زندگی ازل سے ادھوری بلکہ ادھاری ہے، ہر ذی روح کو ایک دن لوٹ کے اپنے خالق حقیقی کی طرف جانا ہے ،،، یہ پہلی بات ہے کہ کل نفس ذائقہ الموت ،،،،
جدائی کا درد محسوس تو کیا جاتا ہے مگر بیان کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا ، یہی کیفیت آج ہماری ہے کہ دیرینہ دوست محمد اسلم ،،، جو طویل رفاقت کے بعد دو ہفتے قبل اس دارفانی سے کوچ کرگئے اور ہماری پینتالیس سالہ دوستی کی انتہائی خوش گوار یادوں کو بھی ساتھ لے گئے ، ان کی بہادری ، وضعداری اور بے مثال محبت کی کہانی ہم سناتے ہوئے خود کو مزید ادھورا سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بھرپور عملی زندگی میں سینکڑوں خیر خواہوں کے درمیان ،ہمیشہ منفرد اور ممتاز مقام رکھتے تھے ،
اس قحط الرجال عہد میں ، وہ اپنے زمانہ طالبعلمی میں سادہ اور خوش مزاجی کے باعث ،،، سردار اسلم ، بن گئے اور انہوں نے اس سرداری کا نہ صرف بھرم رکھا بلکہ اس اعزاز کو اپنے حلقہ ء احباب کے لیے بھی اعزاز بنا دیا ،،، ہم سردار اسلم کے یار کے طور پر جانے جاتے رہے ،،،
ماہر تعلیم کے طور پر کم و بیش تیس سال تک مختلف تعلیمی اداروں کی سربراہی کی ، ہزاروں شاگرد اور سینکڑوں دوست ان کے اخلاق و محبت کے اسیر ہوئے ،،، مٹی سے اور مٹی سے بنے ہوئے انسان کی قدر و تکریم خوب جانتے تھے ،،،
ہم یہ تحریر کرتے ہوئے دکھی ہیں کہ وہ آج ہمارے درمیان نہیں اور یہ بھی دکھ ہے کہ سرکار نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا ،،،، ایک باصلاحیت اور باوقار انسان کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا ،،،
خیر ،،،، یہ دنیا ہے یہاں سب نے آزمائشوں سے گزرنا ہے سو ،،، ہمارے پیارے دوست سردار اسلم بھی آخر کار ،، منزل دوام کی طرف لوٹ گئے اور جاتے جاتے ہمیں دو نکے و مٹھے سردار، دلاور اور عامر دے گئے ان دونوں شہزادوں کے لیے ڈھیروں دعائیں اور آللہ تعالیٰ سے عرض ہے کہ وہ انہیں اب اپنی والدہ محترمہ کے فرمانبردار بنائے تاکہ یہ نوجوان دین و دنیا کی ترقیاں اور عزتیں پائیں ، ہمیشہ خوش وخرم رہیں اور اپنے والد سردار محمد اسلم کے نام کو چار چاند لگا ئیں،،،،
دوسری بات کے بعد تیسری بات ،،
قرآن کا ایک حیرت انگیز معجزہ دیکھیے!!!
"اور اس بات پر حیران یا تعجب نہ کیجیے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔”
قرآن کے الفاظ اور ان کے ذکر کی تعداد قرآن میں:
دنیا: 115 آخرت: 115
ملائکہ: 88 شیاطین: 88
محمد: 4 شریعت: 4
لوگ: 50 انبیاء: 50
صلاح: 50 فساد: 50
ابلیس: 11 اس سے پناہ: 11
مرد: 24 عورت: 24
زندگی: 145 موت: 145
نیکیاں: 167 گناہ: 167
اظہار: 16 اعلان: 16
مصیبت: 75 شکر: 75
ہدایت: 79 رحمت: 79
یہ تناسب بتاتا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور انسان اس کی مثل نہیں لاسکتے۔
کچھ الفاظ کی تعداد میں حکمت ہے، مثلاً:
– جزا: 117 مغفرت: 234
(یعنی دگنی، کیوں؟ کیونکہ اللہ کی رحمت اور مغفرت ہر چیز پر غالب ہے)
– تنگی: 12 آسانی: 36
(یعنی تین گنا، کیوں؟ کیونکہ اللہ فرماتا ہے کہ تنگی کے بعد آسانی ہے)
مزید قابلِ غور باتیں:
– لفظ نماز 5 بار ذکر ہوا ہے، اور نمازیں بھی 5 وقت کی ہیں۔
– لفظ دن 365 بار ذکر ہوا ہے، اور سال میں 365 دن ہوتے ہیں۔
قرآنی معجزات:
– لفظ زمین 13 بار ذکر ہوا ہے، اور سمندر 32 بار۔
اگر ہم اس کا تناسب نکالیں تو سمندر 71 فیصد اور زمین 29 فیصد بنتی ہے، جو کہ زمین پر سمندر اور خشکی کے تناسب کے مطابق ہے۔
سبحانک ربی ما اعظمک
وہ نمبر جس نے سائنس دانوں کو حیران کیا: 7!
کیا آپ جانتے ہیں کہ نمبر 7 کا ایک معنی ہے، اور اس کا مکمل فہم قیامت تک نہیں ہوسکتا؟
یہ اللہ کی حکمت ہے!
آئیے اس نمبر سے جڑی چند معلومات دیکھیں:
– آسمان کی 7 پرتیں
– زمین کی 7 پرتیں
– ہفتے کے 7 دن
– جہنم کے 7 دروازے
– دنیا کی 7 عجائبات
– کعبہ کا طواف 7 چکر
– صفا اور مروہ کے درمیان 7 چکر
– 7 سال کی عمر میں نماز کا حکم
– قوسِ قزح کے 7 رنگ
– سورۃ الفاتحہ کی 7 آیات
– سمندر 7
– حج میں 7 کنکریاں
– زمین کی 7 بنیادی معدنیات
– 7 اقسام کے ستارے
– الیکٹران کے مدار کے 7 درجات
– روشنی کے 7 رنگ
– غیر مرئی شعاعوں کی 7 اقسام
– پرندے "V” کی شکل میں 7 کی طرح اُڑتے ہیں
– عیدین کی نماز میں 7 تکبیریں
– دنیا کی 7 براعظمیں
– قیامت کے دن 7 لوگ اللہ کے سائے میں ہوں گے
آخری بات:
شہادتِ توحید کے 7 الفاظ ہیں:
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
حسب آغاز تیسری بات کے بعد کچھ اور عرض کرنے کی ہمت نہیں پڑ رہی، ہاں ایک ارداس ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ماننے والے ہیں اب اس کے سوا کسی اور کے آ گے سر نہ جھکائیں ،،،










