عذاب لمحے، شتاب لمحے .., تحریر: انجم صحرائی
"ہم شہزاد افق کی خصوصی دعوت پر عین وقت پر اکادمی ادبیات کے گیٹ پر پہنچ گئے تھے، مگر ایسا ...
"ہم شہزاد افق کی خصوصی دعوت پر عین وقت پر اکادمی ادبیات کے گیٹ پر پہنچ گئے تھے، مگر ایسا ...
ضلع لیّہ کی سیاست کا ایک طویل اور شاندار باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ سینئر پارلیمنٹرین ...
کائنات کی وسعتوں پر نظر دوڑائیں تو ایک عجیب اور کڑوا سچ سامنے آتا ہے کہ انسان کے سوا کوئی ...
بچپن میں ہمارے گھر میں ایک بینڈ کا ریڈیو ہوا کرتا تھا۔ اس ریڈیو پر ابا رات کو بی بی ...
دریائے سندھ کی بپھری ہوئی لہریں جب مٹی کے پشتے کاٹتی ہیں، تو صرف زمین کا کٹاؤ نہیں ہوتا، بلکہ ...
بکرا عید پر سب اچھا ہوتا تھا سوائے آلائشیں اٹھانے کے۔ قربانی کرنے سے لے کر قربانی کا گوشت تقسیم ...
"سینئر صحافی عارف ہاشمی صاحب بالاخر لاہور لوٹ گئے۔ میں 'لوٹ گئے' کے الفاظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں ...
(رانا شکیل، اعجاز بخاری اور ڈاکٹر احسان الٰہی مرحوم کے نام ایک قلبی خراجِ عقیدت) گزرے ہفتے بہت سے پیارے ...
مجھے لسانی بنیادوں پر صوبوں کے قیام کے مطالبے سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔ نہ میں مہاجر صوبے کا حامی ...
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لیّہ جنوبی پنجاب کا ایک خوبصورت ترین شہر ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں ...
وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...
Read moreDetails
خیر، ہمارا آپریشن تو ہو گیا، لیکن اکادمی کی طرف سے اس خط کا کوئی جواب بظاہر نہ آیا۔ کامیاب علاج کے دو ماہ بعد جب ہم پنڈی سے ٹرین کے ذریعے صبح سویرے لیّہ اپنے گھر پہنچے، تو وہاں ایک نیا امتحان ہمارا منتظر تھا۔ کرائے کا مکان، جسے ہم مہینوں پہلے چھوڑ کر گئے تھے، کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف دھول مٹی کی تہیں جمی تھیں، لیکن سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ کئی ماہ سے واپڈا کا بل ادا نہ ہونے کے سبب، محکمہ بجلی کا میٹر ہی اتار کر لے گیا تھا۔ ایک مریض جو ابھی ابھی دل کا بڑا آپریشن کروا کر لوٹا ہو، اس کے لیے تپتے ہوئے مکان میں نہ روشنی تھی نہ پانی۔ ہم سب بہت پریشان، اسی دھول مٹی سے اٹے صحن میں چارپائی پر بیٹھے اندھیرے اور بے بسی کے دور ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ صبح کے نو بجے ہوں گے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے ڈاکیا تھا۔ کہنے لگا: "سر! آپ کا منی آرڈر آیا ہے!"
وہ اکادمی ادبیات والوں کی طرف سے بھیجے گئے دس ہزار روپے تھے۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس وقت میری اور میرے خاندان کی جذباتی کیفیت کیا ہوگی! جہاں ہم بالکل لاچار بیٹھے تھے، وہاں غیب سے مدد آ پہنچی۔ اس زمانے میں دس ہزار بڑی معقول رقم تھی ۔ اسی وقت واپڈا کا بل بھی ادا ہو گیا، گھر کا راشن بھی آ گیا اور اس بھوت بنگلے میں ایک بار پھر روشنی اور پانی کا انتظام ہو گیا۔ وہ عذاب لمحہ، پلک جھپکتے میں شتاب لمحے میں بدل گیا۔
آج اتنے سالوں بعد جب میں اکادمی ادبیات گیا، تو میری ملاقات اکادمی کی موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ہوئی۔ میں نے اپنی کتاب 'شب و روز زندگی' انہیں پیش کی اور ماضی کی ان دھندلی مگر لازوال یادوں کو ان کے ساتھ شیئر کیا۔
یہ نہ بھولنے والے عذاب لمحے اور شتاب لمحے میری شب و روز زندگی کا وہ حصہ ہیں جنہوں نے مجھے ایک نیا انسان بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں اور میرا پورا خاندان "ہیلپ لائن ودانجم صحرائی" کے تحت معاشرے کے کچلے ہوئے اور مجبور لوگوں کی مدد کر کے، زندگی کے انھی کٹھن لمحوں کا قرض اتارنے کی مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب سب راستے بند نظر آتے ہیں، تو کوئی نہ کوئی وسیلہ بن کر ضرور آتا ہے