دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں کم عمری کی شادی اب ثقافتی اختلاف کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ اسے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی تسلیم کیا جا چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست، مذہب، روایت اور فرد—چاروں کو ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ روایت کتنی پرانی ہے، سوال یہ ہے کہ وہ انسان کو کہاں لا کر کھڑا کرتی ہے۔
پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی پر جب ایک بااثر مذہبی و سیاسی رہنما کی جانب سے کھلے عام قانون شکنی اور خود ایسی شادیاں کروانے کے اعلانات سامنے آتے ہیں، تو معاملہ محض داخلی سیاست تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ریاست کی رِٹ، قانون کی حیثیت اور بچوں کے تحفظ پر ایک کھلا سوال بن جاتا ہے—اور یہ سوال پوری دنیا سنتی ہے۔
یہاں اصل بحث یہ نہیں کہ قانون درست ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ ریاست کی عملداری کہاں تک ہے؟
اگر کوئی شخص یا گروہ اپنے عقیدے کی بنیاد پر قانون توڑنے کو حق سمجھ لے، تو قانون کتابوں میں دفن ایک تحریر بن جاتا ہے، اور ریاست ایک کمزور تماشائی۔
عالمی تناظر میں کم عمری کی شادی کو بچوں کے خلاف تشدد کی ایک شکل مانا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی عدالتیں اسے بچپن کے حق، تعلیم کے حق، صحت کے حق اور خود اختیاری کے حق کی صریح نفی قرار دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افریقہ، جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے وہ معاشرے جہاں یہ روایت کبھی مضبوط سمجھی جاتی تھی، آج قانون، تعلیم اور سماجی اصلاحات کے ذریعے اس کے خلاف کھڑے ہیں۔
بنگلہ دیش، نیپال اور ایتھوپیا جیسے ممالک نے یہ تسلیم کیا کہ کم عمری کی شادی صرف ایک بچی کی زندگی محدود نہیں کرتی، بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کو روک دیتی ہے۔ کم عمر دلہن عموماً تعلیم سے محروم، صحت کے شدید خطرات سے دوچار، اور معاشی طور پر مکمل انحصار کی زنجیر میں جکڑ دی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں غربت، لاعلمی اور عدم مساوات کی ایک نئی نسل جنم لیتی ہے—جسے دنیا نسلی غربت کے نام سے جانتی ہے۔
سائنس اور نفسیات بھی کم عمری کی شادی کے خلاف ایک مضبوط مقدمہ پیش کرتی ہیں۔ جدید نیورو سائنس کے مطابق انسانی دماغ—بالخصوص فیصلہ سازی، خطرات کو سمجھنے اور جذباتی توازن سے جڑے حصے—اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر کے درمیان مکمل طور پر نشوونما پاتے ہیں۔ کم عمر لڑکیاں نہ ذہنی طور پر ازدواجی ذمہ داریوں کے لیے تیار ہوتی ہیں، نہ جسمانی طور پر حمل اور زچگی کے خطرات اٹھانے کی سکت رکھتی ہیں۔ عالمی طبی تحقیقات بتاتی ہیں کہ کم عمر ماؤں میں زچگی کے دوران اموات، پیچیدگیوں، ڈپریشن اور بعد از صدمہ ذہنی امراض کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق بچپن میں مسلط کیا گیا رشتہ شخصیت کے فطری ارتقا کو منجمد کر دیتا ہے—جہاں خوف، خاموشی اور بے اختیاری معمول بن جاتی ہے۔
یہاں سوال مذہب کا نہیں، تعبیر کا ہے۔ دنیا کے کئی مسلم اکثریتی ممالک—مراکش، تیونس اور اردن—نے اسلامی اصولوں کی روشنی میں کم عمری کی شادی پر پابندیاں عائد کیں۔ ان معاشروں نے یہ موقف اپنایا کہ مذہب انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ اس کی قیمت پر روایت کو بچانے کے لیے۔ وہاں اجتہاد کو جمود پر ترجیح دی گئی، اور انسان کو رسم سے اوپر رکھا گیا۔
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں روایت کو سوال سے بالاتر اور قانون کو قابلِ مزاحمت سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی رہنما پارلیمان میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کرے کہ وہ قانون نہیں مانے گا، تو یہ پیغام صرف اپنے پیروکاروں کو نہیں جاتا، بلکہ پوری دنیا کو جاتا ہے: کہ یہاں قانون شخصیات کے تابع ہے، اور بچے نظریاتی و سیاسی جنگوں میں ڈھال کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔
کم عمری کی شادی دراصل ایک خاموش تشدد ہے۔ اس میں کوئی چیخ سنائی نہیں دیتی، کوئی خون نظر نہیں آتا—مگر ایک بچپن آہستہ آہستہ دفن ہو جاتا ہے۔ خواب، سوال اور امکانات ایک نکاح نامے کے نیچے دبا دیے جاتے ہیں، اور زندگی فیصلہ کرنے سے پہلے ہی گزار دی جاتی ہے۔
یہ بحث کسی ایک مذہبی جماعت یا فرد کے خلاف نہیں، بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ بچہ ایک مکمل انسان ہے—جسے فیصلوں سے پہلے وقت، تعلیم اور تحفظ درکار ہوتا ہے۔ عالمی معیار پر وہی معاشرے ترقی یافتہ کہلاتے ہیں جو بچوں کو مستقبل کی سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، نہ کہ روایت کی قربانی۔
ریاست کا کام لوگوں کے عقائد بدلنا نہیں، مگر بچوں کو نقصان سے بچانا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قانون اگر کمزوروں کو تحفظ نہ دے سکے تو وہ قانون نہیں رہتا، محض طاقتوروں کی سہولت بن جاتا ہے۔
تاریخ روایتوں کو نہیں، فیصلوں کو یاد رکھتی ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتی کہ ہم نے کیا مانا، وہ یہ پوچھتی ہے کہ ہم نے کس کا ساتھ دیا۔ جب ایک ریاست بچے کے تحفظ اور روایت کی خوشنودی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتی ہے، تو وہ دراصل اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ کم عمری کی شادی کے معاملے میں خاموشی غیرجانبداری نہیں، شراکت داری ہے۔ یہاں ہر تاخیر، ہر مصلحت اور ہر سمجھوتا ایک اور بچپن کو اندھیرے کے حوالے کر دیتا ہے۔ دنیا آگے بڑھ چکی ہے—اب یہ سوال باقی نہیں رہا کہ قانون کیا کہتا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم کس کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں، اور کس کے ساتھ کھڑے ہونے کی جرات ۔
تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetails










