• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

تحفظ کا سراب اور خون کی ہولی ! انجم صحرائی

webmaster by webmaster
جولائی 13, 2026
in کالم
0
عذاب لمحے، شتاب لمحے  .., تحریر: انجم صحرائی

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک ایسا بھیانک تضاد نظر آتا ہے جس نے انسانیت کو صدیوں سے نوچ رکھا ہے۔ یہ تضاد "تحفظ” اور "خون ریزی” کا ہے۔ دنیا کے ہر طاقتور حکمران، ہر جارح لشکر، اور ہر مفاد پرست گروہ نے جب بھی کسی دوسرے انسان کا خون بہایا، تو اس کے ہاتھ میں "انسانیت کی حفاظت” کا مقدس پرچم تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی خون ریزی کبھی تحفظ کا ذریعہ بن سکتی ہے؟

گزشتہ چند دہائیوں کی عالمی سیاست کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک نے اپنے معاشی اور سیاسی مقاصد کے لیے "انسانی حقوق” اور "شہریوں کے تحفظ” کے نعروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔ عراق سے لیبیا تک اور ویتنام سے لے کر جدید تنازعات تک، جس ملک میں بھی مداخلت کی گئی، دعویٰ امن کا ہی کیا گیا۔ لیکن اس "امن” کے نتیجے میں جو لاشیں گریں، ان کا حساب کون دے گا؟

مذاہبِ عالم کی تعلیمات تو واضح ہیں۔ اسلام ہو، یہودیت ہو یا مسیحیت، سب کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ آج اسی مذہب کو، اسی نسل کو، اور اسی علاقے کو ایک "حفاظتی دیوار” بنا کر دوسروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنی اپنی شناختوں کو اس قدر مضبوط کر لیا ہے کہ اب انسانیت صرف "اپنے گروہ” تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

جب تک مذہبی، علاقائی، اور نسلی تعصبات ہماری سوچ پر حاوی رہیں گے، تب تک "تحفظ کے نام پر قتلِ عام” کا سلسلہ رکنا ممکن نہیں۔ طاقت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے، اور یہ طاقتور تب تک اس کھیل کو جاری رکھیں گے جب تک عوام ان کے "بیانیے کے غلام” بنے رہیں گے۔

خون ریزی کا یہ چکر تبھی ٹوٹے گا جب دنیا کے عوام اپنے حکمرانوں کی بچھائی ہوئی تقسیم کی بساط کو سمجھ جائیں گے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جس پرچم کے سائے میں کسی بے گناہ کا خون بہایا جا رہا ہو، وہ پرچم اصل میں انسانیت کی شکست کی علامت ہے۔

اصلی تحفظ کسی گن پاؤڈر میں نہیں، بلکہ انصاف اور مکالمے میں ہے۔ جب تک ہم "انسان” کو اپنے ہر تعصب سے اوپر رکھ کر نہیں دیکھیں گے، تب تک "حفاظت” کا یہ نعرہ صرف ایک سراب رہے گا۔

آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی شناختوں کو انسانیت کا مرکز بنانے کے بجائے، انسانیت کو اپنی تمام تر شناختوں کا مرکز بنائیں۔ یہی بقا کا واحد راستہ ہے۔

انجم صحرائی

 

Post Views: 24
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

ڈاکٹر عبدالعزیز خدمت، محبت اور خلوص کی ایک لازوال داستان ! تحریر: مہر عمران بوپیرا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک
قومی/ بین الاقوامی خبریں

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

by webmaster
جولائی 11, 2026
0

کوئٹہ: پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ "آپریشن شعبان" بھرپور انداز میں...

Read moreDetails
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
نوجوان  سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

نوجوان سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

جون 25, 2026
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک ایسا بھیانک تضاد نظر آتا ہے جس نے انسانیت کو صدیوں سے نوچ رکھا ہے۔ یہ تضاد "تحفظ" اور "خون ریزی" کا ہے۔ دنیا کے ہر طاقتور حکمران، ہر جارح لشکر، اور ہر مفاد پرست گروہ نے جب بھی کسی دوسرے انسان کا خون بہایا، تو اس کے ہاتھ میں "انسانیت کی حفاظت" کا مقدس پرچم تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی خون ریزی کبھی تحفظ کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ گزشتہ چند دہائیوں کی عالمی سیاست کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک نے اپنے معاشی اور سیاسی مقاصد کے لیے "انسانی حقوق" اور "شہریوں کے تحفظ" کے نعروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔ عراق سے لیبیا تک اور ویتنام سے لے کر جدید تنازعات تک، جس ملک میں بھی مداخلت کی گئی، دعویٰ امن کا ہی کیا گیا۔ لیکن اس "امن" کے نتیجے میں جو لاشیں گریں، ان کا حساب کون دے گا؟ مذاہبِ عالم کی تعلیمات تو واضح ہیں۔ اسلام ہو، یہودیت ہو یا مسیحیت، سب کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ آج اسی مذہب کو، اسی نسل کو، اور اسی علاقے کو ایک "حفاظتی دیوار" بنا کر دوسروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنی اپنی شناختوں کو اس قدر مضبوط کر لیا ہے کہ اب انسانیت صرف "اپنے گروہ" تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جب تک مذہبی، علاقائی، اور نسلی تعصبات ہماری سوچ پر حاوی رہیں گے، تب تک "تحفظ کے نام پر قتلِ عام" کا سلسلہ رکنا ممکن نہیں۔ طاقت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے، اور یہ طاقتور تب تک اس کھیل کو جاری رکھیں گے جب تک عوام ان کے "بیانیے کے غلام" بنے رہیں گے۔ خون ریزی کا یہ چکر تبھی ٹوٹے گا جب دنیا کے عوام اپنے حکمرانوں کی بچھائی ہوئی تقسیم کی بساط کو سمجھ جائیں گے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جس پرچم کے سائے میں کسی بے گناہ کا خون بہایا جا رہا ہو، وہ پرچم اصل میں انسانیت کی شکست کی علامت ہے۔ اصلی تحفظ کسی گن پاؤڈر میں نہیں، بلکہ انصاف اور مکالمے میں ہے۔ جب تک ہم "انسان" کو اپنے ہر تعصب سے اوپر رکھ کر نہیں دیکھیں گے، تب تک "حفاظت" کا یہ نعرہ صرف ایک سراب رہے گا۔ آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی شناختوں کو انسانیت کا مرکز بنانے کے بجائے، انسانیت کو اپنی تمام تر شناختوں کا مرکز بنائیں۔ یہی بقا کا واحد راستہ ہے۔

انجم صحرائی

 
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.