چشمِ نم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عفت زندگی اور موت انسان کے ساتھ ساتھ ازل سے قدم بہ قدم چلتی آ رہی ہے ۔کوئی...
Read moreDetailsلیہ میں ملک الموت کے ڈیرے بے حس حکمران و افسران تحریر:عبدالرحمن فریدی Abdul Rehman Faridi آج سنجیدگی اعتدال،توازن،صداقت،مقصدیت...
Read moreDetailsمٹھائی کھا کر مرنے والےاور ہماری بے حسی تحریر محمد عمر شاکر مرنے والوں پر سیاست یا صحافت نہیں کرنی...
Read moreDetailsجوگی پہلے منتر سمجھے حساس طبعیت کے مالک صابر عطاء کا سرائیکی شاعری کا مجموعہ تحریر ۔۔ محمد عمر شاکر...
Read moreDetailsبیادگار رفتگان تحریر:راؤ محمدا کرم چشتی(سکندر آباد )ملتان مہینہ تاریخ دن ہماری زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن کچھ...
Read moreDetailsکون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک عفت وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا وہ تو بس گذرتا...
Read moreDetailsشب وروز زند گی قسط59 انجم صحرائی تھل ہو میو پیتھ کالج میں ایڈ مشن لینے والے پہلے سٹو ڈنٹ...
Read moreDetailsچائلڈ لیبر کا خاتمہ کب ہو گا معصوم بچے سکول کب جائیں گئے ؟؟؟؟؟ تحریر۔۔۔۔۔ محمد عمر شاکر پاکستان میں...
Read moreDetailsسا نحہ چک 105خصو صی رپورٹ سوئٹس دہشت گردی 23معصوم شہریوں کی ہلاکت ، ذمہ دار کون ؟ عبد الرحمن...
Read moreDetailsعشق عام ہوتا جا رہا ہے تحریر:انعام الحق ایک دوست نے لکھا ہے کہ آپ موجودہ سیاسی حالات پر کالم...
Read moreDetailsعلیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetails
سپریم کورٹ آف پاکستان ہائیکورٹس شیشن کورٹس سپیشل کورٹس آئی جی ڈی آئی جی آر پی ڈی پی او ڈی ایس پی کے سامنے مختلف مقدمات کی مثلیں پیش کرنا سیاسی نمائندوں پارلیمانی شخصیات کو بھی رام رکھنا عیدین کے موقع پر اپنے گھر سے کوسوں میل دور ٹریننگ کیمپوں میں مساجد سے باہرڈیوٹی دینا اور اپنے بچوں سے دور لوگوں کے بچوں کو نئے کپڑے پہنے اپنے والدین کی انگلی پکڑ کر نماز عید پڑھ کر واپس جانا حسرت بھری نگا ہوں سے دیکھنا اور نمناک آنکھوں سے اپنے بچوں اور گھرکو یاد کرنا الغرض ان حالات میں پولیس آفیسر فائلوں ہی میں گم رہتا ہے مگر شاہدرضوان چاندجس نے چوہدری محمد بشیرمہوٹہ کے گھرفتح پور کی فضاووں میں تیرہ مارچ انیس صد اکیاسی کو آنکھ کھولی ایم اے ایل ایل بی تک تعلیم حاصل کی اور معاشرے میں روائتی پولیس آفیسر بن کر رہنے کی بجائے محنتی جانفشا ں آفیسر بن کر محکمہ پولیس کا عوام میں مورال بلند کرنے اور اپنی زبان کی مٹھاس اور مظلوموں کی مدد کر کے پولیس اور عوام میں پیدا خلیج کم کرنے کے لئے کوشاں ہے ضلع بھر برسوں پرانے قتل کے کیس اغوا برائے تاوان ڈکیتی کے ملزمان جو کہ عرصہ دراز ٹریس نہیں ہورہے شاہدرضوان نے ٹریس کیے ملزمان گرفتار ہوئے اسکی پیشہ وارانہ قابلیت پر آئی جی پنجاب کی طرف سے خصوصی انعامات اور سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا شاہد رضوان نے روائتی پولیس بن کر زندگی گزارنے کی بجائے اپنے اندرکے چھپی ہوئی خدادادشاعری کی صلاحیت پر بھی کام کیا اس کی دو تصنیفات پہلاشاعری مجموعہ ا بھی تم لوٹ سکتے ہو اوردوسر ا شاعری مجموعہ زندگی اک اداس شام شائع ہو چکیں ہیں شاہد رضوان چاند کی تصنیفات کی تقریب رونما ئی سانول سنگت پاکستان اور پریس کلب چوک اعظم کے اشتراک سے میونسپل کمیٹی چوک اعظم کے جناح ہال میں منعقد ہونے والے تیسرے تھل میلہ میں کی گئی جس میں جنوبی پنجاب کی نامور ادبی شخصیات کیساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غازی صلاح الدین ڈپٹی ڈائریکٹر تعلقات عامہ رانا اعجاز محمود دانشور منور بلوچ نغمہ نگار منشی منظور جنرل سیکرٹری پریس کلب چوک اعظم محمد عمر شاکر اور پولیس آفیسران نے بھی شرکت کی جب کہ اس تقریب کا اہتمام نامور شاعر مصنف سانول سنگت پاکستان مرکزی عہدیدار ملک صابرعطا تھہیم نے کیا شاہد رضوان چاند محبت کی تلاش میں سرگرداں شاعر ہے حساس طبعیت کا شاعر اپنی عملی زندگی میں بھائی کے ہاتھوں بھائی کا قتل جوان اولاد کے ہاتھوں بوڑھے والدین کی تزلیل طاقت اور دولت کے نشے میں مست انسانوں میں حرص ولالچ دیکھتا ہے مگر پھربھی شاہدرضو ان مایوس نہیں وہ شاعری کے ذریعے محبت تقسیم کرتے ہوئے محبت کا متلاشی ہے منور بلوچ نے انسانوں کے درمیان نفرت کے تعلق پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اب قلم بھی مر رہا ہے میرے خیال میں قلم سے مراد انکا ادب ہے اور شاہد رضوان کو خراج پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انسان کے ساتھ ساتھ قلم مر رہا ہے انسان مر جائے تو شائد کام چلتا ہے مگر قلم کے مرنے سے ایک عہد کی موت ہے اس پر آشوب عہد
میں شاہد رضوان چاند بطور انسان اپنا رشتہ قلم سے قائم رکھے ہوئے ہے شاہد رضوان جانتا ہے اس میں زندگی ہے ،مسکراہٹیں ہیں ،سویرا ہے،بارشیں ہیں ،پھول ہیں،کلیاں اور جگنو ہیں ۔۔شاہد رضوان جانتا ہے جہاں جگنو زندہ رہتے ہیں وہاں اندھیرا ممکن نہیں۔۔۔
شاہد رضوان قلم سے شاعری اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہے شائد یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب پولیس سے پٹرولنگ پولیس میں گیا مگر پھر پنجاب پولیس میں واپس آگیا
شاہد رضوان چاند کو بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ادیب کالم نگار نا صر ملک نے سادہ لوح تخلیق کار کے نام سے منصوب کیا ہے
شاہد رضوان زندگی اک اداس شام میں حمد باری کا اختتام یوں کرتا ہے
عمل ہے پاس ان کے اب نہ کوئی اور راستہ ہے
تجھے اعجال سے صرف نظر کرنا پڑے گا
خدائے لم یزل اے مالک ملجا
تجھے ہی در گزر کرنا پڑے گا
دو شاعری کی کتابوں کا مصنف ہونے کے باوجودشاہد رضوان سراپا عاجزی انکساری میں ڈوبتے ہوئے میں اور میری شاعری میں لکھتا ہے کہ میں ابھی سیکھ رہا ہوں میری شاعری کی کتابیں ،میرے الفاظ ،میری سوچیں،میرے خیالات و افکار اہل علم و دانش اور عام قارئین کی نگاہ قبولیت پاکر انمول ہو جائیں یا تعمیری تنقید کی زد میں آ کر قابل اصلاح کا درجہ پاجائیں دونوں صورتوں میں میں خود کو کامیاب سمجھوں گا پہلی صورت میں مجھے ایک اور کامیاب کاوش پہ خوشی ہو گی دوسری صورت میں میرے اندر مزید سوچنے اور لکھنے کا جذبہ پیدا ہو گا
یہ ایک حقیقت ہے کہ پولیس کی سخت جانفشانی ملازمت کیساتھ ساتھ ایسے خوبصورت الفاظ میں شاعری لکھنا صرف چاند کا ہی کام ہے گجرات کی جنم مٹی کے سپوت تھل کے ریگزار میں مقیم شاہد رضوان نے ابھی محکمانہ طور پر شاہد رضوان مہوٹہ اور ادبی طور پر شاہد رضوان چاند کے نام سے ابھی کامیابی کی کئی منازل طے کرنا ہیں نسل نو کاوہ ایک تخلیق کار شاعر کے طور پر نمائندہ ہو گاجس لگن محبت او ر ولولے سے شاہد رضوان نے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے امید ہے کہ محکمہ پولیس کیساتھ ساتھ ادب کی دنیا میں بھی وہ اپنی منفرد پہچا ن بنا لے گا