رووف کلاسرا نے بہت اچھا کیا کہ انہوں نے اپنی اندراج مقدمہ کی درخواست واپس لے لی,یہی میچورٹی ہے اور یہی وسیبی اقدار و روایات کا تقاضہ . میرے خیال میں کلاسرا صاحب کو facebook پوسٹ پر دیے جانے والےکمنٹس کو پڑھ کر مسکرا کے نظر انداز کر دینا چاہے تھا کہ سوشل میڈیا کے اس دنیا میں کتنے ہی اہم لوگ اپنےبارےسب کچھ پڑھ کر سب کچھ سن کر سہتے اور نظر انداز کر کے ضبط کرتے زیر لب مسکراتے اور آگے بڑھتے ہوے نظر آتے ہیں .اور اگر وضاحت بہت ہی ضروری تھی تو اپنے کسی ولاگ میں تنقید کرنے والوں کے لئے اپنے موقف کی وضاحت جا سکتی تھی, سوشل میڈیا پر خلاف حقیقت الزام تراشی , گالی گلوچ کا چلن عام ہے کامیاب ہے وہ شخص جو ان مغلظات و الزامات کے شور میں راستہ بناتے ہوے اپناسفر جاری رکھے ,
ویسے کمنٹس دینے والوں کو بھی لفظوں کے چناؤ میں احتیاط کرنا چاہے ,آزادی اظہار راے ہم سبھی کا بنیادی حق ہے لیکن آزادی راءے کے اس حق کو استعمال کرتے ہوے باہمی احترام رواداری اور اخلاقی تقاضوں کو ترجیح دینا بھی اہم ہے
گذ شتہ دنوں ہماری ایک پوسٹ پر جو دھمال چوکڑی مچی الامان و الحفیظ ،جو بات نہ ہم نے کہی نہ لکھی یار لوگوں نے خلاف حقیقت کمنٹس کرکر کے وہ زلزلہ برپا کیا جس کے آفٹرشاکش ابھی تک بھگت رہا ہوں ۔(آفٹر شاکش کا تفصیلی ذکر پھر کبھی سہی)
سچ بات ہمیں اختلاف را ے کی توقع تھی . مگربے حس بلا جواز لفظوں کی ایسی سنگ باری کی امید نہیں تھی وہ بھی ان سے جنھیں ہم بہت اہمیت دیتے اور روشن خیال سمجھتے تھے ,وہ اتنے متعصب اور تنگ نظر ہوں گے ہمیں قطعا امید نہ تھی ۔
تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetails










