گرم مرغی اور ٹھنڈی مرغی تحریر عفت دو سموسے دینا ،چٹنی زرا ذیادہ ہو ۔ایک بڑی گول گپے کی پلیٹ...
Read moreDetailsمثالِ سبزہ، مثالِ خوشبو۔۔ انتظار حسین یہاں پہ اس سا نہیں ہے کوئی۔۔ادب کی دنیا میں وہ جدا تھا ازقلم:...
Read moreDetailsنوجوان طبقہ اور ملک و قوم کی بقاء تحریر۔ مولانامحمدصدیق مدنی۔ چمن ہمارا پیارا وطن پاکستان ہے جو 14 اگست...
Read moreDetailsتعلیم شعور دینے میں ناکام کیوں ۔؟ محمد عمار احمد علم جہالت کو مٹاتا ہے اور انسان کو شعور بخشتا...
Read moreDetailsکرب تحریر ۔۔ عفت امینہ بی کافی دن سے نظر نہیں آ رہی تھی ۔ورنہ وہ تو دن میں ایک...
Read moreDetailsشب و روز زند گی قسط 53 انجم صحرائی کوٹ سلطان کے اس دور کی دیگر شخصیات میں چیئرمین غلام...
Read moreDetailsصاحب طرز ادیب شاعر نوجوان پولیس آفیسر شاہد رضوان مہوٹہ کے حالات وخیالات ملاقات ۔ محمد صابر عطاء تھہیم ہمارا...
Read moreDetailsشہر کے سنگین مسا ئل اور اقتدار کی فضول جنگ تحریر ۔ محمد عمر شاکر جنگ کوئی بھی ہو اس...
Read moreDetailsانڈین لیڈی ڈاکٹر پاکستانی شہری اور حاکم وقت غیر معمولی واقعات بعض و اوقات سنگین مسائل کا پیش خیمہ بنتے...
Read moreDetailsعفت کی کچھ الجھی سلجھی باتیں ۔۔ عفت چاچا دینو ہمارا پڑوسی ہوا کرتا تھا ،ہماری بلڈنگ کے سامنے لبِ...
Read moreDetailsراولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...
Read moreDetails
قائد اعظم بذریعہ ٹرین فرنٹئیر میل لاہور پہنچتے ہیں ۔لاہور کے منٹو پارک میں ہر طرف سر ہی سر نظر آ رہے ہیں ۔یہ اجتماع مسلمانوں کے اخوت اور بھائی چارے ،تہذیب و تمدن کا جاوداں ثبوت ہے ۔قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی آمد کا منظر نگاہوں کے لیے خیرہ کن ہے ۔ دونوں نے شیروانیاں زیبِ تن کر رکھی ہیں ،صدیق علی خان کی قیادت میں مسلم لیگ کے چاق چوبند گارڈ انہیں اپنے جلو میں لیکر ڈائس تک پہنچتے ہیں ۔اے کے فضل الحق،چوہدری خلیق الزماں ،بہادر یار جنگ ،مولانا ظفر علی خان بھی اس اہم ترین تاریخی موڑ پہ موجود ہیں ۔بیگم مولانا محمد علی جوہر سر تا پا کالے برقعے میں موجود اس بات کا احساس کے ساتھ کہ خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ قدم بہ قدم ہیں ۔اس اجلاس کا
۱۹۳۶ میں جو انتخاب ہوئے ان میں مسلمانوں کو بری طرح ذلت کا سامنا کرنا پڑا اور اس دعوے کو شدید زک پہنچی کہ مسلم لیگ بر صغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے لہذا مسلمانوں کی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور ان کی بے بسی کا عجب عالم تھا غرض ہندوستان کے کسی صوبے کا اقتدار نہ ملا ۔اٹھارویں صدی میں مغرب میں قوم اور قومی ریاستوں کے تصور کے ظہور سے قبل ہی ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں تھیں مگر ۱۸۵۸ میں تاج برطانیہ نے دونوں کو ایک قوم قرار دے کر حکمرانی شروع کی تو ہندوستان کے مسلمان اپنے تشخص کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے (مسلم وقف الاولاد قانون کی برطانوی ہند میں منسوخی اور قائد اعظم کی
۱۹۳۱ میں اس کی بحالی اس امر کی مثال ہے اور یہی اصل میں قراردادِپاکستان کی بنیاد بنی جس نے مسلمانوں کے مستقبل کا تعین کیا ۔۲۳ مارچ ۱۹۴۰ میں مسلم لیگ کے اجلاس میں جو قرارداد منظور ہوئی وہ در حقیقت علامہ اقبال کی کاوشِ کاملہ کا نتیجہ تھی ،جو انہوں نے مئی۱۹۳۶ سے نومبر ۱۹۳۷ کے عرصے میں قائد اعظم سے بذریعہ خط وکتابت گفت وشنید کی تھی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کریں اور جلد از جلد مسلم اکثریتی علاقے لاہور میں مسلم لیگ کا اجلاس منعقد کریں ۔آل انڈیا مسلم لیگ کا ستایئسواں سالانہ اجلاس منٹو پارک میں منعقد ہوا جو ۲۲ مارچ سے ۲۴ مارچ تک جاری رہا ۔اس جگہ یادگارِ پاکستان تعمیر ہے ۔اور بالاآخر ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو وہ تاریخی لمحہ آگیا جب آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور کے تاریخی اجتماع میں ہندوستان کے شمال مشرقی اور مغربی جہاں مسلم اکثریت تھی ان پہ مشتمل الگ ریاست کا مطالبہ کیا ۔اسے قائد اعظم اور سکندر حیات نے تیار کیا اور ۲۲ مارچ کو پیش کیا ظفر علی خان نے اس کا اردو ترجمہ کیا اور اسے صوبہ بنگال کے اے ۔کے فضل الحق نے کھلے اجلاس میں پیش کیا۔ قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے بیگم مولانا جوہر نے سب سے پہلے قرارداد پاکستان کا لفظ استعمال کیا۔ ہندوستان کی تقسیم قبل ہی 1941سے ہی23مارچ کو بطورِ یوم پاکستان منانا شروع کر دیا گیا تھا۔ قرار داد بعد ازاں قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔
لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی تھے۔ 1943میں قائد نے اپنی ایک تقریر میں پاکستان کا لفظ قبول کر کے اسے قرارداد پاکستان قرار دیا۔آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ اجلاس کے اختتام پہ وہ تاریخی قرار داد منظور ہو گئی اور سات برس بعد پاکستان قرارداد کی حقیقی شکل میں سامنے آیا ۔یہ کہانی کوئی عام کہانی نہیں ایک جہدِمسلسل اور قربانیوں کی لمبی داستان ہے کہ ایک مردِ مجاہد کی قیادت نے ہمیں ایک آزاد وطن دیا ۔اور آج جب ہم اس وطن میں آزادی سے سانس لے رہے تو ہم سوچتے ہیں کس دن کو منائیں کس کو نہ منائیں ہم ویلنٹائن ڈے تو منا سکتے مگر اپنے قائد کے ڈے کو نہیں کوئی تجدیدِ عہد نہیں فقط واویلا تو محض کہ شکر ہے کل کی چھٹی ہے ۔