• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

نقطہ نظر…. لہو رَنگ وادی….. محمد عمار احمد

webmaster by webmaster
فروری 12, 2016
in First Page, کالم
0
نقطہ نظر…. لہو رَنگ وادی….. محمد عمار احمد
نقطہ نظر
لہو رَنگ وادی
محمد عمار احمد
508561982کشمیر میں شبِ ظلمت کی ابتداء1846 ؁میں گورے سرکار کے ہاتھوں اس جنت نظیر وادی کی گُلاب سنگھ کو فروخت سے ہوئی جس کی سحر ہونے کے آثار تاحال نظر نہیں آرہے۔گُلاب سنگھ نے اپنے نام کے بر عکس کشمیر کو نفرت و عصبیت سے بدبودار کرنے کی کوشش کی جس کے سبب کشمیر کے غیور مسلمان اس ظلم کے خلاف صف آرا ہوے اور آزادیِ کشمیر کی جُدو جہد کا آغاز کیا ۔یہ ظلم و ستم جاری رہا یہاں تک کہ تحریکِ پاکستان کاآغاز ہوا تو کشمیری عوام نے اس سوچ کے

تحت قیامِ پاکستان کے لئے جد وجہد میں حصہ لیا کہ شاید اس سے ہمیں اس ظلم و استبداد سے نجات مل جائے گی ۔قیامِ پاکستان کے بعدریاستِ کشمیر مسلم اکثریت ہونے کے سبب پاکستان کے ساتھ مُلحق ہونا تھی مگر یہاں کے راجہ نے بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا جس کی کشمیری عوام نے بھر پور مزاحمت کی ،ادھر بانیِ پاکستان قیام سے پہلے1946 ؁میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے تھے جبکہ جولائی 1947 ؁میں سردار ابراہیم خان کے گھر کشمیری عوام ’’قرار داد الحاق پاکستان‘‘ منظور کر چکے تھے ۔کشمیری راجہ کے بھارتی الحاق کے اعلان کی بھر پور مزاحمت کی گئی ۔بھارت بھی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظرکشمیر کو اپنا حصہ بنانے پر بضد رہا،یوں اگست 1947 ؁ میں مسلح جُدو جہد کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں موجودہ آزاد کشمیر بھارتی چنگل سے آزاد ہو کر پاکستان کے قریب ہوا جبکہ بقیہ حصہ تاحال ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ کے نام سے موسوم ہے جس کی عوام بھارت اور بھارت نواز حکمرانوں کے رحم و کرم پر اپنی پونے دو صدیوں کی جہدِ مسلسل جاری رکھے ہوے ہے اور تمام ظلم و جبر کو سہتے ہوئے عزیمت و استقا مت پر کاربند ہیں ۔
پاکستان روزِ اول سے ہی کشمیری عوام کے مؤقف کا حمایتی رہا اور عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے ،مگر نتیجہ ندارد۔ہماری سفارتی ناکامی ہے کہ ہم اب تک عالمی قوتوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے باوجود انہیں بھارت پر اس قرارداد پر عمل درآمد کے لئے دباؤ ڈالنے پر آمادہ نہیں کرسکے جسے خود بھارت نے اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا کہ ہم کشمیری عوام کو یہ حق دیتے ہیں کہ بھارت یا پاکستان سے الحاق کیلئے رائے شماری کی جائے اور اس کے نتایج تسلیم کئے جائیں گے ۔اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی تنظیمیں جو انسانی حقوق کے لئے کام کر رہی ہیں اور وہ ممالک جو انسانی حقوق کے ’’تحفظ ‘‘ کے لئے کئی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا چکے ہیں اور یہ سلسلہ شام میں اب تک جاری ہے وہ بھارتی مظالم پر خاموش ہیں اور بھارت کی بجائے پاکستان پر ہی دباؤ ڈالتے ہیں کہ خوشگوار تعلقات کے لئے اقدامات کرے۔وہ عالمی ضمیر جو سوات میں ایک ویڈیو کو دیکھتے ہی جاگ جاتا ہے بھارت میں پونے دوصدیوں سے ہو نیوالے مظالم پر نہیں جاگ رہا ،یہ عالمی طاقتیں سوڈان کو دو لخت کرا سکتی ہیں کہ وہاں آزادی مانگنے والے عیسائی تھے مگر کشمیر میں مسلمانوں کی آزادی کی جُدو جہد کی حمایت کی اخلاقی جر ات نہیں کر سکے۔
اس طویل جُد وجہد کے باوجود کشمیری آج بھی غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ،پاکستان کی حمایت کے سبب ان پر مظالم اور بڑھائے جاتے ہیں تاکہ کشمیری عوام پاکستان سے الحاق کے مطالبے سے دستبردار ہو جائے مگر تمام تر مظالم کے باوجود کشمیری غیرت مند قوم کے طور پر استقامت کے ساتھ اپنے مطالبے کو دہرا رہے ہیں جس کی قیمت بہت مہنگی ہے ۔ اس مسئلہ کے سبب ہی پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ معاملہ مستقل طور پر درد سر بن چکا ہے جس کے حل کا ایک راستہ یہ ہے کہ پاکستان عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کرے کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کرنے پر مجبور کرے اور اگر بھارت اس پر آمادہ نہیں ہوتا تو پھر بھارت کے خلاف پاکستان بھی اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں فوج تعینات کر ے جیسے بھارتی فوج وہاں موجود ہے اور جنگ کے ذریعے کشمیر کو بھارتی چنگل سے آزاد کرا ئے نہ کہ کسی مسلح لشکر کو پراکسی کے طور پر وہاں جہاد کے لئے بھیجے ۔تیسرا پر امن ،معتدل اور کشمیریوں کے بہتر ین مفاد میں حل یہ ہے کہ پاکستان’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘جیسے جذباتی نعرے کو ترک کر کے کشمیری عوام کو اعتماد میں لے کر کشمیر سے دستبرداری کا اعلان کر ے اور عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرے اور کشمیر کو ایک علیحدہ خود مختار ریاست کے طورپر تسلیم کیا جائے ۔اس پر کشمیری عوام کو تحفظات ہوں تو انہیں دور کیا جائے اور سمجھایا جائے کہ پاکستان کی کشمیر کو شہ رگ کہنے اور کشمیریوں کی پاکستان سے الحاق کی خواہش بھارتی مظالم میں شدت کا سبب بنتی ہے اس لئے کشمیر کو کشمیر رہنے دینے میں ہی عافیت ہے ۔
Ammar Ahmad
Muhammad Ammar Ahmad
Cell Num. 0307-6892179

نوٹ ، نقطہ نظر کے عنوان سے شا ئع ہو نے والے کالم اور مضا مین سے ادارہ صبح پا کستان لیہ کا متفق ہو نا ضروری نہیں ۔۔۔

 

Tags: urdu column by mohammad ammar ahmad
Previous Post

لیہ ۔ دریائے سندھ پر بکھری احمد خان کے مقام پر بنایا گیا سٹڈ بند کا 90 فیصد حصہ دریا برد

Next Post

کراچی ۔ القاعدہ برصغیر اور لشکر جھنگوی کا بڑا گینگ گرفتار کر لیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

Next Post

کراچی ۔ القاعدہ برصغیر اور لشکر جھنگوی کا بڑا گینگ گرفتار کر لیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
نقطہ نظر لہو رَنگ وادی محمد عمار احمد 508561982کشمیر میں شبِ ظلمت کی ابتداء1846 ؁میں گورے سرکار کے ہاتھوں اس جنت نظیر وادی کی گُلاب سنگھ کو فروخت سے ہوئی جس کی سحر ہونے کے آثار تاحال نظر نہیں آرہے۔گُلاب سنگھ نے اپنے نام کے بر عکس کشمیر کو نفرت و عصبیت سے بدبودار کرنے کی کوشش کی جس کے سبب کشمیر کے غیور مسلمان اس ظلم کے خلاف صف آرا ہوے اور آزادیِ کشمیر کی جُدو جہد کا آغاز کیا ۔یہ ظلم و ستم جاری رہا یہاں تک کہ تحریکِ پاکستان کاآغاز ہوا تو کشمیری عوام نے اس سوچ کے
تحت قیامِ پاکستان کے لئے جد وجہد میں حصہ لیا کہ شاید اس سے ہمیں اس ظلم و استبداد سے نجات مل جائے گی ۔قیامِ پاکستان کے بعدریاستِ کشمیر مسلم اکثریت ہونے کے سبب پاکستان کے ساتھ مُلحق ہونا تھی مگر یہاں کے راجہ نے بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا جس کی کشمیری عوام نے بھر پور مزاحمت کی ،ادھر بانیِ پاکستان قیام سے پہلے1946 ؁میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے تھے جبکہ جولائی 1947 ؁میں سردار ابراہیم خان کے گھر کشمیری عوام ’’قرار داد الحاق پاکستان‘‘ منظور کر چکے تھے ۔کشمیری راجہ کے بھارتی الحاق کے اعلان کی بھر پور مزاحمت کی گئی ۔بھارت بھی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظرکشمیر کو اپنا حصہ بنانے پر بضد رہا،یوں اگست 1947 ؁ میں مسلح جُدو جہد کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں موجودہ آزاد کشمیر بھارتی چنگل سے آزاد ہو کر پاکستان کے قریب ہوا جبکہ بقیہ حصہ تاحال ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ کے نام سے موسوم ہے جس کی عوام بھارت اور بھارت نواز حکمرانوں کے رحم و کرم پر اپنی پونے دو صدیوں کی جہدِ مسلسل جاری رکھے ہوے ہے اور تمام ظلم و جبر کو سہتے ہوئے عزیمت و استقا مت پر کاربند ہیں ۔ پاکستان روزِ اول سے ہی کشمیری عوام کے مؤقف کا حمایتی رہا اور عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے ،مگر نتیجہ ندارد۔ہماری سفارتی ناکامی ہے کہ ہم اب تک عالمی قوتوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے باوجود انہیں بھارت پر اس قرارداد پر عمل درآمد کے لئے دباؤ ڈالنے پر آمادہ نہیں کرسکے جسے خود بھارت نے اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا کہ ہم کشمیری عوام کو یہ حق دیتے ہیں کہ بھارت یا پاکستان سے الحاق کیلئے رائے شماری کی جائے اور اس کے نتایج تسلیم کئے جائیں گے ۔اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی تنظیمیں جو انسانی حقوق کے لئے کام کر رہی ہیں اور وہ ممالک جو انسانی حقوق کے ’’تحفظ ‘‘ کے لئے کئی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا چکے ہیں اور یہ سلسلہ شام میں اب تک جاری ہے وہ بھارتی مظالم پر خاموش ہیں اور بھارت کی بجائے پاکستان پر ہی دباؤ ڈالتے ہیں کہ خوشگوار تعلقات کے لئے اقدامات کرے۔وہ عالمی ضمیر جو سوات میں ایک ویڈیو کو دیکھتے ہی جاگ جاتا ہے بھارت میں پونے دوصدیوں سے ہو نیوالے مظالم پر نہیں جاگ رہا ،یہ عالمی طاقتیں سوڈان کو دو لخت کرا سکتی ہیں کہ وہاں آزادی مانگنے والے عیسائی تھے مگر کشمیر میں مسلمانوں کی آزادی کی جُدو جہد کی حمایت کی اخلاقی جر ات نہیں کر سکے۔ اس طویل جُد وجہد کے باوجود کشمیری آج بھی غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ،پاکستان کی حمایت کے سبب ان پر مظالم اور بڑھائے جاتے ہیں تاکہ کشمیری عوام پاکستان سے الحاق کے مطالبے سے دستبردار ہو جائے مگر تمام تر مظالم کے باوجود کشمیری غیرت مند قوم کے طور پر استقامت کے ساتھ اپنے مطالبے کو دہرا رہے ہیں جس کی قیمت بہت مہنگی ہے ۔ اس مسئلہ کے سبب ہی پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ معاملہ مستقل طور پر درد سر بن چکا ہے جس کے حل کا ایک راستہ یہ ہے کہ پاکستان عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کرے کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کرنے پر مجبور کرے اور اگر بھارت اس پر آمادہ نہیں ہوتا تو پھر بھارت کے خلاف پاکستان بھی اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں فوج تعینات کر ے جیسے بھارتی فوج وہاں موجود ہے اور جنگ کے ذریعے کشمیر کو بھارتی چنگل سے آزاد کرا ئے نہ کہ کسی مسلح لشکر کو پراکسی کے طور پر وہاں جہاد کے لئے بھیجے ۔تیسرا پر امن ،معتدل اور کشمیریوں کے بہتر ین مفاد میں حل یہ ہے کہ پاکستان’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘جیسے جذباتی نعرے کو ترک کر کے کشمیری عوام کو اعتماد میں لے کر کشمیر سے دستبرداری کا اعلان کر ے اور عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرے اور کشمیر کو ایک علیحدہ خود مختار ریاست کے طورپر تسلیم کیا جائے ۔اس پر کشمیری عوام کو تحفظات ہوں تو انہیں دور کیا جائے اور سمجھایا جائے کہ پاکستان کی کشمیر کو شہ رگ کہنے اور کشمیریوں کی پاکستان سے الحاق کی خواہش بھارتی مظالم میں شدت کا سبب بنتی ہے اس لئے کشمیر کو کشمیر رہنے دینے میں ہی عافیت ہے ۔
Ammar Ahmad
Muhammad Ammar Ahmad Cell Num. 0307-6892179 نوٹ ، نقطہ نظر کے عنوان سے شا ئع ہو نے والے کالم اور مضا مین سے ادارہ صبح پا کستان لیہ کا متفق ہو نا ضروری نہیں ۔۔۔
 
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.