کل دریائی کٹاؤ سے دریا برد ہونے والی بستی "کنجال” کی حالتِ زار دیکھنے اور بے گھر ہونے والے مظلوم و بدحال متاثرین سے ملنے کا موقع ملا۔ ہم اس سے پہلے بھی کئی بار یہاں آ چکے ہیں۔ جہاں کل بھرپور آبادی تھی، آج وہاں پانی کی حکمرانی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دریائی کٹاؤ 500 گھروں پر مشتمل اس خوبصورت انسانی آبادی کو نگل گیا ہے اور اب یہ کٹاؤ بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
بستی کنجال کے ستم رسیدہ لوگ اپنے گھروں کی توڑ پھوڑ میں مصروف اپنی بچی کھچی اشیا کو محفوظ کرنے میں مصروف تھے .شاید ذمہ داروں کی طرف سے انہیں الرٹ جاری کر دیا گیا تھا کہ کٹاؤ سے جتنا بچا سکتے ہو بچا لو اسی لئے ہر مکین اپنے مکان کو گرانے اور اینٹ روڑا بچانے پر لگا تھا ..اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر کو گرانا کتنے ضبط کتنے صبر کتنے حوصلے کا کام ہے دل کتنے خوں کے آنسو روتا ہے ..یہ وہی جانتا ہے جو سہہ رہا ہوتا ہے ..
بڑی حیران کن انہونی بات یہ دیکھی کہ ماضی کی طرح دریائی کٹاؤ کے متاثرہ علاقے میں کٹاؤ کو روکنے کے لیے روایتی حفاظتی اقدامات کہیں نظر نہیں آئے۔ نہ تو وہاں فوری ‘فلڈ فائٹنگ’ کے تحت متاثرہ مقامات پر ہنگامی بنیادوں پر پتھروں کے سٹڈز اور جیو بیگز ڈال کر کٹاؤ روکا جا رہا تھا، حالانکہ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ ہر اس جگہ، جہاں دریائی کٹاؤ اثر انداز ہوتا تھا، وہاں پتھر ڈال کر اور ریت کی بوریاں لگا کر کٹاؤ کو روکنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ مگر آج بظاہر ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آئی۔
لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس کٹاؤ کو نہ روکا گیا تو پانی کا اگلا ہدف لیّہ شہر ہو سکتا ہے۔ لیّہ نشیب میں یہ پہلی بستی اور پہلی آبادی نہیں جو دریائی کٹاؤ کا شکار بنی، اس دریائی کٹاؤ کے ہاتھوں ہونے والی دریا بردی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی شیرِ دریا کی۔
زیادہ دور نہ جائیں، سال 2010 کے بدترین سیلاب کے بعد دریائی کٹاؤ سے دریا برد ہونے والے نشیبی علاقوں کا ہی جائزہ لے لیں تو پہاڑ پور نشیب سے کروڑ نشیب کی اس طویل متاثرہ پٹی کی بیسیوں خوبصورت آبادیاں دریا نگل گیا۔ ہزاروں ایکڑ رقبہ دریا برد ہو گیا، ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے اور بے اندازہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ دریا کی اس ستم درازی کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
ایک صحافی اور سیاسی و سماجی کارکن کی حیثیت سے علاقہ نشیب میں ہونے والا یہ دریائی کٹاؤ ہمیشہ ہمارا ترجیحی موضوع رہا۔ سال 2010 میں آنے والے بدترین سیلاب کے موقع پر ہم مقامی ایف ایم ریڈیو 89 سے نشر ہونے والے پروگرام "متاثرینِ سیلاب” میں انجم صحرائی کے ساتھ، سیلاب سے نبرد آزما مصیبت زدہ نشیبی عوام سے جڑے رہے۔ یہ ریڈیو پروگرام ہر روز دوپہر 4 بجے نشر ہوتا تھا اور بلا شبہ اس پروگرام کو سننے اور اس سے استفادہ کرنے والے سامعین کی تعداد ہزاروں میں تھی۔
اس کے بعد ہونے والے دریائی کٹاؤ کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے جنرل عزیز طارق میرانی کے تعاون سے وسیب اور نیوز ون کے جام شوکت اور ان کی ٹیم کو لیّہ آنے کی دعوت دی، جس نے لیّہ نشیب میں دریائی کٹاؤ کی شکار بستیوں اور اجڑے لوگوں کو لائیو دکھایا۔ اس ایک روزہ مہم میں برادرم شیخ عنایت اللہ کاشف ایڈووکیٹ اور نوجوان صحافی زاہد واندر بھی ہمارے ساتھ تھے۔
سال 2017 میں دریائی کٹاؤ کے مسئلے کو اجاگر کرنے اور متاثرینِ دریائی کٹاؤ کی متبادل آباد کاری کے مطالبے کی بنیاد پر منظم عوامی رابطہ تحریک کا آغاز کیا۔ پہاڑ پور سے کروڑ نشیب تک متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرینِ دریائی کٹاؤ سے عملی اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس عوامی رابطہ مہم میں محمد اسلم کلاسرا، رانا محمد ذوالفقار، ملک فہیم منجھوٹہ، طارق پہاڑ اور محمد اشرف مرہون جیسے دوست بھی ہمارے قدم بہ قدم رہے۔ ہمارے اس اظہارِ یکجہتی کا اہم مرحلہ متاثرینِ دریائی کٹاؤ کی متبادل آباد کاری کے مطالبے کے حق میں ڈسٹرکٹ پریس کلب کے سامنے ایک روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد تھا، جس میں متاثرینِ سیلاب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
یہ ساری کتھا سنانے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ذمہ داروں کو یاد دلایا جائے کہ لیّہ کے میڈیا نے ہمیشہ نہ صرف دریائی کٹاؤ کے اس سنگین مسئلے کو اجاگر کیا بلکہ اس مطالبے کو ہائی لائٹ کرنے کے لیے پرامن عملی جدوجہد بھی کی۔ یاد رہے یہ اس زمانے کی بات ہے جب پنجاب میں شہباز شریف وزیراعلیٰ اور لیّہ کے مہر اعجاز احمد اچلانہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ منسٹر تھے۔ ہمارے خیال میں اقتدار و اختیار کے لحاظ سے وہ بہترین دور تھا جب دریائی کٹاؤ کے متاثرین کی متبادل آباد کاری کا مطالبہ پورا ہو سکتا تھا، مگر: …. اے بسا آرزو کہ خاک شد!

انجم صحرائی
صبح پاکستان پر شائع ہونے والا مستقل کالم ۔۔ بلامبالغہ








