انسانی معاشرہ مختلف پیشوں کے باہمی تعاون سے ترقی کرتا ہے، مگر بعض شعبے اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی احترام کے حامل ہوتے ہیں۔ ان میں شعبۂ طب کو نمایاں مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمتِ انسانیت، ہمدردی اور ایثار کا عملی مظہر ہے۔
معالج کو بجا طور پر “مسیحا” کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ درد میں گھِرے انسان کو سکون، بیماری کو شفا اور بسا اوقات زندگی کو نئی امید عطا کرتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کا اصل حسن اس کے علم کے ساتھ اس کے اخلاق میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ رنگ، نسل، مذہب اور حیثیت سے بالاتر ہو کر ہر مریض کو یکساں توجہ دینا ہی طب کی اصل روح ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مریض کے لیے ڈاکٹر کا خوش اخلاق اور ہمدردانہ رویہ کسی دوا سے کم مؤثر نہیں۔ مسکراہٹ، توجہ سے سننا، نرم لہجہ اور حوصلہ افزا گفتگو مریض کے دل سے آدھا

درد کم کر دیتی ہے۔ شفقت اور اعتماد کا یہ ماحول علاج کو زیادہ مؤثر بنا دیتا ہے۔
ایک مثالی معالج مریض کی بات غور سے سنتا ہے، مرض کی نوعیت سمجھتا ہے، سادہ الفاظ میں رہنمائی کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر مریض و اہلِ خانہ کو امید اور حوصلہ دیتا ہے۔ ایسے اوصاف رکھنے والے طبیب ہی حقیقی معنوں میں مسیحا کہلاتے ہیں۔
انہی اعلیٰ طبی و اخلاقی صفات کی حامل شخصیات میں ڈاکٹر محبوب ریاض بھٹی کا نام نہایت احترام سے لیا جا سکتا ہے۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع لیہ کے گاؤں بھٹی نگر سے ہے۔ اس وقت وہ دبئی کے معروف ادارے پرائم ہسپتال دبئی میں شعبۂ اطفال Pediatrics سے وابستہ ہیں اور اپنی ذمہ داریاں نہایت مہارت، دیانت اور احساسِ فرض کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر محبوب ریاض بھٹی اپنے شعبے میں نہایت قابل، ذہین اور باصلاحیت معالج ہیں۔ ان کی حالیہ علمی کامیابی، یعنی رائل کالج لندن سے تخصصی ڈگری کا حصول، ان کی محنت، لگن اور علمی استعداد کا روشن ثبوت ہے۔ یہ امتحان دنیا کے مشکل ترین طبی امتحانات میں شمار ہوتا ہے، اور اس میں کامیابی ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔
یہ امتحان برطانیہ کے شاہی طبی اداروں کی نگرانی میں مختلف مراحل پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں تحریری اور کلینیکل دونوں امتحانات شامل ہیں۔ ان مراحل کو عبور کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب کو مختلف ممالک کا سفر کرنا پڑا اور بے شمار علمی و عملی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ ان امتحانات کے نمایاں مراکز میں رائل کالج ملائیشیا، رائل کالج عمان، رائل کالج سنگاپور، رائل کالج ابو ظہبی اور القاسمی چلڈرن ہسپتال شارجہ شامل ہیں۔
رائل کالج لندن کی یہ ڈگری عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، اور اس کے حصول کے بعد دنیا بھر میں طبی میدان کے اعلیٰ مواقع میسر آتے ہیں۔ مزید برآں ڈاکٹر محبوب ریاض بھٹی کی عرب بورڈ پوسٹ گریجویشن بھی آخری مراحل میں ہے، جو خلیجی ممالک میں میڈیکل کنسلٹنٹ بننے کے لیے ایک اعلیٰ ترین امتحان سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اماراتی میڈیکل بورڈ کے مراحل بھی جاری ہیں۔
ڈاکٹر محبوب ریاض بھٹی کی شخصیت صرف ایک کامیاب معالج تک محدود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ، علمی ذوق رکھنے والے اور ادبی شعور سے آراستہ انسان ہیں۔ انہیں انگریزی و اردو ادب، تاریخ، فلسفہ، سیاسیات، معاشیات، شاعری، فنِ خطابت اور فنونِ لطیفہ سے گہرا شغف ہے، جو ان کی شخصیت کو ہمہ جہت اور گفتگو کو فکری گہرائی عطا کرتا ہے۔
وہ ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور عوامی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ معاشرے کے ناہموار رویوں اور عوامی مشکلات پر ان کی بصیرت افروز رائے اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف ایک کامیاب ڈاکٹر نہیں بلکہ دردِ دل رکھنے والے صاحبِ شعور انسان بھی ہیں۔
اختتامًا ڈاکٹر محبوب ریاض بھٹی اپنی علمی قابلیت، پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقی اوصاف اور وسیع علمی ذوق کے باعث اپنے خاندان، علاقے اور وطن کے لیے ایک درخشاں مثال ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے، صحت و عافیت کے ساتھ طویل عمر دے، اور انسانیت کی خدمت کا یہ سفر مزید برکتوں کے ساتھ جاری رکھیں
آمین ۔

ارشاد رائے







