور ترین درجے پر فائز ہیں جہاں برائی کو محض دل ہی دل میں غلط سمجھا جاتاہے ،،، خیر سے ہم نے اس میں بھی ترمیم کر لی ہے کہ کچھ اچھا ہو یا برا ،،،، بس اس پر مٹی ڈال دیں ، مٹی ڈالنے کی یہ سائنس اس عہد ترمیمیہ میں انتہائی فعال و مقبول ہے ،،
غالب کی طرح ہمیں بھی جب فرصت ملے تو ہم احباب کی سخن وری سے جی بہلاتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی گنگناتے ہیں کہ
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی بہل جائے ،
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے ،
آپ کا جی بہلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ
گلے کے سانپوں سے لڑنے والو! ان آستینوں کا کیا کرو گے ؟
جو یار سینوں میں بغض رکھتے ہوں ان کمینوں کا کیا کرو گے ؟
ہزار ماتھے پہ لو بناؤ ہزار سجدے نشان ڈالیں
جو دل کے دامن پہ داغ ٹھہرے تو ان جبینوں کا کیا کرو گے ؟









