گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے محمدعماراحمد یہ دل وجان سے عزیز پاکستان، بننے سے پہلے ہی خون کاپیاسا...
Read moreDetailsساجھے کی ہانڈی عفت مثل مشہور ہے کہ ساجھے کی ہانڈی بیچ چوراہے میں پھوٹتی ہے۔ایسا ہی کچھ ایم کیو...
Read moreDetailsلیہ کے نئے ڈی پی او اور تھانہ چوک اعظم کے چیلنجز تحریر , محمد عمر شاکر نیکی اور برائی...
Read moreDetailsشب و رو زند گی قسط 55 انجم صحرائی جن دنوں لیہ کوٹ سلطان روڈ کچی ہوا کرتی تھی ان...
Read moreDetailsلیگی دادگیری خضرکلاسرا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر قیصر مشتاق صاحب کیساتھ جو تماشہ صوبائی وزیر ملک اقبال...
Read moreDetailsحقوقِ مرداں بل تحریر:انعام الحق اُوپرکی سطر میں دائیں ’’بسم اللہ‘‘ درمیان میں’’ سرِراہ ‘‘اوربائیں’’ محمد رسول اللہ‘‘لکھا تھا جبکہ...
Read moreDetailsنقطہ نظر ۔۔۔ عادت چھوڑی نہیں جاتی راحت عائشہ . کراچی۔ "ایک زمانہ تھا کہ کراچی اور سندھ میں جب...
Read moreDetailsیوم پا کستان23مارچ۔ایک تاریخ ساز دن اسد ملک سال 1906ء میں مسلم لیگ کے قیام کے بعد باقاعدہ تحریک کا...
Read moreDetailsسفرِ ِ جدوجہد عفت قائد اعظم بذریعہ ٹرین فرنٹئیر میل لاہور پہنچتے ہیں ۔لاہور کے منٹو پارک میں ہر طرف...
Read moreDetails’’حرفِ رقصاں‘‘میں حروف رقصاں یاسمین بخاری کے دوسرے مجموعہ کلام’’حرفِ رقصاں‘‘ کی تقریب رونمائی ازقلم: حسیب اعجاز عاشر زاہد شمسی...
Read moreDetailsلاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...
Read moreDetailsڈراوا یا ڈرامہ
عفت
پٹھان کوٹ کا حملہ کیا ہوا ایک بار پھر پاکستان کو اس میں ملوث کرنے کی کوششیں جا ری ہو گئیں ۔پاکستان کا نام تو بھارت کے منہ پہ ایسے چڑھا ہوا ہے کہ کوئی پرندہ بھی اڑ کہ پاکستان سے بھارت چلا جائے تو وہ پاکستانی جاسوس کہلاتا ہے ۔اس پہ طرہ یہ کہ معاملہ اندرونی ہو یا بیرونی بھارتی حکام کا ایک ہی رٹا ہو تا ہے کہ پاکستان ہی دہشتگردی میں ملوث ہے جس طرح اسٹار پلس کا ڈرامہ کئی اقساط پہ مشتمل ہوتا ہے اور کہانی کو ہر ممکن پیچیدہ بنانے کی لا محالہ کوشش کی جاتی ہے رج کہ سازشیں ہوتی ہیں اور ایک چوٹ کھائی ہوئی ناگن کی طرح چلتی ہے بلکل اسی طرح تخلیقِ پاکستان سے ہی بھارت چوٹ کھائی ناگن کی طرح تڑپ رہا ہے سو مختلف بے بنیاد باتوں کو بنیاد بنا کر ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے اس کا مقصد ہمیشہ کی طرح عالمی برادری کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانا اور خود کو مظلوم ثابت کرنا ہے اب پٹھان کوٹ کے حملے کو ہی دیکھ لیں ۔انکشاف ہوا کہ یہ حملہ درحقیقت چند گھنٹوں پہ محیط ایک جھڑپ تھی جیسی اکثر دو راہ گیروں کے درمیان ٹکراؤ سے ہوتی اور تھوڑی دیر بک بک جھک جھک کے بعد اپنی اپنی راہ لیتے ہیں ۔مگر بھارتی حکمرانوں کی ڈرامہ سازی کہ اسے تین چار روزہ مقابلہ بنا دیا اور الزام پاکستان کے سر منڈھ دیا تا کہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کو نیچا دکھا سکے ۔تحقیقی زرائع کے مطابق حملہ آوروں کو ائیر بیس میں داخل ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا لہذا ائیر بیس کا اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا واویلا مچا دیا ۔اب پاکستان کی سادگی کہ جیش محمد پہ الزام کے باعث پاکستان نے مکمل تعاون کی یقین دھانی کروائی اور ایک تحقیقاتی ٹیم بھی روانہ کی۔۲۷ مارچ کا پہنچنے والی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا مگر بھارت کی ڈرامہ سازی دیکھیں کہا گیا اس مقام سے جب حملہ آور داخل ہوئے تو لائیٹس نہیں جل رہیں تھیں ۔بجائے تحقیقاتی ٹیم کو دروازے سے اندر لاتے سائیڈ کے تنگ راستے سے اندر لایا گیا ۵۵ منٹ کے دورے میں ہی معاملہ نبٹا دیا گیا بقول بھارتی حکام حملہ آور پاکستان سے آئے تھے ۔انہوں نے جب سرحد پار کی بی ۔ایس ایف کے اہلکار سو رہے تھے ۔اور سرحدی باڑوں میں برقی رو موجود نہیں تھی ۔پھر بیان آیا کہ حملہ آوروں نے بغیر ہک کی رسی سے بیس کی دیوار پھلانگی ۔اس پہ طرہ یہ کہ ائیر بیس کی بتیاں گل تھیں جبکہ ۲۸ گھنٹے قبل وارننگ دی گئی تھی ۔اب متضاد الجھے بیان معاملے کو اور الجھا رہے اور صاف دکھائی دیتا کہ یہ سب ایک ڈرامے اور ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں مگر سکرپٹ کی کمزوری اسے لے ڈوبی اور آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔
پاکستان تو خود دہشتگردی سے نبرد آزما ایک ملک ہے اور آئے دن اس کی پاداش میں اپنے نودمیدہ لہو کا خراج ادا کرتا رہتا رہتا بقول میر تقی میر ۔۔۔۔۔۔سر اٹھاتے ہی ہوگئے پامال۔۔۔۔۔۔۔سبزہء نودمیدہ کی طرح
ہم خود اپنی قوتِ خود ارادی کی بدولت دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے چہ جائیکہ اسے پروموٹ کررہے عالی برادری کو چاہیے کہ بھارت کے بیانات کی تحقیق کرے اور قرارواقعی حالات کی نشان دہی کرے۔