• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کامرس سکینڈل کیس ری اوپن کیا جائے ،صحافیوں کا جائز مطا لبہ! تحریر .انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جولائی 19, 2026
in کالم
0
عذاب لمحے، شتاب لمحے  .., تحریر: انجم صحرائی

ضلع بھی کی نمائندہ صحافتی تنظیموں نے ای کامرس سکینڈل کیس ری اوپن کرنے کا مطالبہ کر دیا .صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب محسن عدیل کی طرف سے کئے جانے والا یہ مطالبہ احد کامرس سکینڈل کیس کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے , قانونی بنیاد پر صحافتی تنظیموں کا یہ مطالبہ جائز بر حق اور قانون کے مطابق ہے کوئی بھی ایسا کیس جس کی
تفتیش میں "بدنیتی” (Malafide) برتی گئی ہے، یا اہم گواہان کو چھوڑ دیا گیا ہے، یا ریکارڈ میں ہیر پھیر کی گئی ہے، تو عدالت کیس کو مزید تفتیش کے لیے واپس بھجوا سکتی ہے لیکن اس کا فیصلہ آنریبل کورٹ کا ہی اختیار ہے ،اگر یہ کیس ر ی اوپن ہوتا ہے تو کیس یقیننا ایک نیا رخ اختیار کرے گا .صحیح صورت حل سامنے آ سکے گی اور ذمہ داروں کا درست تعین ہو سکے گا ..
آج کے اس شتر بے مہار سوشل میڈیا کے دور میں، جہاں مثبت انداز میں گفتگو بہت کم پڑھی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں منفی پروپیگنڈا اور جھوٹا بیانیہ گھڑنا اور پھیلانا ایک دلچسپ وائرل گیم کی مانند سہل اور آسان ہو گیا ہے اور یہ کام چند لمحوں کا ہے۔ ہمارا سماج ویسے بھی نمک مرچ لگا کر سلگتے شعلوں کو ہوا دینے میں بے مثال ہے، اس لیے سوشل میڈیا کے کسی بھی چوک پر سرِعام کسی کی پگڑی اچھالنے اور فیک نیوز پھیلانے میں بہت دلچسپی لیتا ہے۔”
سوشل میڈیا کے اس میدانِ جنگ میں جو منفرد ہوا ہے وہ یہ ہے کہ "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے” کے مصداق، صحافی، صحافیوں کے خلاف سر بکف ہیں۔ پریس کلب اور دیگر صحافتی تنظیموں کے عہدیداران ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں، اور الزامات، واقعاتی تانے بانے، تجزیے اور خبریں، الامان الحفیظ!یہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں، تقریباً سبھی جگہوں پر یہی پراگندہ صورتِ حال ہے۔ لگتا ہے پیمرا اس بارے میں سنجیدہ ہوا ہے، تبھی کئی متاثرہ صحافتی گروپ سامنے آئے اور انہوں نے الزام تراشی کرنے اور فیک پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف قانون کا در کھٹکھٹایا، اور یوں کئی ایف آئی آر (FIR) کا اندراج بھی ہوا۔
"حال ہی میں ایک خبر نظر سے گزری کہ پوسٹ پر غلط کمنٹس کرنے پر بھی قانون حرکت میں آیا ہے اور مقدمات درج ہوئے ہیں۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ سوشل میڈیا پر الزامات، ہراسانی، تضحیک، طنز، دھمکیوں اور مغلظات کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ احد سکینڈل کیس میں بھی یہی ہوا دھڑوں میں تقسیم صحافیوں میں چند نے پولیس کارروائی کی بنیاد پر متاثرین کے حق میں خبریں لگائیں تو دوسرے نے ان واقعات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اپنے مخالف صحافیوں کو اس سکینڈل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔کیس اس وقت متعلقہ اداروں میں زیرِ سماعت ہے، اب وہ ماسٹر مائنڈ ہیں یا نہیں، وہ تو عدالتوں کے فیصلے بتائیں گے لیکن اس سارے معاملے کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلا کہ سوشل میڈیا پر لیّہ کے صحافی ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں۔ لفافی صحافی سے لے کر وہ کون سا غیر اخلاقی لقب ہے جو صحافتی کمیونٹی کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔
گذرے دنوں لیّہ کے احد کیس میں دو انہونیاں ہوئیں۔ ایک یہ کہ کیس میں نامزد صحافی، بقول ان کے، سی سی ڈی اور اینٹی کرپشن سے سرخرو ہو گئے، اور دوسرے یہ کہ اس کیس کی بنیاد پر صحافیوں کے خلاف بیانیہ بنانے والے کرمفر ماوں نے سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ چونکہ صحافیوں کے خلاف مذکورہ کیس عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے سوشل میڈیا صارفین ان کی بنیاد پر مجموعی صحافت کے خلاف کوئی بات نہ کریں اور عدالت کو اپنا کام کرنے دیں۔ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اچھی سوچ اور اچھا پیغام ہے
ہماری ناقص را ے تو ہمیشہ سے یہ ہی رہی ہے کہ صحافی کا کم صرف خبر دینا ہے وکالت کرنا نہیں وکالت وکیل کا کام ہے اور فیصلہ کرناعدالت کا ..اور سبھی اداروں کو اپنی اپنی آئینی حدود و قیود میں رہ کر کام کرنا چاہے ..اگر یہی جذبہِ خیر سگالی پہلے دکھایا ہوتا تو آج "صحافت اور صحافی یوں مذاق بنے نظر نہ آتے

Post Views: 52
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

بھٹی فیملی کا درخشاں سپوت: ڈاکٹر محبوب ریاض بھٹی ! تحریر: ارشاد رائے

Next Post

کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت اہم اجلاس

Next Post
کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت  اہم اجلاس

کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت اہم اجلاس

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
ضلع بھی کی نمائندہ صحافتی تنظیموں نے ای کامرس سکینڈل کیس ری اوپن کرنے کا مطالبہ کر دیا .صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب محسن عدیل کی طرف سے کئے جانے والا یہ مطالبہ احد کامرس سکینڈل کیس کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے , قانونی بنیاد پر صحافتی تنظیموں کا یہ مطالبہ جائز بر حق اور قانون کے مطابق ہے کوئی بھی ایسا کیس جس کی تفتیش میں "بدنیتی" (Malafide) برتی گئی ہے، یا اہم گواہان کو چھوڑ دیا گیا ہے، یا ریکارڈ میں ہیر پھیر کی گئی ہے، تو عدالت کیس کو مزید تفتیش کے لیے واپس بھجوا سکتی ہے لیکن اس کا فیصلہ آنریبل کورٹ کا ہی اختیار ہے ،اگر یہ کیس ر ی اوپن ہوتا ہے تو کیس یقیننا ایک نیا رخ اختیار کرے گا .صحیح صورت حل سامنے آ سکے گی اور ذمہ داروں کا درست تعین ہو سکے گا .. آج کے اس شتر بے مہار سوشل میڈیا کے دور میں، جہاں مثبت انداز میں گفتگو بہت کم پڑھی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں منفی پروپیگنڈا اور جھوٹا بیانیہ گھڑنا اور پھیلانا ایک دلچسپ وائرل گیم کی مانند سہل اور آسان ہو گیا ہے اور یہ کام چند لمحوں کا ہے۔ ہمارا سماج ویسے بھی نمک مرچ لگا کر سلگتے شعلوں کو ہوا دینے میں بے مثال ہے، اس لیے سوشل میڈیا کے کسی بھی چوک پر سرِعام کسی کی پگڑی اچھالنے اور فیک نیوز پھیلانے میں بہت دلچسپی لیتا ہے۔" سوشل میڈیا کے اس میدانِ جنگ میں جو منفرد ہوا ہے وہ یہ ہے کہ "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے" کے مصداق، صحافی، صحافیوں کے خلاف سر بکف ہیں۔ پریس کلب اور دیگر صحافتی تنظیموں کے عہدیداران ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں، اور الزامات، واقعاتی تانے بانے، تجزیے اور خبریں، الامان الحفیظ!یہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں، تقریباً سبھی جگہوں پر یہی پراگندہ صورتِ حال ہے۔ لگتا ہے پیمرا اس بارے میں سنجیدہ ہوا ہے، تبھی کئی متاثرہ صحافتی گروپ سامنے آئے اور انہوں نے الزام تراشی کرنے اور فیک پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف قانون کا در کھٹکھٹایا، اور یوں کئی ایف آئی آر (FIR) کا اندراج بھی ہوا۔ "حال ہی میں ایک خبر نظر سے گزری کہ پوسٹ پر غلط کمنٹس کرنے پر بھی قانون حرکت میں آیا ہے اور مقدمات درج ہوئے ہیں۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ سوشل میڈیا پر الزامات، ہراسانی، تضحیک، طنز، دھمکیوں اور مغلظات کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ احد سکینڈل کیس میں بھی یہی ہوا دھڑوں میں تقسیم صحافیوں میں چند نے پولیس کارروائی کی بنیاد پر متاثرین کے حق میں خبریں لگائیں تو دوسرے نے ان واقعات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اپنے مخالف صحافیوں کو اس سکینڈل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔کیس اس وقت متعلقہ اداروں میں زیرِ سماعت ہے، اب وہ ماسٹر مائنڈ ہیں یا نہیں، وہ تو عدالتوں کے فیصلے بتائیں گے لیکن اس سارے معاملے کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلا کہ سوشل میڈیا پر لیّہ کے صحافی ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں۔ لفافی صحافی سے لے کر وہ کون سا غیر اخلاقی لقب ہے جو صحافتی کمیونٹی کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ گذرے دنوں لیّہ کے احد کیس میں دو انہونیاں ہوئیں۔ ایک یہ کہ کیس میں نامزد صحافی، بقول ان کے، سی سی ڈی اور اینٹی کرپشن سے سرخرو ہو گئے، اور دوسرے یہ کہ اس کیس کی بنیاد پر صحافیوں کے خلاف بیانیہ بنانے والے کرمفر ماوں نے سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ چونکہ صحافیوں کے خلاف مذکورہ کیس عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے سوشل میڈیا صارفین ان کی بنیاد پر مجموعی صحافت کے خلاف کوئی بات نہ کریں اور عدالت کو اپنا کام کرنے دیں۔ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اچھی سوچ اور اچھا پیغام ہے ہماری ناقص را ے تو ہمیشہ سے یہ ہی رہی ہے کہ صحافی کا کم صرف خبر دینا ہے وکالت کرنا نہیں وکالت وکیل کا کام ہے اور فیصلہ کرناعدالت کا ..اور سبھی اداروں کو اپنی اپنی آئینی حدود و قیود میں رہ کر کام کرنا چاہے ..اگر یہی جذبہِ خیر سگالی پہلے دکھایا ہوتا تو آج "صحافت اور صحافی یوں مذاق بنے نظر نہ آتے
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.