• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ، معیشت کے استحکام کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان

webmaster by webmaster
مارچ 10, 2026
in قومی/ بین الاقوامی خبریں
0
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ،  معیشت کے استحکام  کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان

اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال کے پیش نظر معیشت کے استحکام کیلئے کفایت شعاری، عوامی ریلیف ، سادگی اور توانائی کی بچت کیلئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اشرافیہ کیلئے مراعات کو محدود کرتے ہوئے سرکاری اخراجات میں کمی و بچت کی جا ئے گی ۔ پیر کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے خطے کو درپیش صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لیا اور حکومتی فیصلوں کا اعلان کیا جن میں دو ماہ کیلئے سرکاری گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں 50 فیصد فی الفور کٹوتی ،سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی ، کابینہ ارکان ، وزراء ، مشیران ،معاونین خصوصی کی تنخواہیں روکنے ، ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ، گریڈ بیس سے اوپر کے افسران جنکی تنخواہ تین لاکھ سے زائد ہے کہ دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی ، سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی، ملکی مفاد کے لئے ناگزیر وجہ کے سوا وزیراعظم،گورنرز،وزراء اعلیٰ ،وفاقی و صوبائی وزراء،مشیران ،معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرونی دوروں پر پابندی ، سرکاری تقاریب پر اخراجات کم کرنے، 50 فیصد سٹاف کے ورک فرام ہوم ، سرکاری دفاتر پانچ کی بجائے چار دن کھولنے، سکولوں میں دو ہفتے کی تعطیلات ، اعلیٰ تعلیم کیلئے آن لائن کلاسز سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج میں خطے کو در پیش ایک نہایت سنجیدہ اور پر خطر صورتحال کے بارے میں قوم سے مخاطب ہوں۔انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پورا خطہ، بشمول ایران اور مشرق وسطیٰ اس وقت ایک شدید جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہیں۔

معصوم انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان اس کشیدہ صورتحال میں حتی المقدور کوشش کر رہا ہے کہ معاملات تدبر اور سفارت کاری کے ذریعے حل ہوں۔دوسری جانب، ہمیں اپنی مغربی سرحدوں پر بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی جانب سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کے جواب میں ہماری جری افواج وطن عزیز کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ، اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کا مقدس فریضہ انتہائی جانفشانی کے ساتھ ادا کر رہی ہیں، جس پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایران میں ہونے والے اسرائیلی بہیمانہ حملوں کے نتیجے میں آیت اللہ سید علی خامنائی ، اُن کے اہلِ خانہ اور معصوم ایرانی بھائیوں اور بہنوں کی شہادت پر حکومت پاکستان اور عوام نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ہم ان حملوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان، اپنے برادر مسلم ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، اردن، لبنان، عمان، ترکیہ اور آذربائیجان پر ہونے والے حملوں کی بھی شدید مذمت اور جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتا ہے۔ ان حملوں سے پورے خطے کے امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان مشکل حالات میں میری ان برادر ممالک کے سربراہان سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ اور میں نے پوری قوم کی جانب سے ان ممالک کے عوام اور قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے، اور یہ بات یاد رہے کہ ہم ان برادر ر مسلم ممالک کی سلامتی اور استحکام کو اپنی سلامتی اور استحکام کا حصہ سمجھتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی دنیا میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران، چند ہی دنوں میں دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت جو چند روز پہلے تقریباً 60 ڈالر فی بیرل تھی ، وہ اچانک بڑھ کر 100 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اگر حالات خدانخواستہ یونہی بگڑتے رہے تو یہ قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی ، جس سے عام آدمی کی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوگی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری معیشت ، صنعتوں، ٹرانسپورٹیشن اور روزمرہ زندگی کا زیادہ تر انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس کی فراہمی پر ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے معیشت کے استحکام کے لئے نہایت اہم اور مشکل فیصلے کئے ۔ایسے انتظامی اور معاشی فیصلے، جو ہر گز آسان نہیں تھے۔۔ ہم نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرائیں تا کہ ملک کو در پیش تو انائی بحران کو کم کیا جا سکے تاہم ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔

جب دنیا میں کشیدگی بڑھتی ہے یا خطے میں جنگ جنم لیتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست توانائی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ اسی طرح کے مشکل حالات آج ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر پیدا ہو چکے ہیں۔ جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ لیکن میں قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مشکل ترین عالمی حالات کے باوجود پاکستان کی معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کو حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ کرنا پڑا، وہ بلا شبہ ایک انتہائی مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا جانے والا فیصلہ تھا۔ جس کی منظوری دیتے ہوئے میرا دل اور دماغ ایک کشمکش سے گزرا۔ دماغ کہتا تھا ، قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور دل کہتا تھا، کہیں غریب نہ پس جائے ۔ مجھے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس شدید مشکل میں سے ہم نے کوشش کر کے درمیانی راستہ نکالا۔ تا کہ عوام کے اوپر بہت زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ قوم گواہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کو کس قدر مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ملک کو دیوالیہ ہونے کے خطرات کا سامنا تھا۔ ان مشکل ترین حالات میں ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈال کر ریاست اور معیشت کے مفاد کو ترجیح دی۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے آپ نے مشکل فیصلوں میں ہمارا بھر پور ساتھ دیا اور صبر و حوصلے کا مظاہرہ کیا۔

اس طرح مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ تقریباً نصف ہو چکا ہے، روپے کی قدر مستحکم ہے اور بجلی کی قیمتوں میں بھی بڑی محنت سے کمی لائی گئی ہے۔۔ یہ کامیابی کسی فرد واحد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی دعاؤں اور مشترکہ جدو جہد کا ثمر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسی احساس ذمہ داری کے تحت، میں آج ایک مرتبہ پھر یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے، مجھے عام آدمی کی تکلیف کا اور عام آدمی کے درد کا پورا احساس ہے۔ میں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوں کہ جب گھر کے بزرگوں کی دوائی کے لئے پیسے کم پڑ جائیں، یا بچوں کی تعلیم اور فیس کی فکر دل پر بوجھ بن جائے ، تو ایک باپ، ایک ماں اور ایک بیٹے کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ یہ وہ کرب ہے جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، مگر حکومت کی بھر پور کوشش ہو گی کہ تیل کی قیمتوں میں آئیند ہ اضافے کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے، اس مقصد کے لیے دن رات مشاورت اور کوششیں جاری ہیں اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی اشرافیہ اور صاحب ثروت طبقات سے خصوصی طور پر مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جب بھی قوموں پر کڑا وقت آتا ہے تو اس قوم کے صاحب حیثیت افراد، جن کے دلوں میں خوف خدا ہوتا ہے

سب سے پہلے آگے بڑھ کر دکھی انسانیت کا ہاتھ تھام لیتے ہیں اور ہماری تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ ہمارے غریب، محنت کش، مزدور اور وہ تمام لوگ جو دن رات پسینہ بہا کر رزق حلال کماتے ہیں، انہوں نے ہمیشہ وطن کے لیے آگے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں لیکن اب وقت آچکا ہے کہ اشرافیہ آگے بڑھے اور وہ کردار ادا کرے جو ایک ذمہ دار معاشرے کے صاحب حیثیت طبقے کو دل میں خوف خدا رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔ اگر فٹ پاتھ پر سویا ہوا مزدور بھی اشرافیہ کا ضمیر نہیں جگا سکتا تو پھر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی تناظر میں آج اجلاس منقعد ہوا جس میں وفاقی وصوبائی حکومتوں کی جانب سے بچت، عوامی ریلیف، کفایت شعاری اور حکومتی معاملات میں سادگی اختیار کرنے کے لیے متفقہ طور پر اہم فیصلے کیے گئے، جس کے تحت آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اس میں ایمبولینسز اور عوامی استعمال والی بسیں وغیرہ شامل نہیں ہیں۔ آئندہ دو ماہ کیلئے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ کے ارکان، وزراء مشیران اور معاونین خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے، انکی تنخواہوں کی رقم کو عوامی ریلیف کیلئے خرچ کیا جائے گا۔ اسکے علاوہ ا رکان پارلیمینٹ کی تنخواہوں میں سے بھی 25 فیصد کٹوتی کر دی جائے گی۔ بیس گریڈ اور اس سے اوپر کے ایسے افسران جنکی تنخواہ تین لاکھ سے زائد ہے، انکی دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلئے استعمال کی جائے گی ۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ کیے جانے والے اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے. سرکاری محکموں میں گاڑیوں ، فرنیچر ، اے سی اور دیگر اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، سوائے ان دوروں کے جو ملکی مفاد کے لیے ناگزیر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی تا کہ ایندھن کی زیادہ سے زیادہ بچت ممکن ہو سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اخراجات میں کمی کیلئے سیمنار اور کانفرنسز ہوٹلوں کی بجائے سرکاری جگہوں پر منعقد کئے جائیں گے جس کی منظوری ایک خصوصی کمیٹی دے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں ایندھن و توانائی کی بچت کیلئے سرکاری ونجی شعبوں کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں جس کے تحت سرکاری ونجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد اسٹاف ورک فرام ہوم کرے گا جبکہ صرف 50 فیصد ہی دفتر آئے گا۔ ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے، تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دی جا رہی ہے۔ اس کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہو گا۔

صنعت اور زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتہ کی ایک اضافی چھٹی والے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔فوری طور پر تمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جا رہی ہیں اور ہائر ایجوکیشن کے تمام اداروں میں فوری طور پر آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ تیل کی بچت کو یقینی بنانے کیلئے ہائی ویز پر حد رفتار 80 جبکہ موٹر ویز پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی ہے۔ وزیر اعظم نے قوم بلخصوص صاحب ثروت افراد اور کاروباری طبقے سے اپیل کی کہ وہ اس قومی کوشش میں اپنا بھر پور حصہ ڈالیں۔ انہوں نے مفاد پرست عناصر، ذخیرہ اندوزوں اور پیرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کیا کہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا۔ اس سلسلے میں تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح پاکستان کی خوشحالی، استحکام، ترقی اور تحفظ ہے۔ اس قوم نے بے شمار آزمائشوں کا سامنا کیا ہے، مگر ہر بار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، باہمی اتحاد اور افواج پاکستان کی بہادری و قربانیوں کی بدولت سرخرو ہوئی ہے۔ آج عالمی منظر نامے کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ طاقت کے توازن بدل رہے ہیں اور نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ اس نازک ترین وقت میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سے اتحاد، اخوت اور احساس ذمہ داری کی جتنی ضرورت آج ہے شاید پہلے کبھی بھی ۔

وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ رمضان المبارک کا یہ مبارک مہینہ ہمیں صبر، اخوت اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ ایک مضبوط اور باوقار قوم وہ ہوتی ہے جو مشکل وقت میں تدبر ، حکمت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور شامل حال ہوتی ہے۔ انہوں نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس شعر سے تقریر کا اختتام کیا کہ "آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا”

سورس ۔اے پی پی

 

Tags: National News
Previous Post

معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمی بٹ کا دورہ لیہ

Next Post

ضلع لیہ میں ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی جانب سے پاک فوج سے گرینڈ اظہارِ یکجہتی ریلیاں

Next Post
ضلع لیہ میں ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی جانب سے پاک فوج سے  گرینڈ اظہارِ یکجہتی  ریلیاں

ضلع لیہ میں ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی جانب سے پاک فوج سے گرینڈ اظہارِ یکجہتی ریلیاں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ،  معیشت کے استحکام  کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب ، معیشت کے استحکام کے لئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان

by webmaster
مارچ 10, 2026
0

اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال...

Read moreDetails
امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: انا للہ و انا الیہ راجعون

امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: انا للہ و انا الیہ راجعون

مارچ 1, 2026
ملتان ۔پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیرِ اہتمام پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی افسران کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ  کا انعقاد

ملتان ۔پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیرِ اہتمام پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی افسران کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

فروری 21, 2026
عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی

عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی

فروری 13, 2026
مریم نواز نے لاہور ڈویژن کا اجلاس بلالیا، آج پھر ریلی نکالیں گی

پنجاب بھر میں کھیلوں کے حوالے سے بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز

فروری 11, 2026
اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال کے پیش نظر معیشت کے استحکام کیلئے کفایت شعاری، عوامی ریلیف ، سادگی اور توانائی کی بچت کیلئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اشرافیہ کیلئے مراعات کو محدود کرتے ہوئے سرکاری اخراجات میں کمی و بچت کی جا ئے گی ۔ پیر کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے خطے کو درپیش صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لیا اور حکومتی فیصلوں کا اعلان کیا جن میں دو ماہ کیلئے سرکاری گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں 50 فیصد فی الفور کٹوتی ،سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی ، کابینہ ارکان ، وزراء ، مشیران ،معاونین خصوصی کی تنخواہیں روکنے ، ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ، گریڈ بیس سے اوپر کے افسران جنکی تنخواہ تین لاکھ سے زائد ہے کہ دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی ، سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی، ملکی مفاد کے لئے ناگزیر وجہ کے سوا وزیراعظم،گورنرز،وزراء اعلیٰ ،وفاقی و صوبائی وزراء،مشیران ،معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرونی دوروں پر پابندی ، سرکاری تقاریب پر اخراجات کم کرنے، 50 فیصد سٹاف کے ورک فرام ہوم ، سرکاری دفاتر پانچ کی بجائے چار دن کھولنے، سکولوں میں دو ہفتے کی تعطیلات ، اعلیٰ تعلیم کیلئے آن لائن کلاسز سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج میں خطے کو در پیش ایک نہایت سنجیدہ اور پر خطر صورتحال کے بارے میں قوم سے مخاطب ہوں۔انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پورا خطہ، بشمول ایران اور مشرق وسطیٰ اس وقت ایک شدید جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہیں۔ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان اس کشیدہ صورتحال میں حتی المقدور کوشش کر رہا ہے کہ معاملات تدبر اور سفارت کاری کے ذریعے حل ہوں۔دوسری جانب، ہمیں اپنی مغربی سرحدوں پر بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی جانب سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کے جواب میں ہماری جری افواج وطن عزیز کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ، اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کا مقدس فریضہ انتہائی جانفشانی کے ساتھ ادا کر رہی ہیں، جس پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایران میں ہونے والے اسرائیلی بہیمانہ حملوں کے نتیجے میں آیت اللہ سید علی خامنائی ، اُن کے اہلِ خانہ اور معصوم ایرانی بھائیوں اور بہنوں کی شہادت پر حکومت پاکستان اور عوام نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ہم ان حملوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان، اپنے برادر مسلم ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، اردن، لبنان، عمان، ترکیہ اور آذربائیجان پر ہونے والے حملوں کی بھی شدید مذمت اور جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتا ہے۔ ان حملوں سے پورے خطے کے امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان مشکل حالات میں میری ان برادر ممالک کے سربراہان سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ اور میں نے پوری قوم کی جانب سے ان ممالک کے عوام اور قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے، اور یہ بات یاد رہے کہ ہم ان برادر ر مسلم ممالک کی سلامتی اور استحکام کو اپنی سلامتی اور استحکام کا حصہ سمجھتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی دنیا میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران، چند ہی دنوں میں دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت جو چند روز پہلے تقریباً 60 ڈالر فی بیرل تھی ، وہ اچانک بڑھ کر 100 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اگر حالات خدانخواستہ یونہی بگڑتے رہے تو یہ قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی ، جس سے عام آدمی کی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوگی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری معیشت ، صنعتوں، ٹرانسپورٹیشن اور روزمرہ زندگی کا زیادہ تر انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس کی فراہمی پر ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے معیشت کے استحکام کے لئے نہایت اہم اور مشکل فیصلے کئے ۔ایسے انتظامی اور معاشی فیصلے، جو ہر گز آسان نہیں تھے۔۔ ہم نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرائیں تا کہ ملک کو در پیش تو انائی بحران کو کم کیا جا سکے تاہم ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔ جب دنیا میں کشیدگی بڑھتی ہے یا خطے میں جنگ جنم لیتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست توانائی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ اسی طرح کے مشکل حالات آج ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر پیدا ہو چکے ہیں۔ جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ لیکن میں قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مشکل ترین عالمی حالات کے باوجود پاکستان کی معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کو حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ کرنا پڑا، وہ بلا شبہ ایک انتہائی مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا جانے والا فیصلہ تھا۔ جس کی منظوری دیتے ہوئے میرا دل اور دماغ ایک کشمکش سے گزرا۔ دماغ کہتا تھا ، قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور دل کہتا تھا، کہیں غریب نہ پس جائے ۔ مجھے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس شدید مشکل میں سے ہم نے کوشش کر کے درمیانی راستہ نکالا۔ تا کہ عوام کے اوپر بہت زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ قوم گواہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کو کس قدر مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ملک کو دیوالیہ ہونے کے خطرات کا سامنا تھا۔ ان مشکل ترین حالات میں ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈال کر ریاست اور معیشت کے مفاد کو ترجیح دی۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے آپ نے مشکل فیصلوں میں ہمارا بھر پور ساتھ دیا اور صبر و حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ تقریباً نصف ہو چکا ہے، روپے کی قدر مستحکم ہے اور بجلی کی قیمتوں میں بھی بڑی محنت سے کمی لائی گئی ہے۔۔ یہ کامیابی کسی فرد واحد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی دعاؤں اور مشترکہ جدو جہد کا ثمر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسی احساس ذمہ داری کے تحت، میں آج ایک مرتبہ پھر یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے، مجھے عام آدمی کی تکلیف کا اور عام آدمی کے درد کا پورا احساس ہے۔ میں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوں کہ جب گھر کے بزرگوں کی دوائی کے لئے پیسے کم پڑ جائیں، یا بچوں کی تعلیم اور فیس کی فکر دل پر بوجھ بن جائے ، تو ایک باپ، ایک ماں اور ایک بیٹے کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ یہ وہ کرب ہے جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، مگر حکومت کی بھر پور کوشش ہو گی کہ تیل کی قیمتوں میں آئیند ہ اضافے کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے، اس مقصد کے لیے دن رات مشاورت اور کوششیں جاری ہیں اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی اشرافیہ اور صاحب ثروت طبقات سے خصوصی طور پر مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جب بھی قوموں پر کڑا وقت آتا ہے تو اس قوم کے صاحب حیثیت افراد، جن کے دلوں میں خوف خدا ہوتا ہے سب سے پہلے آگے بڑھ کر دکھی انسانیت کا ہاتھ تھام لیتے ہیں اور ہماری تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ ہمارے غریب، محنت کش، مزدور اور وہ تمام لوگ جو دن رات پسینہ بہا کر رزق حلال کماتے ہیں، انہوں نے ہمیشہ وطن کے لیے آگے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں لیکن اب وقت آچکا ہے کہ اشرافیہ آگے بڑھے اور وہ کردار ادا کرے جو ایک ذمہ دار معاشرے کے صاحب حیثیت طبقے کو دل میں خوف خدا رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔ اگر فٹ پاتھ پر سویا ہوا مزدور بھی اشرافیہ کا ضمیر نہیں جگا سکتا تو پھر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی تناظر میں آج اجلاس منقعد ہوا جس میں وفاقی وصوبائی حکومتوں کی جانب سے بچت، عوامی ریلیف، کفایت شعاری اور حکومتی معاملات میں سادگی اختیار کرنے کے لیے متفقہ طور پر اہم فیصلے کیے گئے، جس کے تحت آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اس میں ایمبولینسز اور عوامی استعمال والی بسیں وغیرہ شامل نہیں ہیں۔ آئندہ دو ماہ کیلئے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ کے ارکان، وزراء مشیران اور معاونین خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے، انکی تنخواہوں کی رقم کو عوامی ریلیف کیلئے خرچ کیا جائے گا۔ اسکے علاوہ ا رکان پارلیمینٹ کی تنخواہوں میں سے بھی 25 فیصد کٹوتی کر دی جائے گی۔ بیس گریڈ اور اس سے اوپر کے ایسے افسران جنکی تنخواہ تین لاکھ سے زائد ہے، انکی دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلئے استعمال کی جائے گی ۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ کیے جانے والے اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے. سرکاری محکموں میں گاڑیوں ، فرنیچر ، اے سی اور دیگر اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، سوائے ان دوروں کے جو ملکی مفاد کے لیے ناگزیر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی تا کہ ایندھن کی زیادہ سے زیادہ بچت ممکن ہو سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اخراجات میں کمی کیلئے سیمنار اور کانفرنسز ہوٹلوں کی بجائے سرکاری جگہوں پر منعقد کئے جائیں گے جس کی منظوری ایک خصوصی کمیٹی دے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں ایندھن و توانائی کی بچت کیلئے سرکاری ونجی شعبوں کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں جس کے تحت سرکاری ونجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد اسٹاف ورک فرام ہوم کرے گا جبکہ صرف 50 فیصد ہی دفتر آئے گا۔ ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے، تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دی جا رہی ہے۔ اس کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہو گا۔ صنعت اور زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتہ کی ایک اضافی چھٹی والے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔فوری طور پر تمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جا رہی ہیں اور ہائر ایجوکیشن کے تمام اداروں میں فوری طور پر آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ تیل کی بچت کو یقینی بنانے کیلئے ہائی ویز پر حد رفتار 80 جبکہ موٹر ویز پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی ہے۔ وزیر اعظم نے قوم بلخصوص صاحب ثروت افراد اور کاروباری طبقے سے اپیل کی کہ وہ اس قومی کوشش میں اپنا بھر پور حصہ ڈالیں۔ انہوں نے مفاد پرست عناصر، ذخیرہ اندوزوں اور پیرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کیا کہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا۔ اس سلسلے میں تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح پاکستان کی خوشحالی، استحکام، ترقی اور تحفظ ہے۔ اس قوم نے بے شمار آزمائشوں کا سامنا کیا ہے، مگر ہر بار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، باہمی اتحاد اور افواج پاکستان کی بہادری و قربانیوں کی بدولت سرخرو ہوئی ہے۔ آج عالمی منظر نامے کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ طاقت کے توازن بدل رہے ہیں اور نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ اس نازک ترین وقت میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سے اتحاد، اخوت اور احساس ذمہ داری کی جتنی ضرورت آج ہے شاید پہلے کبھی بھی ۔ وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ رمضان المبارک کا یہ مبارک مہینہ ہمیں صبر، اخوت اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ ایک مضبوط اور باوقار قوم وہ ہوتی ہے جو مشکل وقت میں تدبر ، حکمت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور شامل حال ہوتی ہے۔ انہوں نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس شعر سے تقریر کا اختتام کیا کہ "آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا” سورس ۔اے پی پی  
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.