ارضِ پاک :غنڈوں میں پھنسی رضیہ محمدعماراحمد جس روز ایرانی صدر جناب حسن روحانی صاحب پاکستان کے دورے پر آئے...
Read moreDetailsروبینہ فیصل کی’’ خواب سے لپٹی کہانیاں‘‘ ازقلم: حسیب اعجاز عاشر معروف ادبی شخصیت محمد ظہیر بدر کی میزبانی میں...
Read moreDetailsڈراوا یا ڈرامہ عفت پٹھان کوٹ کا حملہ کیا ہوا ایک بار پھر پاکستان کو اس میں ملوث کرنے کی...
Read moreDetailsڈی سی ہاؤس کے پڑوس میں چا ئلڈ لیبر کے مرا کز تحریر محمد عمر شاکر برصغیر میں مغلیہ حکومت...
Read moreDetailsشب و روز زند گی قسط56 تحریر ۔۔ انجم صحرائی کوٹ سلطان کی پہلی انجمن تا جران یہ تو...
Read moreDetailsلہو لہولہان لاہور خضرکلاسرا لاہور کے گلشن اقبال پارک میں 72معصوم بچوں ،عورتوں اوردیگر افرادکی خودکش حملہ کے نتیجہ میں...
Read moreDetailsگلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے محمدعماراحمد یہ دل وجان سے عزیز پاکستان، بننے سے پہلے ہی خون کاپیاسا...
Read moreDetailsساجھے کی ہانڈی عفت مثل مشہور ہے کہ ساجھے کی ہانڈی بیچ چوراہے میں پھوٹتی ہے۔ایسا ہی کچھ ایم کیو...
Read moreDetailsلیہ کے نئے ڈی پی او اور تھانہ چوک اعظم کے چیلنجز تحریر , محمد عمر شاکر نیکی اور برائی...
Read moreDetailsشب و رو زند گی قسط 55 انجم صحرائی جن دنوں لیہ کوٹ سلطان روڈ کچی ہوا کرتی تھی ان...
Read moreDetailsعلیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetails
سیاست اور ملکی میدان ایک بار پھر سج گیا طرح طرح کی چہ مگوئیاں ایک بار پھر اپنے عروج پہ ہیں ۔پی ٹی آئی ایک دفعہ پھر دوسرے دھرنے کے لیے تیاری پکڑ رہی ۔کپتان نے بھی ڈی جے کو نئے گانوں کی تیاری کا کہہ دیا ہے آخر عوام نے انجوائے بھی تو کرنا ہے ۔جب کہ وزیر اعظم نواز شریف
کیا ۔ایک طرف سے آواز آئی ہمارا صدر ہے ۔سوال کرنے والے نے پوچھا پاکستان کا؟؟ سوال میں حیرانگی تھی ۔تو اور کیا ایران کا ،،بذلہ سنجی سے پھر جواب آیا ۔مگر کبھی سنا نہیں یہ نام نہ کبھی نیوز میں نہ کبھی کسی موقعے پہ، سوال پہ سوال اور اب جواب آیا اوہو وہ محض نام کے صدر ہیں ان کا ملک کے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ۔تو کیا ملک ان کے بغیر چل رہا؟ہا ہا ہا ملک تو اللہ کے آسرے پہ چل رہا ۔باقی سب کھاؤ خلیفہ ہیں باریاں لگی ہوئیں ہیں سب رج رج کے لوٹو اور مل بانٹ کے کھاؤ ۔جسے موقعہ نہ ملے وہ تخت پہ بیٹھے کی ٹانگیں کھینچتا ہے کہ بس کرو اب میری باری ،اگر اگلا نہ سنے تو عوام کو استعمال کر کے ڈرامے اسٹارٹ ۔کبھی نیا پاکستان ۔تو کبھی بھابھی جان ۔کبھی الہام ہونے لگتے کبھی خوشخبری آتی،عوام کو کبھی اورنج ٹرین اور کبھی یلو ٹرین کا لالی پاپ تھما دیا جاتا اور بھولی عوام عام آدمی کی طرح عام ہو جاتی۔۔
علامہ صاحب بھی میدان میں اتر آئے ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان گذشتہ تیس سال
سے کرپشن ،ٹیکس چوری اور کالے دھن سے بیرون ملک میں آف شور کمپنیاں بنا رہے ۔پانامہ لیکس پہ کون ان سے مواخذہ کرے گا ۔پاکستان کا آئین اور قانون کب طاقتور ہو گا ۔گویا اب لب لباب یہی ہے کہ گو نواز گو ۔لیکن اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اگلا آنے والا حکمران ملک و قوم کا وفادار ہوگا ۔۔