• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

افریقہ میں پاکستانی پھنسے ہیں تو پھنسے رہیں … تحریر:. انعام الحق

webmaster by webmaster
مارچ 6, 2016
in First Page, کالم
0
افریقہ میں پاکستانی پھنسے ہیں تو پھنسے رہیں … تحریر:. انعام الحق
افریقہ میں پاکستانی پھنسے ہیں تو پھنسے رہیں
تحریر:انعام الحق
naamiگذشتہ کافی دنوں سے افریقہ کے مختلف ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداداپنی بُنیادی شناخت یعنی پاسپورٹ کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا کر رہی ہے جوکہ اب ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔اس مسئلے کا تعلق پاکستانی پاسپورٹ کی اہمیت سے نہیں ہے بلکہ پاسپورٹ نہ ہونے یا اُسکی معیاد ختم ہونے سے ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہاتھ سے لکھے گئے پاکستانی پاسپورٹ کو آہستہ آہستہ تمام
ممالک مسترد کرتے جا رہے ہیں۔تمام بڑے ممالک ایک لمبا عرصہ قبل ہی ہاتھ سے لکھے گئے

پاسپورٹ کو مسترد کر چکے ہیں۔اب وہ ممالک جو درجے کے لحاظ سے پاکستان سے بھی کئی گنا نیچے ہیں اُنہوں نے بھی ہاتھ سے لکھے ہوئے پاسپورٹ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
ایسے میں پاکستان حکومت کا اولین فرض یہ ہونا چاہئے کہ متعلقہ علاقہ میں موجود پاکستانی ایمبیسی کو ڈیجیٹل پاسپورٹ بنانے والی مشین فوری مہیاء کریں۔لیکن ہمارے ملک کے اہم ترین حکمران نہ صرف سر کے بالوں سے محروم ہیں بلکہ عقل اور شعور سے بھی محروم ہیں۔پاکستان میں کروڑوں روپے کے بے شمار منصوبوں کی طرف توجہ تو ہے، لیکن اس بات کی پرواہ نہیں کہ پاکستان کی تیسری بڑی طاقت یعنی اوورسیز پاکستانیوں کو تحفظ کیسے فراہم کیا جائے۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی24نومبر2015کے بعد سے حکومتیں ہاتھ سے لکھے پاسپورٹ کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گی یہ جانتے ہوئے بھی حکومتِ وقت دُنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں میں ڈیجیٹل پاسپورٹ مشینیں مہیاء نہیں کر سکی۔جبکہ اگر پاکستانی سفارتخانوں کے عملے میں کسی چپڑاسی کو بھی دیکھ لیں تو وہ منسٹر سے کم نخرے نہیں کرتا۔
افریقی ملک سینی گال میں موجود پاکستانی سفارتخانہ حکومتِ وقت کو متعدد بار یہ درخواست کر چکا ہے کہ افریقہ کے مختلف ممالک میں بے شمار ایسے پاکستانی موجود ہیں جنہیں فوری ڈیجیٹل پاسپورٹ فراہم کرنا بہت ضروری ہیں۔لیکن وزارتِ داخلہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے کوئی بھی خوش آئین خبر یا کوئی اُمید نظر نہ آنے کے بعد وہاں موجود پاکستانیوں نے یہ سوچا کہ میڈیا سے رابطہ کیا جائے۔لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ برطانوی اخبارروزنامہ یوکے ٹائمز لندن کے علاوہ ابھی تک پاکستانی میڈیا کو توفیق نہیں ہوئی کہ اُن ہزاروں پاکستانیوں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے،کو خبروں میں تھوڑی سی جگہ دے دیں۔
میرا خیال ہے میاں برادران کے لئے صرف لاہور پورا پاکستان ہے اور لندن پوری دُنیا ،کیونکہ چھوٹے میاں صاحب لاہور کے علاوہ کچھ سوچتے نہیں اور بڑے میاں صاحب کو لندن(برطانیہ) کے علاوہ کسی ملک کی یاد نہیں آتی یا شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پوری دُنیا کے اوورسیز پاکستانی صرف لندن میں ہی رہتے ہیں جنہیں ہر قسم کی سہولیات دینازیادہ ضروری ہے۔عربوں کے منصوبے اپنے پیٹ بھرنے کے لئے شروع ہونے جارہے ہیں لیکن اتنہائی شرم اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی اپنی بُنیادی شناخت سے محروم ہیں۔میاں صاحب!کوئی شرم ہوتی ہے۔۔۔کوئی حیاء ہوتی ہے۔۔۔!!!ہزاروں خواتین اور چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اپنی بُنیادی شناخت کی وجہ سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور آپ لوگ پیلی ٹیکسی، گرین بس اور’اورنج ٹرین‘کے منصوبوں سے اپنے پیٹ بھرنے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔

Previous Post

جسٹس شہباز رضا رضوی نے لا ہور ہا ئی کورٹ کے مستقل جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

Next Post

شب و روز زند گی قسط 52 …. تحریر ۔ انجم صحرائی

Next Post
اداریہ  …   جزل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر تر قی دی جا ءے

شب و روز زند گی قسط 52 .... تحریر ۔ انجم صحرائی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ
صبح پاکستان

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

by webmaster
اپریل 20, 2026
0

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...

Read moreDetails
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
ڈیرہ غازی خا  ن   ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ڈیرہ غازی خا ن ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

اپریل 11, 2026
ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

اپریل 10, 2026
پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

پاکستان کی امن کو ششیں کا میاب ۔ امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں آج ہوں گے

اپریل 10, 2026
افریقہ میں پاکستانی پھنسے ہیں تو پھنسے رہیں تحریر:انعام الحق naamiگذشتہ کافی دنوں سے افریقہ کے مختلف ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداداپنی بُنیادی شناخت یعنی پاسپورٹ کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا کر رہی ہے جوکہ اب ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔اس مسئلے کا تعلق پاکستانی پاسپورٹ کی اہمیت سے نہیں ہے بلکہ پاسپورٹ نہ ہونے یا اُسکی معیاد ختم ہونے سے ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہاتھ سے لکھے گئے پاکستانی پاسپورٹ کو آہستہ آہستہ تمام
ممالک مسترد کرتے جا رہے ہیں۔تمام بڑے ممالک ایک لمبا عرصہ قبل ہی ہاتھ سے لکھے گئے
پاسپورٹ کو مسترد کر چکے ہیں۔اب وہ ممالک جو درجے کے لحاظ سے پاکستان سے بھی کئی گنا نیچے ہیں اُنہوں نے بھی ہاتھ سے لکھے ہوئے پاسپورٹ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان حکومت کا اولین فرض یہ ہونا چاہئے کہ متعلقہ علاقہ میں موجود پاکستانی ایمبیسی کو ڈیجیٹل پاسپورٹ بنانے والی مشین فوری مہیاء کریں۔لیکن ہمارے ملک کے اہم ترین حکمران نہ صرف سر کے بالوں سے محروم ہیں بلکہ عقل اور شعور سے بھی محروم ہیں۔پاکستان میں کروڑوں روپے کے بے شمار منصوبوں کی طرف توجہ تو ہے، لیکن اس بات کی پرواہ نہیں کہ پاکستان کی تیسری بڑی طاقت یعنی اوورسیز پاکستانیوں کو تحفظ کیسے فراہم کیا جائے۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی24نومبر2015کے بعد سے حکومتیں ہاتھ سے لکھے پاسپورٹ کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گی یہ جانتے ہوئے بھی حکومتِ وقت دُنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں میں ڈیجیٹل پاسپورٹ مشینیں مہیاء نہیں کر سکی۔جبکہ اگر پاکستانی سفارتخانوں کے عملے میں کسی چپڑاسی کو بھی دیکھ لیں تو وہ منسٹر سے کم نخرے نہیں کرتا۔ افریقی ملک سینی گال میں موجود پاکستانی سفارتخانہ حکومتِ وقت کو متعدد بار یہ درخواست کر چکا ہے کہ افریقہ کے مختلف ممالک میں بے شمار ایسے پاکستانی موجود ہیں جنہیں فوری ڈیجیٹل پاسپورٹ فراہم کرنا بہت ضروری ہیں۔لیکن وزارتِ داخلہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے کوئی بھی خوش آئین خبر یا کوئی اُمید نظر نہ آنے کے بعد وہاں موجود پاکستانیوں نے یہ سوچا کہ میڈیا سے رابطہ کیا جائے۔لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ برطانوی اخبارروزنامہ یوکے ٹائمز لندن کے علاوہ ابھی تک پاکستانی میڈیا کو توفیق نہیں ہوئی کہ اُن ہزاروں پاکستانیوں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے،کو خبروں میں تھوڑی سی جگہ دے دیں۔ میرا خیال ہے میاں برادران کے لئے صرف لاہور پورا پاکستان ہے اور لندن پوری دُنیا ،کیونکہ چھوٹے میاں صاحب لاہور کے علاوہ کچھ سوچتے نہیں اور بڑے میاں صاحب کو لندن(برطانیہ) کے علاوہ کسی ملک کی یاد نہیں آتی یا شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پوری دُنیا کے اوورسیز پاکستانی صرف لندن میں ہی رہتے ہیں جنہیں ہر قسم کی سہولیات دینازیادہ ضروری ہے۔عربوں کے منصوبے اپنے پیٹ بھرنے کے لئے شروع ہونے جارہے ہیں لیکن اتنہائی شرم اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی اپنی بُنیادی شناخت سے محروم ہیں۔میاں صاحب!کوئی شرم ہوتی ہے۔۔۔کوئی حیاء ہوتی ہے۔۔۔!!!ہزاروں خواتین اور چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اپنی بُنیادی شناخت کی وجہ سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور آپ لوگ پیلی ٹیکسی، گرین بس اور’اورنج ٹرین‘کے منصوبوں سے اپنے پیٹ بھرنے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.