سندھ میں کچے کے ڈاکووں کا بڑا شور ہے آ ے روز بہت ہی خوفناک خبریں سننے کو ملتی ہیں پنجاب کے روجھان سے کشمور اور کشمور سےشکار پور تک کی سڑک کے ارد گرد کا سارا علاقہ دہشت کی آماجگاہ بنا ہوا ہے سارا روڈ بھر پور آبادی والا ,پولیس موجود ہے دکانیں ہیں ہوٹل ہیں انسانوں سے بھری تجارتی منڈیاں ہیں لیکن کوئی بھی نیا بندہ وہاں سفر کرنے سے گھبراتاہے ..مسافر کو سمجھایا جاتا ہے اکیلےنہ جائیں کسی کی کال کسی میسج کے بہکاوے میں نہ آئیں پولیس کی جانب سے ان ہدایات پر مبنی بورڈ جگہ جگہ لگے نظر اتے ہیں ..رات کے سفر کو تو کوئی ریکمنڈ ہی نہیں کرتا –
83 .1982 مجھے اپنی کتاب کی تکمیل کے لئے بار ہار ان علاقوں میں جاے کا اتفاق ہوا اس زمانے میں راوی چین ہی چین لکھتا تھا ..میں ہندو دوستوں کا مہمان بھی رہا دیوالی بھی انجاے کی ..مگر کوئی خطرہ کوئی تعصب کوئی تنگ نظری نہیں تھی..لاقانونیت نہیں تھی ..لا اینڈ آرڈر کے واقعات ہوتے , مگر
گے مگر قانون کی حاکمیت مظبوط تھی اور لا اینڈ آرڈر کے ادارے فعال اور متحرک ,
مجھے یاد ہے رات کے وقت روجھان سے کشمور تک ٹریفک کانواے کی شکل میں چلتی ہے مخصوص وقت میں پولیس کی گاڑیاں کانواے کو اپنی سیکیوٹی میں منزل مقصود تک پنھچاتی تھیں مطلب روجھان سے کشمور اور کشمور سے روجھان
یہ سارا علاقہ سنسان میدان اور جنگل تھا ..کہا جاتا تھا کے کبھی کبھی واردتئے بسوں کو لوٹنے کے لئے آتے کبھی کامیاب بھی ہو جاتے مگر اکثر قانون کی جیت ہوتی .اس زمانے میں کشمور سے کراچی تک کا سفر پر امن تھا ..ان علاقوں میں کسی ڈاکو راج کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا ..
اس زمانے میں سڑکوں کی حالت اتنی اچھی نہیں تھی عام سی سڑک پر ٹریفک بلا خوف و خطر رواں دوں رہتی .لیکن جب سے سڑکیں کار پیٹڈ بنی ہیں زمانہ موبائل, ڈیوائسز , کے دور میں ترقی کی ہے انسان اور انسانی ابادیوں کے لئے سکیورٹی رسک بڑھ گئے ہیں , بات لوکل بین الاضلاعی اور مقامی بین الصوبائی چوروں اور ڈاکووں سے بڑھ کر بین الاقوامی دہشت گردوں تک آ پہنچی ہے, رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے بندے کی پرائیویسی لوکیشن کچھ بھی محفوظ نہیں .ہم اپنا مخبر جیب میں ڈالے پھر رہے ہیں .موبائل اپ کا مخبرہے کسی کو کسی سے آپ کے بارے پوچھنے کی ضرورت نہیں ..
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی غیر آباد جگہ کا آباد ہو جانا ..کسی سڑک اور پل کا بننا اس بات کی ضمانت نہیں کہ دہشت گردی کنٹرول میں آ جاے گی ..
آج کل تو جرائم میں وارداتیوں سے زیادہ سہولت کاروں کا کردار ہے ..چوری یا سر راہ چھینی گئی گاڑی , موٹر سائیکل , کروڑوں کی لوٹی گئی رقم اور راہ چلتا بندہ اگرلمحوں میں ایسے غائب ہو جاتا ہے جسے واردات کرنے والوں کو زمیں کھا گئی یا آسمان نگل گیا یہ انہی سہولت کاروں کا کمال ہوتا ہے .بس ہمیں محتاط رہنےاور اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کی ضرورت ہے

انجم صحرائی










