• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

بستی ملوک کا 7 سالہ اورنگزیب اور چوک اعظم کا کمسن حوالاتی ! تحریر ..انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جولائی 22, 2026
in کالم
0
بستی ملوک کا 7 سالہ اورنگزیب اور چوک اعظم کا کمسن حوالاتی ! تحریر ..انجم صحرائی

بستی ملوک ملتان کے 7 سالہ اورنگزیب کو محلے کی لڑائی میں نامزد ملزم قرار دے کر مجرمانہ الزامات کے تحت مقدمے میں نامزد کیا گیا اور اس "مطلوب ترین” ملزم کی فوری گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ ملزم کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں قانون کی زنجیریں (ہتھکڑیاں) پہنا کر اسے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ مگر پولیس کی اس نام نہاد "بروقتی” سے اختلاف کرتے ہوئے منصف نے کم عمر بچے کو رہا کرنے اور پرچے کے اخراج کا حکم دے دیا، اور یوں روتی ماں کو تسکین ہوئی۔ اب آگے ان مظلوم ماں بیٹے کے ساتھ انصاف ہوگا یا نہیں؟ جھوٹی اور غیر قانونی ایف آئی آر درج کرنے والوں سے جوابدہی ہوگی یا نہیں؟ اس بارے میں وقت ہی بتائے گا۔ سوشل میڈیا پر روتی ماں اور معصوم بچے کی ہتھکڑی لگی تصویر نے دل بہت دکھی کر دیا۔
بستی ملوک کے ہتھکڑی لگے 7 سالہ اورنگ زیب نے مجھے عشروں قبل تھانہ چوک اعظم کے ایک معصوم حوالاتی کی یاد دلا دی۔۔
یہ ذکر ہے اس زمانے کا جب آتش جوان تھا اور چغل خور سوشل میڈیا نے ابھی جنم نہیں لیا تھا۔ تب پرنٹ میڈیا زیادہ متحرک، فعال اور بااعتماد تھا اور اخبارات میں چھپنے والی چند سطری خبر بھی قابلِ مواخذہ ہوتی تھی۔ صحافت بھی باوقار تھی اور صحافی بھی قابلِ اعتماد۔مجھے یاد ہے ان دنوں شاید موبائل تو تھا مگر ٹچ اسکرین کے بغیر۔ اس لیے فیلڈ میں تصویریں بنانے والا پریس فوٹوگرافر، خبریں تلاش کرنے اور لکھنے والے رپورٹر سے زیادہ بااثر ہوتا تھا۔”
بات ہو رہی تھی تھانہ چوک اعظم کے معصوم حوالاتی کی۔ صبح صبح ہمیں پتہ چلا کہ پولیس تھانہ چوک اعظم نے رات سے کسی بچے کو بٹھایا ہوا ہے۔ اس کی باقاعدہ گرفتاری (بندی) ڈالے بغیر ہی اسے رکھا گیا تھا۔ ہم نے ملک مقبول الٰہی کو ساتھ لیا، جو ان دنوں بھی روزنامہ ‘خبریں’ سے ہی منسلک تھے، اور تھانہ چوک اعظم پہنچ گئے۔ان دنوں چوک اعظم تھانہ، لیہ روڈ پر واقع پرانی بلڈنگ میں ہوا کرتا تھا۔ تھانے کے انچارج ایک سینئر پولیس آفیسر تھے۔ ان کا نام تو یاد ہے مگر اب چونکہ وہ یقیناً ریٹائرڈ ہو چکے ہوں گے، اس لیے اچھا نہیں لگتا کہ ان کا نام لکھا جائے، اور نام لکھنا ضروری بھی نہیں کیونکہ اہمیت تو منصب کی ہوتی ہے، نام کی نہیں۔۔
لیہ سے چوک اعظم کا سفر پون گھنٹے کا تو ہے۔ جب ہم تھانے پہنچے تو صبح کے سات یا آٹھ بجے کا وقت ہو گا۔ تھانے کا گیٹ کھلا تھا۔ ہمیں سامنے صحن میں کوئی نظر نہیں آیا، سوائے حوالات میں قید ایک چھوٹے سے معصوم بچے کے۔دل تو چاہا کہ حوالاتی سے ملاقات کر لی جائے، مگر خواہش کے باوجود ہم نے حوالاتی سے ملنے کی بجائے محرر کے کمرے میں جا کر اپنی آمد اور مقصد کی اجازت حاصل کرنا ضروری سمجھا۔ طریقہ کار بھی یہی ہے کہ اگر آپ کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں اپنے صحافتی فرض کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں، تو متعلقہ آفس کو ضرور انفارم کریں۔ چھوٹے سے کمرے میں ڈیوٹی محرر موجود تھے۔ استفسار پر پتا چلا کہ تھانیدار صاحب رات کو گشت پر تھے، اس لیے ابھی آفس نہیں آئے۔
ہم نے پوچھا کہ حوالات میں جو ملزم ہے، اسے کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس کی ایف آئی آر (FIR) کا نمبر کیا ہے؟ پتا چلا کہ ملزم کے خلاف نہ کوئی درخواست تھی اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر۔ مطلب تھانے والوں نے اس معصوم کو ناجائز حوالات میں ڈالا ہوا تھا۔ہم نے محرر صاحب سے استفسار کیا کہ اس بچے کو کس نے بغیر روانگی (یا بلاموجب) حوالات میں بند کیا ہوا ہے؟ ان کا جواب نفی میں تھا، انہوں نے کہا، ‘مجھے نہیں پتا اسے کون لایا ہے۔’
‘یہ کیس تو حبسِ بے جا کا ہے سر جی۔’ تصدیق ہو جانے کے بعد ہم نے محرر صاحب سے گزارش کی۔یہ کہہ کر ہم محبوس بچے سے ملاقات کے لیے آفس سے باہر نکل آئے۔ بچے سے پوچھا کہ اسے کون یہاں لایا ہے؟ ‘انکل سپاہی لائے تھے،’ بچے کا جواب تھا۔ اسے بھی اس مہربان کے نام کا پتا نہیں تھا۔
ہماری ملاقات جاری ہی تھی کہ محرر صاحب نے آکر ہمیں بتایا، ‘ایس ایچ او صاحب دفتر میں آپ کے منتظر ہیں۔’ چائے بسکٹ کے ساتھ صاحب نے ہماری ساری بات سنی۔ بات سننے کے بعد، معصوم بچے کو اندر (حوالات) کرنے والے نامعلوم اہلکار کو بھاری ….. نکالتے ہوئے، انہوں نے بچے کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ بچے کو بھی چائے پلائی گئی اور بسکٹ کھلائے گئے۔
اگلے دن یہ خبر اخبارات میں نمایاں تھی اور اس پر ایس پی آفس نے نوٹس بھی لے لیا۔
اب بستی ملوک کے 7 سالہ بے گناہ اورنگزیب کو ‘مہمان’ بنانے اور ہتھکڑی لگانے والے مہربانوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ اس کا پتا چلنا ابھی باقی ہے۔عام آدمی کو ہمیشہ پولیس کی طرف سے بروقت کارروائی نہ ہونے اور بروقت سہلِ انصاف نہ ملنے کا گلہ ہوتا ہے… لیکن اورنگزیب کیس نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔ پولیس اورنگزیب جیسے قانون شکنوں کے لیے ہر دم تیار، ہر دم مستعد ہے , اب مسئلہ منصفوں کا ہے۔ کہتے ہیں انصاف اندھا ہوتا ہے، لیکن لگتا ہے اب منصف دیکھنے لگے ہیں…”

انجم صحرائی
مستقل کالم ۔۔ بلا مبالغہ

Post Views: 252
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

میرا خوبصورت لیّہ

Next Post

صبح پاکستان ، مستقل کالم ۔۔”بلا مبالغہ "

Next Post
صبح پاکستان ، مستقل کالم ۔۔”بلا مبالغہ "

صبح پاکستان ، مستقل کالم ۔۔"بلا مبالغہ "

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

آئین کے  آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں 6 ماہ کےلیے فوج تعینات
قومی/ بین الاقوامی خبریں

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں 6 ماہ کےلیے فوج تعینات

by webmaster
اگست 22, 2026
0

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...

Read moreDetails
دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

اگست 2, 2026
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
بستی ملوک ملتان کے 7 سالہ اورنگزیب کو محلے کی لڑائی میں نامزد ملزم قرار دے کر مجرمانہ الزامات کے تحت مقدمے میں نامزد کیا گیا اور اس "مطلوب ترین" ملزم کی فوری گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ ملزم کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں قانون کی زنجیریں (ہتھکڑیاں) پہنا کر اسے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ مگر پولیس کی اس نام نہاد "بروقتی" سے اختلاف کرتے ہوئے منصف نے کم عمر بچے کو رہا کرنے اور پرچے کے اخراج کا حکم دے دیا، اور یوں روتی ماں کو تسکین ہوئی۔ اب آگے ان مظلوم ماں بیٹے کے ساتھ انصاف ہوگا یا نہیں؟ جھوٹی اور غیر قانونی ایف آئی آر درج کرنے والوں سے جوابدہی ہوگی یا نہیں؟ اس بارے میں وقت ہی بتائے گا۔ سوشل میڈیا پر روتی ماں اور معصوم بچے کی ہتھکڑی لگی تصویر نے دل بہت دکھی کر دیا۔ بستی ملوک کے ہتھکڑی لگے 7 سالہ اورنگ زیب نے مجھے عشروں قبل تھانہ چوک اعظم کے ایک معصوم حوالاتی کی یاد دلا دی۔۔ یہ ذکر ہے اس زمانے کا جب آتش جوان تھا اور چغل خور سوشل میڈیا نے ابھی جنم نہیں لیا تھا۔ تب پرنٹ میڈیا زیادہ متحرک، فعال اور بااعتماد تھا اور اخبارات میں چھپنے والی چند سطری خبر بھی قابلِ مواخذہ ہوتی تھی۔ صحافت بھی باوقار تھی اور صحافی بھی قابلِ اعتماد۔مجھے یاد ہے ان دنوں شاید موبائل تو تھا مگر ٹچ اسکرین کے بغیر۔ اس لیے فیلڈ میں تصویریں بنانے والا پریس فوٹوگرافر، خبریں تلاش کرنے اور لکھنے والے رپورٹر سے زیادہ بااثر ہوتا تھا۔" بات ہو رہی تھی تھانہ چوک اعظم کے معصوم حوالاتی کی۔ صبح صبح ہمیں پتہ چلا کہ پولیس تھانہ چوک اعظم نے رات سے کسی بچے کو بٹھایا ہوا ہے۔ اس کی باقاعدہ گرفتاری (بندی) ڈالے بغیر ہی اسے رکھا گیا تھا۔ ہم نے ملک مقبول الٰہی کو ساتھ لیا، جو ان دنوں بھی روزنامہ 'خبریں' سے ہی منسلک تھے، اور تھانہ چوک اعظم پہنچ گئے۔ان دنوں چوک اعظم تھانہ، لیہ روڈ پر واقع پرانی بلڈنگ میں ہوا کرتا تھا۔ تھانے کے انچارج ایک سینئر پولیس آفیسر تھے۔ ان کا نام تو یاد ہے مگر اب چونکہ وہ یقیناً ریٹائرڈ ہو چکے ہوں گے، اس لیے اچھا نہیں لگتا کہ ان کا نام لکھا جائے، اور نام لکھنا ضروری بھی نہیں کیونکہ اہمیت تو منصب کی ہوتی ہے، نام کی نہیں۔۔ لیہ سے چوک اعظم کا سفر پون گھنٹے کا تو ہے۔ جب ہم تھانے پہنچے تو صبح کے سات یا آٹھ بجے کا وقت ہو گا۔ تھانے کا گیٹ کھلا تھا۔ ہمیں سامنے صحن میں کوئی نظر نہیں آیا، سوائے حوالات میں قید ایک چھوٹے سے معصوم بچے کے۔دل تو چاہا کہ حوالاتی سے ملاقات کر لی جائے، مگر خواہش کے باوجود ہم نے حوالاتی سے ملنے کی بجائے محرر کے کمرے میں جا کر اپنی آمد اور مقصد کی اجازت حاصل کرنا ضروری سمجھا۔ طریقہ کار بھی یہی ہے کہ اگر آپ کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں اپنے صحافتی فرض کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں، تو متعلقہ آفس کو ضرور انفارم کریں۔ چھوٹے سے کمرے میں ڈیوٹی محرر موجود تھے۔ استفسار پر پتا چلا کہ تھانیدار صاحب رات کو گشت پر تھے، اس لیے ابھی آفس نہیں آئے۔ ہم نے پوچھا کہ حوالات میں جو ملزم ہے، اسے کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس کی ایف آئی آر (FIR) کا نمبر کیا ہے؟ پتا چلا کہ ملزم کے خلاف نہ کوئی درخواست تھی اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر۔ مطلب تھانے والوں نے اس معصوم کو ناجائز حوالات میں ڈالا ہوا تھا۔ہم نے محرر صاحب سے استفسار کیا کہ اس بچے کو کس نے بغیر روانگی (یا بلاموجب) حوالات میں بند کیا ہوا ہے؟ ان کا جواب نفی میں تھا، انہوں نے کہا، 'مجھے نہیں پتا اسے کون لایا ہے۔' 'یہ کیس تو حبسِ بے جا کا ہے سر جی۔' تصدیق ہو جانے کے بعد ہم نے محرر صاحب سے گزارش کی۔یہ کہہ کر ہم محبوس بچے سے ملاقات کے لیے آفس سے باہر نکل آئے۔ بچے سے پوچھا کہ اسے کون یہاں لایا ہے؟ 'انکل سپاہی لائے تھے،' بچے کا جواب تھا۔ اسے بھی اس مہربان کے نام کا پتا نہیں تھا۔ ہماری ملاقات جاری ہی تھی کہ محرر صاحب نے آکر ہمیں بتایا، 'ایس ایچ او صاحب دفتر میں آپ کے منتظر ہیں۔' چائے بسکٹ کے ساتھ صاحب نے ہماری ساری بات سنی۔ بات سننے کے بعد، معصوم بچے کو اندر (حوالات) کرنے والے نامعلوم اہلکار کو بھاری ..... نکالتے ہوئے، انہوں نے بچے کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ بچے کو بھی چائے پلائی گئی اور بسکٹ کھلائے گئے۔ اگلے دن یہ خبر اخبارات میں نمایاں تھی اور اس پر ایس پی آفس نے نوٹس بھی لے لیا۔ اب بستی ملوک کے 7 سالہ بے گناہ اورنگزیب کو 'مہمان' بنانے اور ہتھکڑی لگانے والے مہربانوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ اس کا پتا چلنا ابھی باقی ہے۔عام آدمی کو ہمیشہ پولیس کی طرف سے بروقت کارروائی نہ ہونے اور بروقت سہلِ انصاف نہ ملنے کا گلہ ہوتا ہے... لیکن اورنگزیب کیس نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔ پولیس اورنگزیب جیسے قانون شکنوں کے لیے ہر دم تیار، ہر دم مستعد ہے , اب مسئلہ منصفوں کا ہے۔ کہتے ہیں انصاف اندھا ہوتا ہے، لیکن لگتا ہے اب منصف دیکھنے لگے ہیں..."

انجم صحرائی مستقل کالم ۔۔ بلا مبالغہ

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.