• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

سدی اور شودی ! تحریر ۔ ریاض الحق بھٹی

webmaster by webmaster
اگست 2, 2026
in کالم
0
سوچ کر بویا کرو ۔۔۔  تحریر ۔ ریاض الحق بھٹی

یہ حالات کا احسان عظیم ہے کہ عوام الناس حالت نسیان میں ہیں اور خواص حالت کھسیان میں، دونوں اپنی اپنی جگہ پر وقت کاٹ رہے ہیں نہ ہی کوئی شکوہ اور نہ ہی کوئی شکایت کہ کچھ کہیں تو کس سے اور اگر کہیں بھی تو کیا فائدہ،،، ہم احساس سود و زیاں سے بہت آگے نکل گئے ہیں جس کی بنیاد پر یہ عظیم الشان ریوڑ، فریب کی ریوڑیاں کھاتا ہوا ان دیکھی منزل کی جانب رواں دواں ہے،،،
آئیے چند لمحوں کے لیے کیفیت نسیان و کھسیان سے نکل کر کوئی اور بات کرتے ہیں ۔
عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی،
کسی کام کی نہ رہتی،
اُسے پالنے کا خرچہ ، اُس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا،
تو اُسے ریوڑ سے الگ کر کے جنگل کی طرف چھوڑ آتے ،
جہاں وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی،
جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی اور جہاں چاہتی لیٹ جاتی۔

یہ اونٹنی اتنی بے وقعت ہو جاتی کہ اس کی فکر کرنا بھی بے معنی لگتا،
بلکہ اس کی ملکیت کا دعوی کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔

یہ اونٹنی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ ،
زمین کے کچھ حصے پر جگہ تو گھیرتی،
آکسیجن بھی استعمال کرتی ،
لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی حصہ ادا نہ کر پاتی ،
نہ دودھ دیتی ، نہ بچے ،
نہ اس کی کھال استعمال ہوتی اور نہ گوشت۔

اس اونٹنی کو سُدی کہا جاتا ۔

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى(36)
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ (سورت قیامہ: 36)

قرآن کریم نے اس لفظ کو ایسے انسان کےلیے استعمال کیا ہے جو اپنی اصل ذمہ داری اور مقصد کو چھوڑ بیٹھا ہو،
جس کی زندگی وحی کے نور سے خالی ہو ،
جس کے ذہن میں موت کی کوئی فکر نہ ہو،
جسے آخرت میں جوابدہی کا کوئی احساس نہ ہو،
جو صرف کھاتا پیتا، جاب اور ملازمت کرتا ہو،
جس کا سب سے بڑا مقصد گھر بنانا، دوسرے ملک شفٹ ہونا،
سوشل میڈیا استعمال کرنا،
اس پر فالورز کا ڈھیر لگانا،
کسی خوبصورت لڑکی یا لڑکے سے شادی کرنا،
ڈگری حاصل کرنا اور کسی بڑے عہدے پر براجمان ہونا ہو۔

اس سے زیادہ زندگی کا کوئی مقصد نہ ذہن میں ہو، نہ عمل میں۔

یہ شخص سُدی ہے۔

کیونکہ اس نے اپنی تخلیق کا مقصد چھوڑ دیا ہے،
اب یہ دنیا کے کسی بھی شعبے میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دے،
سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر لے،
ستاروں کی گزرگاہوں کو جان لے،
سمندروں کے سینے چاک کر ڈالے،
زمین کے پوشیدہ خزانوں پر قبضہ کر لے،
روشنی کی رفتار پر کمند ڈال دے،
مصروفیت کے ہزاروں ڈھونگ رچا لے۔

تب بھی یہ سُدی ہی ہے۔

یہ ایسا جانور ہے جو زمین پر بوجھ ہے،
اس کے مرنے پر نہ زمین روتی ہے، نہ آسمان۔

فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ
پھر نہ ان پر آسمان رویا، نہ زمین۔ (سورت دخان: 29)

جن مقاصد اور اہداف کو وہ اپنی زندگی میں جی رہا ہے،
اس کے بقول یہی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں،
لیکن حقیقت میں یہ مقاصد معاشرے نے اس پر مسلط کیے ہیں،
کامیابی و ناکامی کے یہ معیارات زمانے نے رائج کیے ہیں،

اگر وہ قرآن پڑھ لے،
نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو دیکھ لے،
تو اسے شدت سے احساس ہو کہ میں تو سُدی ہوں۔

جب تک اس کا دل نورِ قرآن سے منور نہیں ہو جاتا،
یہ مادی کامیابیاں اسے اصل مقصدِ زندگی تک پہنچنے ہی نہیں دیں گی۔

یہ قرآن ہی ہے جو دنیا میں مصروف رکھ کر بھی آخرت کو نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونے دیتا :

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا
اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ (سورت قصص: 77)

ابھی سانس آ رہی ہے،
تو موقع ہے،
سوچ لیں کہ سُدی بن کر زندگی گزارنی ہے یا اپنی مقصدیت اور نافعیت ثابت کرنی ہے؟

اگر با مقصد اور نافع بننا چاہتے ہیں،
تو آج ہی سے قرآن کریم کے ساتھ جڑ جائیں۔

یہ آپ کے ہر لمحے اور ہر قدم میں مقصدیت کو کوٹ کوٹ کر بھر دے گا۔
عربوں کی بے کار اونٹنی تو سدی، کہلاتی ہے اور ہم بےکار لوگ زمین پر بوجھ کے سوا اور کیا ہیں؟ اس سادہ مزاج لوگوں کو سرائیکی زبان میں شودے کہا جاتا ہے، عربوں کی بےکار اونٹنی سدی اور ہم شودے لوگ، شودی قوم ہیں اس شودی قوم کے لیے ہمارے اقبال رح نے مدت پہلے کہا تھا کہ
خدا نے اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال اپنی حالت کے بدلنے کا،،،
لو جی بات اسی پر ختم ہوتی ہے کہ ہم سدی ہیں یا شودی یہ فیصلہ بھی کسی اور نے کرنا ہے،،،،،،،

Post Views: 36
Tags: column by riyaz bhatti
Previous Post

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
قومی/ بین الاقوامی خبریں

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

by webmaster
اگست 2, 2026
0

لاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...

Read moreDetails
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

جولائی 19, 2026
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
یہ حالات کا احسان عظیم ہے کہ عوام الناس حالت نسیان میں ہیں اور خواص حالت کھسیان میں، دونوں اپنی اپنی جگہ پر وقت کاٹ رہے ہیں نہ ہی کوئی شکوہ اور نہ ہی کوئی شکایت کہ کچھ کہیں تو کس سے اور اگر کہیں بھی تو کیا فائدہ،،، ہم احساس سود و زیاں سے بہت آگے نکل گئے ہیں جس کی بنیاد پر یہ عظیم الشان ریوڑ، فریب کی ریوڑیاں کھاتا ہوا ان دیکھی منزل کی جانب رواں دواں ہے،،، آئیے چند لمحوں کے لیے کیفیت نسیان و کھسیان سے نکل کر کوئی اور بات کرتے ہیں ۔ عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی، کسی کام کی نہ رہتی، اُسے پالنے کا خرچہ ، اُس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا، تو اُسے ریوڑ سے الگ کر کے جنگل کی طرف چھوڑ آتے ، جہاں وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی، جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی اور جہاں چاہتی لیٹ جاتی۔ یہ اونٹنی اتنی بے وقعت ہو جاتی کہ اس کی فکر کرنا بھی بے معنی لگتا، بلکہ اس کی ملکیت کا دعوی کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔ یہ اونٹنی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ ، زمین کے کچھ حصے پر جگہ تو گھیرتی، آکسیجن بھی استعمال کرتی ، لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی حصہ ادا نہ کر پاتی ، نہ دودھ دیتی ، نہ بچے ، نہ اس کی کھال استعمال ہوتی اور نہ گوشت۔ اس اونٹنی کو سُدی کہا جاتا ۔ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى(36) کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ (سورت قیامہ: 36) قرآن کریم نے اس لفظ کو ایسے انسان کےلیے استعمال کیا ہے جو اپنی اصل ذمہ داری اور مقصد کو چھوڑ بیٹھا ہو، جس کی زندگی وحی کے نور سے خالی ہو ، جس کے ذہن میں موت کی کوئی فکر نہ ہو، جسے آخرت میں جوابدہی کا کوئی احساس نہ ہو، جو صرف کھاتا پیتا، جاب اور ملازمت کرتا ہو، جس کا سب سے بڑا مقصد گھر بنانا، دوسرے ملک شفٹ ہونا، سوشل میڈیا استعمال کرنا، اس پر فالورز کا ڈھیر لگانا، کسی خوبصورت لڑکی یا لڑکے سے شادی کرنا، ڈگری حاصل کرنا اور کسی بڑے عہدے پر براجمان ہونا ہو۔ اس سے زیادہ زندگی کا کوئی مقصد نہ ذہن میں ہو، نہ عمل میں۔ یہ شخص سُدی ہے۔ کیونکہ اس نے اپنی تخلیق کا مقصد چھوڑ دیا ہے، اب یہ دنیا کے کسی بھی شعبے میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دے، سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر لے، ستاروں کی گزرگاہوں کو جان لے، سمندروں کے سینے چاک کر ڈالے، زمین کے پوشیدہ خزانوں پر قبضہ کر لے، روشنی کی رفتار پر کمند ڈال دے، مصروفیت کے ہزاروں ڈھونگ رچا لے۔ تب بھی یہ سُدی ہی ہے۔ یہ ایسا جانور ہے جو زمین پر بوجھ ہے، اس کے مرنے پر نہ زمین روتی ہے، نہ آسمان۔ فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ پھر نہ ان پر آسمان رویا، نہ زمین۔ (سورت دخان: 29) جن مقاصد اور اہداف کو وہ اپنی زندگی میں جی رہا ہے، اس کے بقول یہی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں، لیکن حقیقت میں یہ مقاصد معاشرے نے اس پر مسلط کیے ہیں، کامیابی و ناکامی کے یہ معیارات زمانے نے رائج کیے ہیں، اگر وہ قرآن پڑھ لے، نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو دیکھ لے، تو اسے شدت سے احساس ہو کہ میں تو سُدی ہوں۔ جب تک اس کا دل نورِ قرآن سے منور نہیں ہو جاتا، یہ مادی کامیابیاں اسے اصل مقصدِ زندگی تک پہنچنے ہی نہیں دیں گی۔ یہ قرآن ہی ہے جو دنیا میں مصروف رکھ کر بھی آخرت کو نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونے دیتا : وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ (سورت قصص: 77) ابھی سانس آ رہی ہے، تو موقع ہے، سوچ لیں کہ سُدی بن کر زندگی گزارنی ہے یا اپنی مقصدیت اور نافعیت ثابت کرنی ہے؟ اگر با مقصد اور نافع بننا چاہتے ہیں، تو آج ہی سے قرآن کریم کے ساتھ جڑ جائیں۔ یہ آپ کے ہر لمحے اور ہر قدم میں مقصدیت کو کوٹ کوٹ کر بھر دے گا۔ عربوں کی بے کار اونٹنی تو سدی، کہلاتی ہے اور ہم بےکار لوگ زمین پر بوجھ کے سوا اور کیا ہیں؟ اس سادہ مزاج لوگوں کو سرائیکی زبان میں شودے کہا جاتا ہے، عربوں کی بےکار اونٹنی سدی اور ہم شودے لوگ، شودی قوم ہیں اس شودی قوم کے لیے ہمارے اقبال رح نے مدت پہلے کہا تھا کہ خدا نے اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال اپنی حالت کے بدلنے کا،،، لو جی بات اسی پر ختم ہوتی ہے کہ ہم سدی ہیں یا شودی یہ فیصلہ بھی کسی اور نے کرنا ہے،،،،،،،
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.