ج دل بوجھل ہے کہ کوٹ سلطان کی ہر دلعزیز شخصیت ملک کریم بخش کھوکھر صاحب ہم سے جدا ہو گئے (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔ مرحوم ڈاکٹر مزمل کریم کے والد اور ڈاکٹر شفقت کے بھائی تھے۔ میرا بچپن کوٹ سلطان کی انہی گلیوں اور بازاروں میں گزرا ہے۔ ملک مرحوم کی بان کی بڑی سی دکان بازار کے وسط میں ہمارے گھر کے قریب ہی تھی اور ان سے روزانہ کی ملاقات کا ایک بڑا سبب اخبار تھا۔ ان کی دکان پر ہمیں اخبار پڑھنے کو ملتا اور یوں سیاست و سماج سے شناسائی کا سفر شروع ہوا۔ آج جب ان کی تعزیت کے لیے ڈاکٹر مزمل کریم کے گھر حاضری دی، جس نے مجھے ماضی کے ان لمحات کی یاد دلا دی جب اخبار اور کتاب ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہوا کرتے تھے۔
جب ہم اپنے کوٹ سلطان کے صحافی دوستوں عابد فاروقی ، اسلم ملک ،ناصر بریال اور عرفان مجید کے ساتھ مرحوم کے بیٹے ڈاکٹر مزمل کریم سے تعزیت کے لءے پنہچے تو وہاں ہمارے سے پہلے سابق صوباءی وزیر مہر اعجاز احمد اچلانہ اور دیگر دوست تعزیت مو جود تھے ، تعزیت اور دعاءے فاتحہ کے بعد موجود دوستوں کے درمیان مختلف کرنٹ موضوعات پر گفتگو ہو تی رہی ۔ اچا نک گفتگو لیہ یو نیورسٹی اور بہادر ای لاءیبریری کے موضوع میں بدل گءی ۔
یہاں یہ بات قابل زکر اور قا بل ستاءش ہے کہ یہ ان دونوں منصوبوں کا سہراابتداءی طور پر مہر اعجاز اچلانہ کی کاوشوں کے سر جاتا ہے ۔ اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ
لیہ کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب کی پیاسی رہی ہے، مگر جب اس پیاس کو بجھانے کے لیے "بہادر ای-لائبریری” جیسے عظیم الشان منصوبے کی بنیاد رکھی گئی، تو یہاں کے طلبہ کی آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کے خواب سج گئے تھے۔ یہ منصوبہ دراصل اس وقت کے ایم پی اے مہر اعجاز احمد اچلانہ کے اس تعلیمی ویژن کا تسلسل تھا جس کے تحت انہوں نے لیہ میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی (BZU) ملتان کا ‘بہادر سب کیمپس’ لانے کے لیے تگ و دو کی۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر آج "یونیورسٹی آف لیہ” کی عمارت کھڑی ہے
بہادر ای-لائبریری کا یہ منصوبہ دراصل بی زیڈ یو ملتان کے بہادر سب کیمپس (جو اب یونیورسٹی آف لیہ بن چکی ہے) کے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل دنیا کا ایک ایسا دریچہ تھا جس نے انہیں عالمی معیار کی تحقیق سے جوڑنا تھا۔ مگر افسوس یہ منصوبہ بروقت مکمل نہ ہو سکا ۔ اس وقت کی مسلم لیگی حکومت کے بعد نہ صرف کروڑوں کی لاگت سے بنی عمار ت بھوت بنگلہ بن گءی بلکہ
کروڑوں کے وہ کمپیوٹرز اور آئی ٹی آلات جو کسی غریب طالب علم کا مستقبل روشن کر سکتے تھے، وہ "نامعلوم” چوروں کی نذر ہو گءے۔ کروڑوں کا سامان چوری ہوا، ایف آئی آر بھی درج ہوئی، مگر ایف آءی آر کا کیا نتیجہ نکلا ، ذمہ داروں کو سزا ہوءی یا نہیں ۔ ملزم گرفتار ہو ءے یا نہیں ، کروڑوں کی چوری کا مال ریکور ہوا یا نہیں اگر ریکوری ہوءی تو کتنی ہوءی یہ سبھی "صیغہ راز” میں ہیں ، گو موجودہ ڈپٹی کمشنر اور ضلعی انتظامیہ نے لاءبریری کو فعال کرنے کے لءے ترجیحا اقدامات اٹھاءے ہیں کروڑوں کی لاگت سے ایک بار پھر اس منصوبے کو مکمل کرنے کا عمل جاری ہے امید ہے بہت جلد یہ لاءبریری فعال ہو گی اور تشنگان علم اس سے استفادہ حاصل کر سکیں گے ۔
یہاں ایک اور اپ ڈیٹ لیہ یو نیورسٹی کے حوالہ سے کہ ارباب اقتدارو اختیار کااب ایک نیا ” حیران کن” فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ایک طرف یونیورسٹی آف لیہ خود اسٹاف کی شدید کمی کا شکار ہے اور کئی ڈیارٹمنٹس بند ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف مزید تین نئے سب کیمپسز بنانے کی نوید سنائی جا رہی ہے۔یو نیورسٹی لیہ کیمپس کا قیام بظاہر ایک خوش کن فیصلہ ہے لیکن زمینی حقاءق پر بات کی جاءے تو یہ فیصلہ قبل از وقت ہے ، ایسی صورت حال میں جب کہ ابھی لیہ یو نیورسٹی کو بنے چند سال ہی ہو ءے ہیں اور یو نیورسٹی انتظامیہ ابھی بنیادی مساءیل سے نبرد آزما ہے ان خالات میں سب کیمپس کے قیام کا فیصلہ سیاسی پواءینٹ سکورنگ ہی لگتا ہے
ہماری اقتدارو اختیار سے گزارش ہے کہ محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے فیصلے نہ کیے جائیں ؟ لیہ یو نیورسٹی کو ایک مکمل اور خوبصورت تعلیمی ادارہ بنایا جاءے ، تمام ڈیپارٹمنٹ کو فعال کیا جاءے ، ٹیچنگ سٹاف ، ناں ٹیچنگ سٹاف مکمل کیا جاءے۔ جب لیہ یو نیورسٹی کی ایجوکیشنل خدمات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیراءی حاصل ہو تب سب کیمپس کے قیام بارے سو چا جاءے ۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ نئے ادھورے کیمپسز کے نام پر فنڈز ضائع کرنے کے بجائے پہلے سے موجود ڈھانچے کو مضبوط کرے۔
ملک کریم بخش کھوکھر جیسے مخلص لوگوں کے عہد میں دکانوں پر اخبار پڑھ کر ہم نے جو شعور پایا، وہ ہمیں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں "کاغذی کیمپس” نہیں بلکہ ایک مضبوط اور معیاری یونیورسٹی چاہیے۔
معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل , ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات...
Read moreDetails









