• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

کوٹ سلطان کے ملک کریم بخش کھوکھر , لیّہ یونیورسٹی اور بہادر ای لائبریری .. تحریر: انجم صحرائی

webmaster by webmaster
مئی 11, 2026
in کالم
0
کوٹ سلطان کے ملک کریم بخش کھوکھر , لیّہ یونیورسٹی اور بہادر ای لائبریری .. تحریر: انجم صحرائی

ستھرا پنجاب اور عیدِ قربان کا 'مسئلہِ فیثاغورث' انجم صحرائی

ج دل بوجھل ہے کہ کوٹ سلطان کی ہر دلعزیز شخصیت ملک کریم بخش کھوکھر صاحب ہم سے جدا ہو گئے (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔ مرحوم ڈاکٹر مزمل کریم کے والد اور ڈاکٹر شفقت کے بھائی تھے۔ میرا بچپن کوٹ سلطان کی انہی گلیوں اور بازاروں میں گزرا ہے۔ ملک مرحوم کی بان کی بڑی سی دکان بازار کے وسط میں ہمارے گھر کے قریب ہی تھی اور ان سے روزانہ کی ملاقات کا ایک بڑا سبب اخبار تھا۔ ان کی دکان پر ہمیں اخبار پڑھنے کو ملتا اور یوں سیاست و سماج سے شناسائی کا سفر شروع ہوا۔ آج جب ان کی تعزیت کے لیے ڈاکٹر مزمل کریم کے گھر حاضری دی، جس نے مجھے ماضی کے ان لمحات کی یاد دلا دی جب اخبار اور کتاب ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہوا کرتے تھے۔
جب ہم اپنے کوٹ سلطان کے صحافی دوستوں عابد فاروقی ، اسلم ملک ،ناصر بریال اور عرفان مجید کے ساتھ مرحوم کے بیٹے ڈاکٹر مزمل کریم سے تعزیت کے لءے پنہچے تو وہاں ہمارے سے پہلے سابق صوباءی وزیر مہر اعجاز احمد اچلانہ اور دیگر دوست تعزیت مو جود تھے ، تعزیت اور دعاءے فاتحہ کے بعد موجود دوستوں کے درمیان مختلف کرنٹ موضوعات پر گفتگو ہو تی رہی ۔ اچا نک گفتگو لیہ یو نیورسٹی اور بہادر ای لاءیبریری کے موضوع میں بدل گءی ۔
یہاں یہ بات قابل زکر اور قا بل ستاءش ہے کہ یہ ان دونوں منصوبوں کا سہراابتداءی طور پر مہر اعجاز اچلانہ کی کاوشوں کے سر جاتا ہے ۔ اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ
لیہ کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب کی پیاسی رہی ہے، مگر جب اس پیاس کو بجھانے کے لیے "بہادر ای-لائبریری” جیسے عظیم الشان منصوبے کی بنیاد رکھی گئی، تو یہاں کے طلبہ کی آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کے خواب سج گئے تھے۔ یہ منصوبہ دراصل اس وقت کے ایم پی اے مہر اعجاز احمد اچلانہ کے اس تعلیمی ویژن کا تسلسل تھا جس کے تحت انہوں نے لیہ میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی (BZU) ملتان کا ‘بہادر سب کیمپس’ لانے کے لیے تگ و دو کی۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر آج "یونیورسٹی آف لیہ” کی عمارت کھڑی ہے
بہادر ای-لائبریری کا یہ منصوبہ دراصل بی زیڈ یو ملتان کے بہادر سب کیمپس (جو اب یونیورسٹی آف لیہ بن چکی ہے) کے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل دنیا کا ایک ایسا دریچہ تھا جس نے انہیں عالمی معیار کی تحقیق سے جوڑنا تھا۔ مگر افسوس یہ منصوبہ بروقت مکمل نہ ہو سکا ۔ اس وقت کی مسلم لیگی حکومت کے بعد نہ صرف کروڑوں کی لاگت سے بنی عمار ت بھوت بنگلہ بن گءی بلکہ
کروڑوں کے وہ کمپیوٹرز اور آئی ٹی آلات جو کسی غریب طالب علم کا مستقبل روشن کر سکتے تھے، وہ "نامعلوم” چوروں کی نذر ہو گءے۔ کروڑوں کا سامان چوری ہوا، ایف آئی آر بھی درج ہوئی، مگر ایف آءی آر کا کیا نتیجہ نکلا ، ذمہ داروں کو سزا ہوءی یا نہیں ۔ ملزم گرفتار ہو ءے یا نہیں ، کروڑوں کی چوری کا مال ریکور ہوا یا نہیں اگر ریکوری ہوءی تو کتنی ہوءی یہ سبھی "صیغہ راز” میں ہیں ، گو موجودہ ڈپٹی کمشنر اور ضلعی انتظامیہ نے لاءبریری کو فعال کرنے کے لءے ترجیحا اقدامات اٹھاءے ہیں کروڑوں کی لاگت سے ایک بار پھر اس منصوبے کو مکمل کرنے کا عمل جاری ہے امید ہے بہت جلد یہ لاءبریری فعال ہو گی اور تشنگان علم اس سے استفادہ حاصل کر سکیں گے ۔
یہاں ایک اور اپ ڈیٹ لیہ یو نیورسٹی کے حوالہ سے کہ ارباب اقتدارو اختیار کااب ایک نیا ” حیران کن” فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ایک طرف یونیورسٹی آف لیہ خود اسٹاف کی شدید کمی کا شکار ہے اور کئی ڈیارٹمنٹس بند ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف مزید تین نئے سب کیمپسز بنانے کی نوید سنائی جا رہی ہے۔یو نیورسٹی لیہ کیمپس کا قیام بظاہر ایک خوش کن فیصلہ ہے لیکن زمینی حقاءق پر بات کی جاءے تو یہ فیصلہ قبل از وقت ہے ، ایسی صورت حال میں جب کہ ابھی لیہ یو نیورسٹی کو بنے چند سال ہی ہو ءے ہیں اور یو نیورسٹی انتظامیہ ابھی بنیادی مساءیل سے نبرد آزما ہے ان خالات میں سب کیمپس کے قیام کا فیصلہ سیاسی پواءینٹ سکورنگ ہی لگتا ہے
ہماری اقتدارو اختیار سے گزارش ہے کہ محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے فیصلے نہ کیے جائیں ؟ لیہ یو نیورسٹی کو ایک مکمل اور خوبصورت تعلیمی ادارہ بنایا جاءے ، تمام ڈیپارٹمنٹ کو فعال کیا جاءے ، ٹیچنگ سٹاف ، ناں ٹیچنگ سٹاف مکمل کیا جاءے۔ جب لیہ یو نیورسٹی کی ایجوکیشنل خدمات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیراءی حاصل ہو تب سب کیمپس کے قیام بارے سو چا جاءے ۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ نئے ادھورے کیمپسز کے نام پر فنڈز ضائع کرنے کے بجائے پہلے سے موجود ڈھانچے کو مضبوط کرے۔
ملک کریم بخش کھوکھر جیسے مخلص لوگوں کے عہد میں دکانوں پر اخبار پڑھ کر ہم نے جو شعور پایا، وہ ہمیں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں "کاغذی کیمپس” نہیں بلکہ ایک مضبوط اور معیاری یونیورسٹی چاہیے۔

Post Views: 38
Tags: column by anjum sehrai
Previous Post

لیہ ، معرکۂ حق بنیان المرصوص کی پہلی سالگرہ ،ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام میں شاندار میوزیکل نائٹ کا انعقاد۔

Next Post

سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر ,ایک بگڑتے معاشرے کی کہانی …انجینئر شیراز حسین رونگھا

Next Post
سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر ,ایک بگڑتے معاشرے کی کہانی …انجینئر شیراز حسین رونگھا

سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر ,ایک بگڑتے معاشرے کی کہانی ...انجینئر شیراز حسین رونگھا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نوجوان  سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نوجوان سب سے پہلے پاکستان کو اہمیت دیں:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پرواز کارڈ کے کامیاب امیدواروں سے خطاب

by webmaster
جون 25, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ محنتی اور گھر کی ذمہ داری اٹھانے...

Read moreDetails
یکم جولائی  سے جائیداد کی خرید و فروخت اور انتقالات  فرد کی بجا ئےگرین سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ہو گی

یکم جولائی سے جائیداد کی خرید و فروخت اور انتقالات فرد کی بجا ئےگرین سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ہو گی

جون 23, 2026
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا  مسلم لیگ (ن) کے رہنماء ملک غلام حیدرتھندکے انتقال پر اظہارافسوس

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا مسلم لیگ (ن) کے رہنماء ملک غلام حیدرتھندکے انتقال پر اظہارافسوس

جون 22, 2026
عوامی ریلیف ، وزیر اعظم نے  پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لٹر کمی کا اعلان  کر دیا

عوامی ریلیف ، وزیر اعظم نے پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کر دیا

جون 20, 2026
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر  ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق  نے شہریوں کی شکایات سنیں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق نے شہریوں کی شکایات سنیں

جون 14, 2026
ج دل بوجھل ہے کہ کوٹ سلطان کی ہر دلعزیز شخصیت ملک کریم بخش کھوکھر صاحب ہم سے جدا ہو گئے (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔ مرحوم ڈاکٹر مزمل کریم کے والد اور ڈاکٹر شفقت کے بھائی تھے۔ میرا بچپن کوٹ سلطان کی انہی گلیوں اور بازاروں میں گزرا ہے۔ ملک مرحوم کی بان کی بڑی سی دکان بازار کے وسط میں ہمارے گھر کے قریب ہی تھی اور ان سے روزانہ کی ملاقات کا ایک بڑا سبب اخبار تھا۔ ان کی دکان پر ہمیں اخبار پڑھنے کو ملتا اور یوں سیاست و سماج سے شناسائی کا سفر شروع ہوا۔ آج جب ان کی تعزیت کے لیے ڈاکٹر مزمل کریم کے گھر حاضری دی، جس نے مجھے ماضی کے ان لمحات کی یاد دلا دی جب اخبار اور کتاب ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہوا کرتے تھے۔ جب ہم اپنے کوٹ سلطان کے صحافی دوستوں عابد فاروقی ، اسلم ملک ،ناصر بریال اور عرفان مجید کے ساتھ مرحوم کے بیٹے ڈاکٹر مزمل کریم سے تعزیت کے لءے پنہچے تو وہاں ہمارے سے پہلے سابق صوباءی وزیر مہر اعجاز احمد اچلانہ اور دیگر دوست تعزیت مو جود تھے ، تعزیت اور دعاءے فاتحہ کے بعد موجود دوستوں کے درمیان مختلف کرنٹ موضوعات پر گفتگو ہو تی رہی ۔ اچا نک گفتگو لیہ یو نیورسٹی اور بہادر ای لاءیبریری کے موضوع میں بدل گءی ۔ یہاں یہ بات قابل زکر اور قا بل ستاءش ہے کہ یہ ان دونوں منصوبوں کا سہراابتداءی طور پر مہر اعجاز اچلانہ کی کاوشوں کے سر جاتا ہے ۔ اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ لیہ کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب کی پیاسی رہی ہے، مگر جب اس پیاس کو بجھانے کے لیے "بہادر ای-لائبریری" جیسے عظیم الشان منصوبے کی بنیاد رکھی گئی، تو یہاں کے طلبہ کی آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کے خواب سج گئے تھے۔ یہ منصوبہ دراصل اس وقت کے ایم پی اے مہر اعجاز احمد اچلانہ کے اس تعلیمی ویژن کا تسلسل تھا جس کے تحت انہوں نے لیہ میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی (BZU) ملتان کا 'بہادر سب کیمپس' لانے کے لیے تگ و دو کی۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر آج "یونیورسٹی آف لیہ" کی عمارت کھڑی ہے بہادر ای-لائبریری کا یہ منصوبہ دراصل بی زیڈ یو ملتان کے بہادر سب کیمپس (جو اب یونیورسٹی آف لیہ بن چکی ہے) کے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل دنیا کا ایک ایسا دریچہ تھا جس نے انہیں عالمی معیار کی تحقیق سے جوڑنا تھا۔ مگر افسوس یہ منصوبہ بروقت مکمل نہ ہو سکا ۔ اس وقت کی مسلم لیگی حکومت کے بعد نہ صرف کروڑوں کی لاگت سے بنی عمار ت بھوت بنگلہ بن گءی بلکہ کروڑوں کے وہ کمپیوٹرز اور آئی ٹی آلات جو کسی غریب طالب علم کا مستقبل روشن کر سکتے تھے، وہ "نامعلوم" چوروں کی نذر ہو گءے۔ کروڑوں کا سامان چوری ہوا، ایف آئی آر بھی درج ہوئی، مگر ایف آءی آر کا کیا نتیجہ نکلا ، ذمہ داروں کو سزا ہوءی یا نہیں ۔ ملزم گرفتار ہو ءے یا نہیں ، کروڑوں کی چوری کا مال ریکور ہوا یا نہیں اگر ریکوری ہوءی تو کتنی ہوءی یہ سبھی "صیغہ راز" میں ہیں ، گو موجودہ ڈپٹی کمشنر اور ضلعی انتظامیہ نے لاءبریری کو فعال کرنے کے لءے ترجیحا اقدامات اٹھاءے ہیں کروڑوں کی لاگت سے ایک بار پھر اس منصوبے کو مکمل کرنے کا عمل جاری ہے امید ہے بہت جلد یہ لاءبریری فعال ہو گی اور تشنگان علم اس سے استفادہ حاصل کر سکیں گے ۔ یہاں ایک اور اپ ڈیٹ لیہ یو نیورسٹی کے حوالہ سے کہ ارباب اقتدارو اختیار کااب ایک نیا " حیران کن" فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ایک طرف یونیورسٹی آف لیہ خود اسٹاف کی شدید کمی کا شکار ہے اور کئی ڈیارٹمنٹس بند ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف مزید تین نئے سب کیمپسز بنانے کی نوید سنائی جا رہی ہے۔یو نیورسٹی لیہ کیمپس کا قیام بظاہر ایک خوش کن فیصلہ ہے لیکن زمینی حقاءق پر بات کی جاءے تو یہ فیصلہ قبل از وقت ہے ، ایسی صورت حال میں جب کہ ابھی لیہ یو نیورسٹی کو بنے چند سال ہی ہو ءے ہیں اور یو نیورسٹی انتظامیہ ابھی بنیادی مساءیل سے نبرد آزما ہے ان خالات میں سب کیمپس کے قیام کا فیصلہ سیاسی پواءینٹ سکورنگ ہی لگتا ہے ہماری اقتدارو اختیار سے گزارش ہے کہ محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے فیصلے نہ کیے جائیں ؟ لیہ یو نیورسٹی کو ایک مکمل اور خوبصورت تعلیمی ادارہ بنایا جاءے ، تمام ڈیپارٹمنٹ کو فعال کیا جاءے ، ٹیچنگ سٹاف ، ناں ٹیچنگ سٹاف مکمل کیا جاءے۔ جب لیہ یو نیورسٹی کی ایجوکیشنل خدمات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیراءی حاصل ہو تب سب کیمپس کے قیام بارے سو چا جاءے ۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ نئے ادھورے کیمپسز کے نام پر فنڈز ضائع کرنے کے بجائے پہلے سے موجود ڈھانچے کو مضبوط کرے۔ ملک کریم بخش کھوکھر جیسے مخلص لوگوں کے عہد میں دکانوں پر اخبار پڑھ کر ہم نے جو شعور پایا، وہ ہمیں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں "کاغذی کیمپس" نہیں بلکہ ایک مضبوط اور معیاری یونیورسٹی چاہیے۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.