تاریخ کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھرتے نہیں بلکہ مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ میرے لیے ‘سقوطِ ڈھاکہ’ محض کوئی کتاب کا باب یا تاریخ کا کوئی خشک ہندسہ نہیں، بلکہ میری زندگی کا وہ کربناک موڑ ہے جس کی یادیں آج بھی میرے دل و دماغ پر نقش ہیں۔ 1971 کے وہ ایام جب میں محض پندرہ برس کا تھا، ہمارے گھر کا ماحول کسی ماتم کدے سے کم نہ تھا۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی خبریں گھر پہنچیں، تو میرے بابا زار و قطار رو رہے تھے۔ دادی اور اماں کی گھٹی گھٹی سسکیاں اس سوگوار فضا کو مزید بوجھل بنا دیتی تھیں۔ بابا، جو تکمیلِ پاکستان کی تڑپ سینے میں لیے اللہ کے حضور پیش ہو گئے، اور دادی، جو قیامِ پاکستان کے وقت بچھڑ جانے والے اپنے بچوں کے غم میں آنکھوں کی بینائی گنوا بیٹھیں، ان کے آنسو وطن عزیز سے اس والہانہ محبت کا ثبوت تھے جسے آج ‘پاکستانیت’ کہا جاتا ہے۔
اسی دورِ ابتلا میں نامور شاعر مشیر کاظمی کے وہ اشعار سماعتوں سے ٹکرائے جنہوں نے پوری قوم کے دکھ کو زبان دے دی:
پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبرِ اقبال سے آ رہی تھی صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
اس مجمع میں جہاں ہزاروں لوگ دھا ڑیں مار مار کر رو رہے تھے، میں نے محسوس کیا کہ یہ صرف آنسو نہیں بلکہ پاکستانیوں کی آنکھوں سے بہتا ہوا وہ لہو ہے جو وطن کے دو لخت ہونے کے غم میں بہہ رہا تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ایک طویل عرصہ میں نے اس کسک کے ساتھ گزارا کہ کاش ہم اپنے ازلی دشمن کو اس کی ریشہ دوانیوں کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔
آج جب میں پاکستان کے دفاعی افق پر نظر ڈالتا ہوں، تو مایوسی کے بادل چھٹتے دکھائی دیتے ہیں۔
گزری پون صدی میں پاکستان کا ازلی دشمن کبھی چین سے نہیں بیٹھا اس نے فوجی جارحیت کر کے پاکستان کو دو لخت کیا لیکن اس کا جی نہیں بھرا ,اور دشمن وطن عزیز کے استحکام سلامتی اور علاقائی امن کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف عمل رہا گو پاکستان ایٹمی دھماکے کر کے دنیا میں پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کر چکا تھا لیکن آپا دھاپا باہمی بغض و نفرت انتشار و تفریق اور لوٹ کھسوٹ کی سیاست نے قوم کو نا امیدی کے اندھیروں میں دھکیل دیا .
مایوسی اور نا امیدی کے بادل اتنے گہرے تھے کے ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ بھی سننے کو ملا کہ ہمارے پاس تیل کے پیسے بھی نہیں .
اس ناامیدی کے دور میں قدرت مہربان ہوئی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ قیادت میں ‘آپریشن بنیانِ مرصوص’ نے ازلی دشمن کے غرور کو مٹی میں ملا دیا۔ اس معرکے میں ہماری بری، بحری اور فضائی افواج نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی برتری ایک اٹل حقیقت ہے۔بنیان مرصوص نے ازلی دشمن کے سندور کو مٹی میں ملا دیا
یہ آپریشن میرے بابا کے آنسوؤں اور دادی کی آہوں پر وہ مرہم ہے جس کا میں نے نصف صدی انتظار کیا۔
آج جب میں سپوت پاکستان فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دنیا کو یہ پیغام دیتے سنتا ہوں کہ "مجھے وہ دنیا نہیں چاہیے جس میں پاکستان نہیں”، تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ میری تجویز ہے کہ حکومت اور پاک فوج نسلِ نو کو اس تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے ایک منظم مہم چلائیں تاکہ نوجوانوں کے دلوں میں بھی وہی پاکستانیت راسخ ہو سکے جو ہمارے بزرگوں کی روح میں بسی تھی۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد!

انجم صحرائی










