HELp LINE with ANJUM SEHRAI محمد رمضان فریادی کی فریاد کون سنے گا ؟ لیہ (صبح پا کستان ) محلہ...
Read moreDetailsپسِ آئینہ عفت پاکستان میں چار موسموں کے علاوہ ایک موسم اور بھی ہوتا ہے جو فروری تا جون تک...
Read moreDetailsقصاب مافیا بمقابلہ ڈی سی او لیہ اور اجڑتی مٹن مارکیٹ تحریر۔۔ محمد عمر شاکر لالو کھیت مارکیٹ کراچی کا...
Read moreDetailsدو چیزیں ۔ ایک " ہار " اور دوسرا " خوف مقبول جنجو عہ اگر آپکے سامنے دو چیزیں ہوں۔...
Read moreDetailsنقطہ نظر لہو رَنگ وادی محمد عمار احمد کشمیر میں شبِ ظلمت کی ابتداء1846 میں گورے سرکار کے ہاتھوں اس...
Read moreDetailsسپہ سالارامن۔حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔۔۔ایک خوشبو کا سفر تبصرہ: حسیب اعجاز عاشر پاک ٹی ہاوس میں کئی...
Read moreDetailsز ہرِ ہلاہل عفت انسان کا خمیر مادی خواہشات سے اٹھا ہے ۔اس کی گھٹی میں کئی خواہشات کے پیمانے...
Read moreDetailsماں ولی تحریر : انجم صحرائی قارئین کرام ! آج میں جس شخصیت کے حوالے سے اپنی یادوں کو ترتیب...
Read moreDetailsروضۃ الاقطاب ۔۔۔ ازقلم: حسیب اعجاز عاشر علمی ، ادبی، سماجی و ثقافتی تنظیم جگنو انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ڈاکٹر...
Read moreDetailsچہء مگوئیاں عفت مرشد نے بارہا مجھے ایک ہی نصیحت کی کہ عام لوگوں کی بات کرو عام لوگوں کی...
Read moreDetailsلاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...
Read moreDetails
برادرم رؤف کلاسرہ صاحب سنئیر صحافی ہیں لیہ کی بستی جیسل کے اس سپوت پر اہلیان لیہ تو فخر کرتے ہی ہیں مگر بالخصوص جنوبی پنچاب کے پسماندہ عوام انہیں اپنا مسیحا سمجھتی ہے یہاں کے عام آدمی کا بھی یہی خیال ہے کہ کلاسرہ قلم کی طاقت سے ایسا انقلاب برپا کرئے گا جس سے اس علاقے کی برسوں سے قائم محرمیوں کا ازالہ ہو جائے گا مگر شائد وہ بھی کسی خوشی غمی پر لیہ بستی
بخاری کی بابت لکھا کہ وہ دوسرے ایم این ایز کو مبارکبادیں دے رہے تھے کہ ان علاقہ سے یہ میگا پراجیکٹ گزرے گا جس سے تعمیرو ترقی کے نئے دور کا احیاء ہو گامگران کے اپنے ضلع میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کلاسرہ صاحب نے چند ماہ قبل ایم ایم روڈ چوک اعظم میں بارشی پانی کی بابت لکھاوہ مسئلہ ابھی جوں کا توں ہے حکومتی نمائندوں کلی نا اہلی سمجھیں یہاں ریاستی اداروں کی ناقص پالیسیاں کہ فتح پو روڈ پر جہاں پانی کھڑا ہوتا ہے اندرون شہر میونسپل کمیٹی چوک اعظم کی اس کے مشرق میں وارڈ نمبر 6اور مغرب میں وارڈ نمبر دو اور چار آتیں ہیں اسی طرح لیہ روڈ پر جہاں پانی کھڑا ہوتا ہے وہاں شمالی سائیڈ پر وارڈ نمبر چار اور جنوبی سائیڈ پر واردڈ نمبر ایک کا حلقہ ہے چوک اعظم جو کہ ماضی میں پاکستان مسلم لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا تحریک نجات ہو یا مشرف حکومت کے خلاف اجتجاجی مظاہرہ مسلم لیگی قیادت کو ہمیشہ اس شہر سے بلا مشروط محبت کرنے والے جانثار ملے اس شہر میں مسلم لیگ کا صرف ٹکٹ ہی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا مگر حالیہ الیکشن میں ان تمام وارڈز میں پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ ہولڈر کو بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواران کامیاب ہوئے حالانکہ ریاستی سرپرستی میں یہاں کے ایم این اے سید ثقلین بخاری اور ایم پی اے سردار قیصر مگسی نے بھرپور اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم چلائی مگر پھر بھی مسلم لیگی امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا
اب صورت احوال یہ ہے کہ چوک منڈا سے فتح پور تک ہائی وے نے 1998ء میں چائنہ کمپنی کی تعمیر کردہ سڑک کو جگہ جگہ سے اکھاڑ دیا ہے جس کی وجہ سے آئے روز حادثات ہو رہے تین ایم این ایز اور سات ایم پی ایز کے حلقہ انتخاب سے گزرنے والے اس ایم ایم روڈ پر آئے روز حادثات ہورہے ہیں جس سے کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے ان گنت لوگ زخمی اور گاڑیوں کا مالی نقصان کا تو کوئی شمار نہیں اس پورے ایریے میں کوئی 1122کا اسٹینڈ نہیں کوئی ٹراما سنٹر نہیں چوک منڈا چوک اعظم اور فتح پور میں تحصیل لیول ہسپتال تو ہیں مگر ایمرجنسی میں ادویات مرہم پٹیاں نہیں ہیں یہ ہسپتال ریفر سنٹر بن چکے ہیں جہاں سے معمولی مریضوں کو بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز ہسپتال لیہ مظفر گڑھ بھیجا جاتااور سیریس مریضوں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا جاتاہے چوک اعظم تحصیل لیول ہسپتال میں تین ایمبولنسیں ہیں جن میں سے دو خراب اور ایک چالو حالت میں ہے ایمبولنس کے ڈرائیور کی سیٹ خالی ہے جبکہ ایم ایس کی کمال شفقت سے ایل مالی ڈرائیور کی ڈیوٹی سنبھالے ہوئے ہے, یہی حالت فتح پور اور چوک سرور شہید کے ہسپتالوں کی ہےآئے روز حادثات ہورہے مگر ڈی سی او لیہ ڈی سی او مظفر گڑھ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں نو منتخب بلدیاتی نمائندے ابھی تک اختیارات نہ ملنے کی وجہ سے گو مگو کی کیفیت کا شکار ہیں دوسری طرف ٹول پلازہ چوک سرور شہید اور ٹول پلازہ فتح پور پر روزانہ لاکھوں روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ہائی ویے کے آفیسران بھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ان حالات میں ارباب اختیار کو چوک اعظم کے بلدیاتی الیکشن کے رزلٹس کو دیکھ کر عوامی غیض و غضب کو قومی الیکشن سے بچنے کے لئے کچھ کرنا ہو گا
ایم ایم روڈ کی اکھاڑ پچھاڑ کا ذمہ دار کون ہے قیمتی جانوں کے نقصان کا قاتل کون ہے منتخب نمائندے ڈی سی اوز لیہ مظفر گڑھ یا یائی وے کے آفیسران فیصلہ کون کرے گا ؟ مگر یہاں تو حکمرانوں کے قاتلوں کا تعین نہیں ہوتا ٹریفک حادثات میں مارے جانے والے مسافروں کے مرنے کا ذمہ دار کون ہے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سید ثقلین بخاری کے پاس اس ضمن میں کوئی فنڈ ہے ایم این اے صاحبزادہ فیض الحسن قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اس بابت کوئی آواز بلند کرنے کی حمت رکھتے ہیں قیمتی جانوں اور مالی نقصان کا ذمہ دار کون اس سوال کا جواب کا انتظار رہے گا ۔۔۔۔۔۔