انڈین لیڈی ڈاکٹر پاکستانی شہری اور حاکم وقت غیر معمولی واقعات بعض و اوقات سنگین مسائل کا پیش خیمہ بنتے...
Read moreDetailsعفت کی کچھ الجھی سلجھی باتیں ۔۔ عفت چاچا دینو ہمارا پڑوسی ہوا کرتا تھا ،ہماری بلڈنگ کے سامنے لبِ...
Read moreDetailsپاکستا ن برائے فروخت تحریر :۔محمد شہروز ایک شخص کو بڑی پراسرار سی تکلیف لاحق ہوئی وہ بائیں ہاتھ کی...
Read moreDetailsشب و روز زند گی قسط 52 تحریر ۔ انجم صحرائی باتیں کوٹ سلطان کی ۔۔۔۔ بچپن کے دن بھی...
Read moreDetailsافریقہ میں پاکستانی پھنسے ہیں تو پھنسے رہیں تحریر:انعام الحق گذشتہ کافی دنوں سے افریقہ کے مختلف ممالک میں پاکستانیوں...
Read moreDetailsگستاخان نبی صلی اللہ علیہ وصلعم کوبتلادو شاہداقبال شامی دنیا میں 4قیمتی چیزیں جومحبت کے قابل ہیں، مال، جان،آبرو اور...
Read moreDetailsمٹی کا گھڑا۔۔۔ جس کا نام لیتے ہی تازگی کا احساس دل میں جنم لیتاہے۔۔۔ ٹھنڈا ٹھنڈا پانی عجب تازگی...
Read moreDetailsعلم کا ایک دریچہ الائیڈ سکول چوک اعظم تحریر ؛ عفت قوموں کی ترقی میں علم و ہنر کی اہمیت...
Read moreDetailsشب و روز زند گی قسط 51 تحریر ۔۔ انجم صحرائی باتیں کوٹ سلطان کی ۔۔۔ میں شائد پہلے کہیں...
Read moreDetailsSubah.e.pakistan layyah . most viewed video is about Trauma Hospital more then 5000 peoples https://www.facebook.com/Subh-e-Pakistan-Layyah-210852205614890/videos
Read moreDetailsلاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...
Read moreDetails
امینہ بی کافی دن سے نظر نہیں آ رہی تھی ۔ورنہ وہ تو دن میں ایک دفعہ تو لازما چکر لگاتی تھی ۔بیٹھے بیٹھے باتوں باتوں میں وہ کئی کام نبٹا تی جاتی ۔میں نے اسے کبھی فارغ بیٹھے نہ دیکھا تھا ۔اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر ہوتا جس میں کبھی اون سلائیاں اور کبھی سوت کا کھیس ہوتا جس کے دھاگے بٹتی نظر آتی ۔زبان کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ بھی تیزی سے چلتے ۔باتیں کرتے کرتے وہ میرے ہاتھ سے چھری لے لیتی اور فٹا فٹ سبزی بنا دیتی ۔میرا اس سے تعارف دو سال پہلے ہوا تھا وہ
صبح کے سات بجنے والے تھے میں تیزی سے ناشتہ بنانے میں مصروف تھی ۔بیٹی نے یونیورسٹی جانا تھا اس کا پوائنٹ سوا سات تک آجاتا تھا بیٹے کو اسکول جانا تھا ساتھ مجھے بھی سو یہ وقت بھاگ دوڑ میں گذرتا ۔ڈور بیل بجی ۔میں نے کچن سے ہانک لگائی دروازے پہ کوئی ہے دیکھیں ۔کوئی نہیں ہلا آخر ایک ہاتھ میں آٹے کا پیڑا تھامے بڑبڑاتے ہوئے مجھے ہی جانا پڑا دروازہ کھولا تو سامنے امینہ بی کی چھوٹی بیٹی کھڑی تھی ۔آپ کو اماں نے بلایا ہے اس نے سلام کے بعد پیغام دیا ۔اچھا میں دو بجے آؤں گی اس وقت بہت مصروف ہو ں اسکول سے واپسی پہ چکر لگاؤں گی بینا کی شادی ہو گئیَ ؟ میں نے رانی سے پوچھا ؟ ہاں جی اماں بیمار ہو گئی تھی آپریشن ہوا تھا اب ٹھیک ہے ۔بابر بھائی کو اماں نے سلامی میں موٹر سائیکل دی اور مکان کے لیے پچاس ہزار بھی ۔رانی نے للچائی نظروں سے سیب کی طرف دیکھتے ہوئے انکشاف کیا ۔میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کرتے سیب اس کے ہاتھ میں دے دیا ۔مجھے سخت حیرانی اور تجسس تھا مگر رانی میرے کچھ اور پوچھنے سے قبل ہی سیب لے کر اڑنچھو ہو گئی ۔میں بھی جلدی جلدی کام نبٹانے لگی اسکول میں پڑھاتے وقت بھی میرے دماغ پہ رانی کی باتیں سوار رہیں ۔واپسی پہ میں نے امینہ بی کے گھر کا رخ کیا ۔عبدل گھر کے سامنے بیٹھا تھا مجھے دیکھتے سلام کیا اور بیساکھی سیدھی کرتے اٹھ کھڑا ہوا آئیں بی بی جی ۔میں نے سلام کا جواب دیا اور اندر آگئی ۔بجلی حسبِ معمول ندارد تھی کمرے میں تاریکی کا احساس دھوپ سے آنے پہ ہوا چند لمحوں کے بعد میری نظر چارپائی پہ لیٹی امینہ بی پہ پڑی وہ بہت کمزور ہو گئی تھی مجھے دیکھ کر ایک پھیکی سی مسکراہٹ اس کے سپید ہونٹوں پہ آ کر دم توڑ گئی میں سامنے بستر پہ بیٹھ گئی اور اس کا حال دریافت کیا میری بے چینی شاید اس نے بھانپ لی تھی۔باجی سب وہ نہیں ہوتا جو ہمیں دکھائی دیتا ہے بینا کی مہندی والے دن مجھ پہ بابر اور اس کے گھر والوں کی حقیقت کھلی انہوں نے پچاس ہزار اور موٹر سائیکل کا مطالبہ کیا ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے سب بینا کا ہے کونسا ہم نے استعمال کرنا ۔میں نے بہت منت ترلے مارے اس کے ابے نے بھی کہ ہم اتنے جوگے نہیں پر وہ ہمیں رشتہ ختم کرنے کی دھمکی دینے لگے تب میں نے بینا کی زندگی بربادی سے بچانے کے لئے ایک فیصلہ کیا ۔اتنا بتا کر امینہ بی ہانپ گئی ۔کیسا فیصلہ ؟ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ۔امینہ بی نے ہمت مجتمع کرتے ہوئے کہا۔باجی میں نے اپنا گردہ بیچ دیا ۔میری بینا کا گھر بس گیا اور کیا چاہیے تھا ۔باجی اگر میں ایسا نہ کرتی تو رشتہ ختم ہونے کے بعد کون کرتا میری بینا سے بیاہ؟؟؟