ضلع بھی کی نمائندہ صحافتی تنظیموں نے ای کامرس سکینڈل کیس ری اوپن کرنے کا مطالبہ کر دیا .صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب محسن عدیل کی طرف سے کئے جانے والا یہ مطالبہ احد کامرس سکینڈل کیس کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے , قانونی بنیاد پر صحافتی تنظیموں کا یہ مطالبہ جائز بر حق اور قانون کے مطابق ہے کوئی بھی ایسا کیس جس کی
تفتیش میں "بدنیتی” (Malafide) برتی گئی ہے، یا اہم گواہان کو چھوڑ دیا گیا ہے، یا ریکارڈ میں ہیر پھیر کی گئی ہے، تو عدالت کیس کو مزید تفتیش کے لیے واپس بھجوا سکتی ہے لیکن اس کا فیصلہ آنریبل کورٹ کا ہی اختیار ہے ،اگر یہ کیس ر ی اوپن ہوتا ہے تو کیس یقیننا ایک نیا رخ اختیار کرے گا .صحیح صورت حل سامنے آ سکے گی اور ذمہ داروں کا درست تعین ہو سکے گا ..
آج کے اس شتر بے مہار سوشل میڈیا کے دور میں، جہاں مثبت انداز میں گفتگو بہت کم پڑھی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں منفی پروپیگنڈا اور جھوٹا بیانیہ گھڑنا اور پھیلانا ایک دلچسپ وائرل گیم کی مانند سہل اور آسان ہو گیا ہے اور یہ کام چند لمحوں کا ہے۔ ہمارا سماج ویسے بھی نمک مرچ لگا کر سلگتے شعلوں کو ہوا دینے میں بے مثال ہے، اس لیے سوشل میڈیا کے کسی بھی چوک پر سرِعام کسی کی پگڑی اچھالنے اور فیک نیوز پھیلانے میں بہت دلچسپی لیتا ہے۔”
سوشل میڈیا کے اس میدانِ جنگ میں جو منفرد ہوا ہے وہ یہ ہے کہ "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے” کے مصداق، صحافی، صحافیوں کے خلاف سر بکف ہیں۔ پریس کلب اور دیگر صحافتی تنظیموں کے عہدیداران ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں، اور الزامات، واقعاتی تانے بانے، تجزیے اور خبریں، الامان الحفیظ!یہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں، تقریباً سبھی جگہوں پر یہی پراگندہ صورتِ حال ہے۔ لگتا ہے پیمرا اس بارے میں سنجیدہ ہوا ہے، تبھی کئی متاثرہ صحافتی گروپ سامنے آئے اور انہوں نے الزام تراشی کرنے اور فیک پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف قانون کا در کھٹکھٹایا، اور یوں کئی ایف آئی آر (FIR) کا اندراج بھی ہوا۔
"حال ہی میں ایک خبر نظر سے گزری کہ پوسٹ پر غلط کمنٹس کرنے پر بھی قانون حرکت میں آیا ہے اور مقدمات درج ہوئے ہیں۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ سوشل میڈیا پر الزامات، ہراسانی، تضحیک، طنز، دھمکیوں اور مغلظات کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ احد سکینڈل کیس میں بھی یہی ہوا دھڑوں میں تقسیم صحافیوں میں چند نے پولیس کارروائی کی بنیاد پر متاثرین کے حق میں خبریں لگائیں تو دوسرے نے ان واقعات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اپنے مخالف صحافیوں کو اس سکینڈل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔کیس اس وقت متعلقہ اداروں میں زیرِ سماعت ہے، اب وہ ماسٹر مائنڈ ہیں یا نہیں، وہ تو عدالتوں کے فیصلے بتائیں گے لیکن اس سارے معاملے کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلا کہ سوشل میڈیا پر لیّہ کے صحافی ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں۔ لفافی صحافی سے لے کر وہ کون سا غیر اخلاقی لقب ہے جو صحافتی کمیونٹی کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔
گذرے دنوں لیّہ کے احد کیس میں دو انہونیاں ہوئیں۔ ایک یہ کہ کیس میں نامزد صحافی، بقول ان کے، سی سی ڈی اور اینٹی کرپشن سے سرخرو ہو گئے، اور دوسرے یہ کہ اس کیس کی بنیاد پر صحافیوں کے خلاف بیانیہ بنانے والے کرمفر ماوں نے سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ چونکہ صحافیوں کے خلاف مذکورہ کیس عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے سوشل میڈیا صارفین ان کی بنیاد پر مجموعی صحافت کے خلاف کوئی بات نہ کریں اور عدالت کو اپنا کام کرنے دیں۔ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اچھی سوچ اور اچھا پیغام ہے
ہماری ناقص را ے تو ہمیشہ سے یہ ہی رہی ہے کہ صحافی کا کم صرف خبر دینا ہے وکالت کرنا نہیں وکالت وکیل کا کام ہے اور فیصلہ کرناعدالت کا ..اور سبھی اداروں کو اپنی اپنی آئینی حدود و قیود میں رہ کر کام کرنا چاہے ..اگر یہی جذبہِ خیر سگالی پہلے دکھایا ہوتا تو آج "صحافت اور صحافی یوں مذاق بنے نظر نہ آتے
نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...
Read moreDetails








