میں مد ینے چلا ۔ ۔ تحریر ۔۔ انجم صحرائی
سال 2012/13کی بات ہے ، اچانک ایک دن بلاوے کا حکم ملا ۔ نعمان ان دنوں بسلسلہ ملازمت کویت سے ...
سال 2012/13کی بات ہے ، اچانک ایک دن بلاوے کا حکم ملا ۔ نعمان ان دنوں بسلسلہ ملازمت کویت سے ...
یہ ساٹھ سال پہلے کی بات ہے بجلی نام کی کوئی شے گاؤں میں نہیں تھی اس زمانے میں ، ...
یہ سو چتے سو چتے مجھے ایک بار پھر نیند نے آ دبو چا اور میں گھوڑے بیچ کر سو ...
وہ دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اس کے چہرے پر تھکن اور پر یشانی نمایاں تھی میں اسے دیکھ ...
رات کے دو ڈھائی کا ٹائم ہو گا جب میں نے آ نکھیں کھو لیں یعنی جب مجھے ہو ش ...
اس وقت میری حالت دیدنی تھی مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ ...
واہ کیا بے شرمی ہے ، ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہو تی ہے ۔۔ بابے نے میری سوچ پڑھتے ...
اس نے ایک لمبی سی سا نس لی اور بو لتے بو لتے رک گیا اور سستانے کے انداز میں ...
سر! آپ ایف ایم جوائن کریں ضیاء اللہ بزدار حسب عادت دو نوں ہا تھوں کو اپنی جھولی میں رکھ ...
آج کوٹ سلطان کی مسجد فیضان مدینہ میں شہر کی معروف علم دوست ماسٹر سلطان خان فیملی کے چشم چراغ ...
اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال...
Read moreDetailsسال 2012/13کی بات ہے ، اچانک ایک دن بلاوے کا حکم ملا ۔ نعمان ان دنوں بسلسلہ ملازمت کویت سے سعودی عرب شفٹ ہو ئے تھے اور ریاض میں مقیم تھے ۔ کہنے لگے بابا ہم نے بھی عمرہ کرنا ہے آپ آجا ئیں کچھ دن ہمارے ساتھ گزاریں بچے بھی آپ لو گوں کو خاصا مس کر رہے ہیں آپ آتے ہیں تو عمرہ کر نے بھی اکٹھے چلیں گے ۔ میں نے کیا کہنا تھا سوائے ٹھیک کے ۔ کہنے لگے میں نے فیضان سے کہ دیا ہے وہ پا سپورٹ وغیرہ بنوانے میں آپ کی ہیلپ کرے گا ۔ فیضان کی پو سٹنگ چھور سندھ میں تھی ۔
ان دنوں پا سپورٹ آفس نہ ہو نے کے سبب لیہ میں یہ سہولت مہیا نہیں تھی اور یوں ہمیں پا سپورٹ بنوانے کے لئے ڈیرہ غازیخان جانا پڑا ۔ دو تین ہفتوں کے بعد پا سپورٹ مل گئے ایک آدھ ہفتہ میں ویزا پراسس مکمل ہوا ۔ اور ہم وزٹ ویزا پر سعودی عرب روانہ ہو ئے ۔لاہور سےریاض کےلئے سعودی ائر لائن ,"ناس" کی ہماری فلائٹ چار گھنٹے کی تھی,ناس ائر سعودیہ کی ایک لو کاسٹ ائر لائن تھی جو غالبا اب بند ہو چکی ہے
ریاض سے مکہ ،مکہ سے مدینہ اور پھر مدینہ سے ریاض یہ سارا سفر بذریعہ روڈ طے ہوا اس طویل سفر کی مسلسل ڈرائیونگ کی سعادت نعمان کے حصے میں آئی ۔ ۔ پا کستان واپسی پر میں نے اس سفر کی تفصیل پر مبنی کالم جسے چاہا در پہ بلا لیا تحریر کیا ۔ یہ کالم پرنٹ میڈ یا کے علاوہ فیس بک پر صبح پا کستان لیہ کے پیج @subh;46;e;46;pakistanlayyah پر بھی شاءع ہوا ۔ فیس بک پر میرے اس کالم کو لا کھوں قار ئین نے پڑھا اور کم و بیش چا لیس ہزار سے زائد لا ئیکس ملے ۔
لیکن قارئین ۔ سچی بات یہ کہ میرے کالم کے ان ہزاروں لا ئیکس میں میری تحریر او رصلا حیتوں کا کو ئی کمال نہیں قارئین کرام کی طرف سے یہ عقیدت ، شرف ، عزت اور محبت میرے اور ہم سب کے آقا ﷺ کے ذکر اور در مصطفے کے سبز گنبد کی اس خوبصور ت تصویر کے لئے تھی جو ہر مسلمان کی طلب ، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہے ۔ ایک نعت کا خوبصورت مصرع ہے ناں کہ ۔
میری بات بن گئی ہے تیری بات کرتے تیری بات کرتے کرتے
بس یہی کچھ ہوا ہمارے ساتھ بھی ۔
دوسری بار سال 2015/16 میں ایک بار پھر مجھے ماہ رمضان میں نہ صرف عمرہ بلکہ مسجد نبوی میں اعتکاف کی بھی سعادت حاصل ہو ئی ۔ میں خواہش کے باوجود اعتکاف کی ان متبرک ساعتوں کو لفظوں میں نہیں پرو سکا ۔ وہ اس لئے کہ جب بھی لکھنے کا ارادہ باندھتا ہوں اپنی کم ما ئیگی کا احساس بڑھ جا تا ہے اور لفظ بے قیمت ہو جا تے ہیں سمجھ نہیں آتا کیا لکھوں کہاں سے شروع کروں ۔ میز بان آقاﷺکی وسیع قلبی، اعلی اقدارو روایات ، عنایات و محبت، اور درگزر و رحم دلی کے حضور اپنی کم ما ئیگی اتنی کہ بس ۔ ۔ ۔
شر مند گی ، شر مند گی، شر مند گی