• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

سقوطِ ڈھاکہ سے بنیانِ مرصوص تک … تحریر: انجم صحرائی

webmaster by webmaster
مئی 10, 2026
in صبح پاکستان, کالم
0
سقوطِ ڈھاکہ سے بنیانِ مرصوص تک … تحریر: انجم صحرائی

تاریخ کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھرتے نہیں بلکہ مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ میرے لیے ‘سقوطِ ڈھاکہ’ محض کوئی کتاب کا باب یا تاریخ کا کوئی خشک ہندسہ نہیں، بلکہ میری زندگی کا وہ کربناک موڑ ہے جس کی یادیں آج بھی میرے دل و دماغ پر نقش ہیں۔ 1971 کے وہ ایام جب میں محض پندرہ برس کا تھا، ہمارے گھر کا ماحول کسی ماتم کدے سے کم نہ تھا۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی خبریں گھر پہنچیں، تو میرے بابا زار و قطار رو رہے تھے۔ دادی اور اماں کی گھٹی گھٹی سسکیاں اس سوگوار فضا کو مزید بوجھل بنا دیتی تھیں۔ بابا، جو تکمیلِ پاکستان کی تڑپ سینے میں لیے اللہ کے حضور پیش ہو گئے، اور دادی، جو قیامِ پاکستان کے وقت بچھڑ جانے والے اپنے بچوں کے غم میں آنکھوں کی بینائی گنوا بیٹھیں، ان کے آنسو وطن عزیز سے اس والہانہ محبت کا ثبوت تھے جسے آج ‘پاکستانیت’ کہا جاتا ہے۔
اسی دورِ ابتلا میں نامور شاعر مشیر کاظمی کے وہ اشعار سماعتوں سے ٹکرائے جنہوں نے پوری قوم کے دکھ کو زبان دے دی:
پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبرِ اقبال سے آ رہی تھی صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
اس مجمع میں جہاں ہزاروں لوگ دھا ڑیں مار مار کر رو رہے تھے، میں نے محسوس کیا کہ یہ صرف آنسو نہیں بلکہ پاکستانیوں کی آنکھوں سے بہتا ہوا وہ لہو ہے جو وطن کے دو لخت ہونے کے غم میں بہہ رہا تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ایک طویل عرصہ میں نے اس کسک کے ساتھ گزارا کہ کاش ہم اپنے ازلی دشمن کو اس کی ریشہ دوانیوں کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔
آج جب میں پاکستان کے دفاعی افق پر نظر ڈالتا ہوں، تو مایوسی کے بادل چھٹتے دکھائی دیتے ہیں۔
گزری پون صدی میں پاکستان کا ازلی دشمن کبھی چین سے نہیں بیٹھا اس نے فوجی جارحیت کر کے پاکستان کو دو لخت کیا لیکن اس کا جی نہیں بھرا ,اور دشمن وطن عزیز کے استحکام سلامتی اور علاقائی امن کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف عمل رہا گو پاکستان ایٹمی دھماکے کر کے دنیا میں پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کر چکا تھا لیکن آپا دھاپا باہمی بغض و نفرت انتشار و تفریق اور لوٹ کھسوٹ کی سیاست نے قوم کو نا امیدی کے اندھیروں میں دھکیل دیا .
مایوسی اور نا امیدی کے بادل اتنے گہرے تھے کے ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ بھی سننے کو ملا کہ ہمارے پاس تیل کے پیسے بھی نہیں .
اس ناامیدی کے دور میں قدرت مہربان ہوئی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ قیادت میں ‘آپریشن بنیانِ مرصوص’ نے ازلی دشمن کے غرور کو مٹی میں ملا دیا۔ اس معرکے میں ہماری بری، بحری اور فضائی افواج نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی برتری ایک اٹل حقیقت ہے۔بنیان مرصوص نے ازلی دشمن کے سندور کو مٹی میں ملا دیا
یہ آپریشن میرے بابا کے آنسوؤں اور دادی کی آہوں پر وہ مرہم ہے جس کا میں نے نصف صدی انتظار کیا۔
آج جب میں سپوت پاکستان فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دنیا کو یہ پیغام دیتے سنتا ہوں کہ "مجھے وہ دنیا نہیں چاہیے جس میں پاکستان نہیں”، تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ میری تجویز ہے کہ حکومت اور پاک فوج نسلِ نو کو اس تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے ایک منظم مہم چلائیں تاکہ نوجوانوں کے دلوں میں بھی وہی پاکستانیت راسخ ہو سکے جو ہمارے بزرگوں کی روح میں بسی تھی۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد!

                                                                              انجم صحرائی

Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

میں معزرت خواہ ہوں۔۔۔۔۔ ۔۔۔تحریر ۔عنا یت اللہ کاشف ایڈووکیٹ

Next Post

معرکہ حق، بنیان مرصوص، قرآن کی حربی سکیم، باوقار پاکستان ۔۔الٰہی بخش جوتہ صدر، ایپکا ضلع لیہ

Next Post
معرکہ حق، بنیان مرصوص، قرآن کی حربی سکیم، باوقار پاکستان ۔۔الٰہی بخش جوتہ   صدر، ایپکا ضلع لیہ

معرکہ حق، بنیان مرصوص، قرآن کی حربی سکیم، باوقار پاکستان ۔۔الٰہی بخش جوتہ صدر، ایپکا ضلع لیہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل ,   ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
قومی/ بین الاقوامی خبریں

معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل , ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

by webmaster
مئی 10, 2026
0

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات...

Read moreDetails
راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ

اپریل 20, 2026
وزیرِ اعظم  کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

وزیرِ اعظم کی مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری ،ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و امان کے لیے دعائیں

اپریل 16, 2026
ڈیرہ غازی خا  ن   ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

ڈیرہ غازی خا ن ۔ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ ایک زیرک سیاستدان اور مدبر رہنما تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

اپریل 11, 2026
ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

ا ہور ۔سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کیلئے پنجاب سائبرکرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

اپریل 10, 2026
تاریخ کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھرتے نہیں بلکہ مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ میرے لیے 'سقوطِ ڈھاکہ' محض کوئی کتاب کا باب یا تاریخ کا کوئی خشک ہندسہ نہیں، بلکہ میری زندگی کا وہ کربناک موڑ ہے جس کی یادیں آج بھی میرے دل و دماغ پر نقش ہیں۔ 1971 کے وہ ایام جب میں محض پندرہ برس کا تھا، ہمارے گھر کا ماحول کسی ماتم کدے سے کم نہ تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے، جب ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی خبریں گھر پہنچیں، تو میرے بابا زار و قطار رو رہے تھے۔ دادی اور اماں کی گھٹی گھٹی سسکیاں اس سوگوار فضا کو مزید بوجھل بنا دیتی تھیں۔ بابا، جو تکمیلِ پاکستان کی تڑپ سینے میں لیے اللہ کے حضور پیش ہو گئے، اور دادی، جو قیامِ پاکستان کے وقت بچھڑ جانے والے اپنے بچوں کے غم میں آنکھوں کی بینائی گنوا بیٹھیں، ان کے آنسو وطن عزیز سے اس والہانہ محبت کا ثبوت تھے جسے آج 'پاکستانیت' کہا جاتا ہے۔ اسی دورِ ابتلا میں نامور شاعر مشیر کاظمی کے وہ اشعار سماعتوں سے ٹکرائے جنہوں نے پوری قوم کے دکھ کو زبان دے دی: پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں قبرِ اقبال سے آ رہی تھی صدا یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں اس مجمع میں جہاں ہزاروں لوگ دھا ڑیں مار مار کر رو رہے تھے، میں نے محسوس کیا کہ یہ صرف آنسو نہیں بلکہ پاکستانیوں کی آنکھوں سے بہتا ہوا وہ لہو ہے جو وطن کے دو لخت ہونے کے غم میں بہہ رہا تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ایک طویل عرصہ میں نے اس کسک کے ساتھ گزارا کہ کاش ہم اپنے ازلی دشمن کو اس کی ریشہ دوانیوں کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ آج جب میں پاکستان کے دفاعی افق پر نظر ڈالتا ہوں، تو مایوسی کے بادل چھٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ گزری پون صدی میں پاکستان کا ازلی دشمن کبھی چین سے نہیں بیٹھا اس نے فوجی جارحیت کر کے پاکستان کو دو لخت کیا لیکن اس کا جی نہیں بھرا ,اور دشمن وطن عزیز کے استحکام سلامتی اور علاقائی امن کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف عمل رہا گو پاکستان ایٹمی دھماکے کر کے دنیا میں پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کر چکا تھا لیکن آپا دھاپا باہمی بغض و نفرت انتشار و تفریق اور لوٹ کھسوٹ کی سیاست نے قوم کو نا امیدی کے اندھیروں میں دھکیل دیا . مایوسی اور نا امیدی کے بادل اتنے گہرے تھے کے ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ بھی سننے کو ملا کہ ہمارے پاس تیل کے پیسے بھی نہیں . اس ناامیدی کے دور میں قدرت مہربان ہوئی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ قیادت میں 'آپریشن بنیانِ مرصوص' نے ازلی دشمن کے غرور کو مٹی میں ملا دیا۔ اس معرکے میں ہماری بری، بحری اور فضائی افواج نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی برتری ایک اٹل حقیقت ہے۔بنیان مرصوص نے ازلی دشمن کے سندور کو مٹی میں ملا دیا یہ آپریشن میرے بابا کے آنسوؤں اور دادی کی آہوں پر وہ مرہم ہے جس کا میں نے نصف صدی انتظار کیا۔ آج جب میں سپوت پاکستان فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دنیا کو یہ پیغام دیتے سنتا ہوں کہ "مجھے وہ دنیا نہیں چاہیے جس میں پاکستان نہیں"، تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ میری تجویز ہے کہ حکومت اور پاک فوج نسلِ نو کو اس تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے ایک منظم مہم چلائیں تاکہ نوجوانوں کے دلوں میں بھی وہی پاکستانیت راسخ ہو سکے جو ہمارے بزرگوں کی روح میں بسی تھی۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد!                                                                               انجم صحرائی
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.