تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک ایسا بھیانک تضاد نظر آتا ہے جس نے انسانیت کو صدیوں سے نوچ رکھا ہے۔ یہ تضاد "تحفظ” اور "خون ریزی” کا ہے۔ دنیا کے ہر طاقتور حکمران، ہر جارح لشکر، اور ہر مفاد پرست گروہ نے جب بھی کسی دوسرے انسان کا خون بہایا، تو اس کے ہاتھ میں "انسانیت کی حفاظت” کا مقدس پرچم تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی خون ریزی کبھی تحفظ کا ذریعہ بن سکتی ہے؟
گزشتہ چند دہائیوں کی عالمی سیاست کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک نے اپنے معاشی اور سیاسی مقاصد کے لیے "انسانی حقوق” اور "شہریوں کے تحفظ” کے نعروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔ عراق سے لیبیا تک اور ویتنام سے لے کر جدید تنازعات تک، جس ملک میں بھی مداخلت کی گئی، دعویٰ امن کا ہی کیا گیا۔ لیکن اس "امن” کے نتیجے میں جو لاشیں گریں، ان کا حساب کون دے گا؟
مذاہبِ عالم کی تعلیمات تو واضح ہیں۔ اسلام ہو، یہودیت ہو یا مسیحیت، سب کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ آج اسی مذہب کو، اسی نسل کو، اور اسی علاقے کو ایک "حفاظتی دیوار” بنا کر دوسروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنی اپنی شناختوں کو اس قدر مضبوط کر لیا ہے کہ اب انسانیت صرف "اپنے گروہ” تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
جب تک مذہبی، علاقائی، اور نسلی تعصبات ہماری سوچ پر حاوی رہیں گے، تب تک "تحفظ کے نام پر قتلِ عام” کا سلسلہ رکنا ممکن نہیں۔ طاقت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے، اور یہ طاقتور تب تک اس کھیل کو جاری رکھیں گے جب تک عوام ان کے "بیانیے کے غلام” بنے رہیں گے۔
خون ریزی کا یہ چکر تبھی ٹوٹے گا جب دنیا کے عوام اپنے حکمرانوں کی بچھائی ہوئی تقسیم کی بساط کو سمجھ جائیں گے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جس پرچم کے سائے میں کسی بے گناہ کا خون بہایا جا رہا ہو، وہ پرچم اصل میں انسانیت کی شکست کی علامت ہے۔
اصلی تحفظ کسی گن پاؤڈر میں نہیں، بلکہ انصاف اور مکالمے میں ہے۔ جب تک ہم "انسان” کو اپنے ہر تعصب سے اوپر رکھ کر نہیں دیکھیں گے، تب تک "حفاظت” کا یہ نعرہ صرف ایک سراب رہے گا۔
آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی شناختوں کو انسانیت کا مرکز بنانے کے بجائے، انسانیت کو اپنی تمام تر شناختوں کا مرکز بنائیں۔ یہی بقا کا واحد راستہ ہے۔
انجم صحرائی







