دن بہ دن بڑی تیزی سے بڑھتی ہوئی امراض کی اصل وجہ صفائی، سیوریج کا مسئلہ اور پانی ہے۔ کوٹ...
Read moreDetailsتاریخ لیہ مےں کاروباری برادری کی شناخت اور تجارتی اہمےت کے پےش نظر نادرا کے طرز پر ڈےجیٹل تاجر کارڈ...
Read moreDetailsکوہ سلیمان سے تعلق رکھنے والے دھیمے لہجے کے مالک اور کم گو سردار عثمان احمد خان بزدار نے جب...
Read moreDetailsپاکستان میں طبقاتی نظام روز اول سے ہی عام آدمی کے لے مسلسل استحصال کا باعث بنا رہا،...
Read moreDetailsواقعہ کچھ یوں ہے کہ سفر کرتی ہوئی ایک خاتون نے گاڑی روک کر بوڑھے غریب سے پوْچھا . ابلا...
Read moreDetailsعورت اور مرد زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں ۔ایک بھی پہیے میں نقص پیدا ہو جائے تو گاڑی...
Read moreDetailsپنجاب میں آج کل ڈینگی کا بھوت ناچ رہا ہے ، اس وقت تک ایک محتاط اندازے کے مطا بق...
Read moreDetailsملک مقبول الہی جوکہ لیہ کے تحقیقاتی رپوٹنگ کا ایک بڑا نام ہیں ، انہوں نے رات جب فون پر...
Read moreDetailsآٹھ سالہ محمد فیضان جس کی لاش انڈسٹریل اسٹیٹ سے ملی وہ ان چار تازہ ترین بچوں میں سے تھا...
Read moreDetailsیہ شا ید 80 کے عشرے کا ذکر ہے جب میں کلین شیو تھا اور عمر شا کر کی داڑھی...
Read moreDetailsلاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...
Read moreDetails
سعد رفیق مسلم لیگ ن کے بڑے متحرک اور فعال رہنماء ہیں ، سعد رفیق کا شمار شریف فیملی کے انتہائی با اعتماد سا تھیوں میں ہو تا ہے ،مسلم لیگ ن کے ہر دور حکومت میں وزیر رہے ، سا بقہ دور حکومت میں بھی وفاقی وزیر ریلوے تھے ، ہو نے والے الیکشن میں اپنے آ بائی ھلقہ سے عمران خان سے ہار گئے ۔ لیکن بعد میں عمران خان کے نششت چھوڑنے پر دوباہ ضمنی الیکشن لڑا اور پی ٹی آ ئی کے حکو متی امیدوار کے مقابلہ میں ممبر قو می اسمبلی منتخب ہو گئے اور کئی مہینوں سے خواجہ بردران پیراگون سکینڈل میں نیب کے زیر حراست ہیں
سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق شہید میدان سیاست اور سماجی خدمات کے حوالے سے ایک بڑا نام ہے گو ان کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا لیکن حق گو ئی بے باکی میں اپنے وقت کے شہہ سوار تھے
خواجہ رفیق شہید ہمیشہ سر مایہ داروں ، استحصالی جا گیرداروں اور استبدادی آمرانہ حکو متوں کے خلاف سینہ سپر رہے ، خواجہ رفیق شہید نے نے ہمیشہ بنیادی آزادیوں اور عوامی جمہوری حقوق کے لئے آواز بلند کی ۔
1972 کے پی پی پی دور حکومت میں ڈیرہ غازیخان میں ڈاکٹر نذیر شہید کے قتل کے بعد لا ہور خواجہ رفیق شہید کی شہادت بڑا سیاسی قتل تھا ، خواجہ رفیق شہید کو حکومت مخالف جلوس میں گو لی ماری گئی ۔ خواجہ رفیق شہید کے قتل کی ایف آ ئی آرملک غلام مصطفی کھر ، میاں افتخار تاری سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج کی گئی لیکن گواہوں کے منحرف ہو جانے کے سبب سبھی نامزد ملزمان بری ہو گئے ۔
والد کی شہادت کے وقت سعد رفیق سات سال کے تھے ۔ غم سے نڈھال والدہ بیگم فرحت رفیق نے کہا کہ وہ کیس کی پیروی نہیں کر سکتیں میں اپنے شو ہر کا مقدمہ اللہ کی عدالت میں دا ئر کر تی ہوں ۔ اللہ ہی بڑا منصف ہے اور وہی مجھے اور میرے معصوم بچوں کو انصاف دے گا ۔ بیگم فرحت رفیق نے انتہائی صبر اور عزم سے اپنے بچوں کی تر بیت کی اور یہ اسی عظیم ماں کی تر بیت کا ثمر ہے کہ آج خواجہ رفیق شہید کے دونوں بیٹے لا ہور کی پہچان ہیں ، سعد رفیق سے سیاسی و نظریاتی اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن وطن سے محبت خواجہ رفیق شہید کے بیٹوں کے لہو میں شا مل ہے اور ان سے یہ اعزاز کو ئی نہیں چھین سکتا
