قصاب مافیا بمقابلہ ڈی سی او لیہ اور اجڑتی مٹن مارکیٹ تحریر۔۔ محمد عمر شاکر لالو کھیت مارکیٹ کراچی کا...
Read moreDetailsدو چیزیں ۔ ایک " ہار " اور دوسرا " خوف مقبول جنجو عہ اگر آپکے سامنے دو چیزیں ہوں۔...
Read moreDetailsنقطہ نظر لہو رَنگ وادی محمد عمار احمد کشمیر میں شبِ ظلمت کی ابتداء1846 میں گورے سرکار کے ہاتھوں اس...
Read moreDetailsسپہ سالارامن۔حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔۔۔ایک خوشبو کا سفر تبصرہ: حسیب اعجاز عاشر پاک ٹی ہاوس میں کئی...
Read moreDetailsز ہرِ ہلاہل عفت انسان کا خمیر مادی خواہشات سے اٹھا ہے ۔اس کی گھٹی میں کئی خواہشات کے پیمانے...
Read moreDetailsماں ولی تحریر : انجم صحرائی قارئین کرام ! آج میں جس شخصیت کے حوالے سے اپنی یادوں کو ترتیب...
Read moreDetailsروضۃ الاقطاب ۔۔۔ ازقلم: حسیب اعجاز عاشر علمی ، ادبی، سماجی و ثقافتی تنظیم جگنو انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ڈاکٹر...
Read moreDetailsچہء مگوئیاں عفت مرشد نے بارہا مجھے ایک ہی نصیحت کی کہ عام لوگوں کی بات کرو عام لوگوں کی...
Read moreDetailsبدمعاشی کا سنہری دور مقبول جنجو عہ آج کل بدمعاشی پر بہت بری طرح زوال آیا ھوا ھے میں نے...
Read moreDetailsاداریہ جزل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر تر قی دی جا ءے پاک فوج نے آرمی چیف...
Read moreDetailsراولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...
Read moreDetailsادب روٹھ رہا ہے
محمد عمار احمد
سُہانے وقتوں میں دادی اماں سونے سے پہلے بچوں کو لوک کہانیاں ،اسلامی واقعات اور لوک گیت سنایا کرتی تھیں، بچوں کی یہ عادت اتنی پختہ تھی کہ یہ سب سنے بغیر سوتے ہی نہیں تھے ۔بچہ جب پڑھنے لکھنے لگتا تو اپنی تعلیمی مصروفیات سے فراغت کے بعد دن میں کچھ وقت کے لئے کوئی ناول،ڈائجسٹ یا کتاب لے کر اس کا مطالعہ کرتا،یہ کام باقاعدگی سے دل لگی کے لئے کیا جاتا جس سے بچے اپنی تاریخ،روایات اور ثقافت سے بہرہ ور رہتے اس سے بچوں میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوتیں ،بہترذہنی نشو و نما ہوتی ۔ہر بچے کے پاس مختلف قسم کا ادبی مواد موجود رہتا اور دوستوں میں اس کا تبادلہ ہوتا۔جب یہی بچے بڑے ہوتے تو ان میں تاریخ،ثقافت اور اسلامی کتب پڑھنے کا شوق موجود ہوتا وہ ان کتب کا مطالعہ کرتے ۔اگر گھر والے کچھ سختی بھی کرتے تب بھی چھپ چھپا کر اور جیب خرچ سے پیسے بچا کر مختلف ادبی و تاریخی کتب خرید کر پڑھتے اس کے سبب بچوں میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا ہوتیں ۔
پھر یوں ہوا کہ ڈائجسٹ،ناولوں اور کتب کی جگہ فلمزاورسی ڈیز نے لے لی ،اب بچوں میں کتب اور ناولوں کی بجائے سی ڈیز اور گانوں کا
تبادلہ ہونے لگا،بچوں ی طبیعت میں منفی اثرات ظاہر ہونے لگے،نہ کھانے کا پتا نہ پینے کا ہوش،والدین کوئی کام بتاتے تو سنی ان سنی کر دی جاتی کیونکہ کتاب پڑھنے کے دوران کھانے پینے کا وقت آجاتا ہے یا کوئی اور کام کرنے کی گنجائش ہوتی ہے مگر فلم دیکھنے کے دوران اس کی قطعی گنجائش نہیں ہوتی یہاں تک کہ پوری فلم نہ دیکھ لی جائے ۔ اب دور ہے سماجی ویب سائٹس ،کا اس نے نسلِ نو میں مزید بگاڑ پیدا کر دیا ہے ، ہر لمحہ ’’آن لائن‘‘ رہنے کی خواہش میں تعلیم کا نقصان،کھانا کھاتے وقت موبائلز،لیپ ٹاپس سامنے، توجہ کھانے کی بجائے ان آلات پر ،محفل میں بیٹھے ہیں تو ایک دوسرے کی بات سننے کی بجائے انہی کی جانب توجہ، الغرض کھانے پینے اور محفل میں بیٹھنے کے آداب رخصت ہوئے ۔اس کے سبب نہ ہی بچوں میں کھلنے کا شوق رہا ہے نہ ہی کتب بینی کا اپنی روایات اجنبی ٹھہری ہیں، ادب ان کے لئے ایک انجان سی شے بن چکا ہے اور تخلیقی صلاحیتیں ناپید ہیں ۔
کتب سے دوری کے سبب ہم اپنی اخلاقی قدروں ،ثقافتی رویات اور مذہبی تعلیمات سے بے بہرہ ہیں ،اغیار کی تقلید میں ہر حد سے گزرنے کو تیار ہیں اپنے مذہبی تہوار اسی طرح مناتے ہیں جیسے مغرب میں ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے ۔ عید الفطراور عید الاضحی جیسے تہوار بھی جام و رقص کی محفلیں سجا کر مناتے ہیں چہ جائیکہ ہم یہ کہیں کہ ہم ویلنٹائن ڈے مشرقی روایات کے تحت منائیں گے۔ہمارے آئیڈیل اغیار ہیں ،ہماری داڑھی مونچھ کی وضع قطع لباس انہی جیسے ، ثقافتی تہوارہمارے مگر منانے کا طریقہ انہی کی تہذیب کا عکاس ہے ۔ہم اپنے ادبی ،ثقافتی اسلامی و تاریخی ورثے سے بے اعتنائی برت کر ہر تہذیب ،ہر قوم کی تقلید کے لئے بے تاب ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ ہم کوئی بھولی بسری،کنگال ،تاریخی پسِ منظر سے محروم خالی ہاتھ قوم ہیں جس کے پاس اپنا کوئی نظریہ ،عقیدہ ،طریقِ حیات اورتہوار نہ ہے ۔
گزشتہ برس سے اب تک ہمارے درمیان سے بڑے بڑے ادیب ،شاعر ،ناول و ڈرامہ نگارجا چکے ہیں ۔عبد اللہ حسین ہارون،کمال احمد رضوی،اشتیاق احمد،جمیل الدین عالی ،انتظار حسین اور آپا ثریا جیسی عظیم ادبی شخصیات رخصت ہوہو چلی گئی ہیں۔
شاید یہ سب ہستیاں اپنی بے قدری اور ہماری بے اعتنائی کو مزید برداشت نہ کر سکتی تھیں ۔یہاں ایسے لوگوں کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کےوہ مستحق ہوتے ہیں ،سرکاری سطح پر ان کی سرپرستی نہیں کی جاتی بلکہ بیشترانہیں پابندیاں سہنا پڑتی ہیں جبکہ قوم سماجی رابطوں کے ذرائع میں مدہوش ہے ۔ان کی خدمات سے ہم منہ موڑے رکھتے ہیں جبکہ یہی لوگ ہمارے عقائدونظریات اور ثقافتی روایات کے نمائندہ ہوتے ہیں ،یہی ہماری تہذیب کودنیاکے سامنے لاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے ہمیں ان عظیم لوگوں سےمحروم کیاجارہا ہے اور لگتا ہے کہ ادب اپنی بے ادبی سہہ نہیں پارہا ،وہ ہماری بے اعتنائی پر نالاں ،بے رغبتی سے افسردہ اور بے حسی کے سبب ہم سےروٹھ رہا ہے۔ہمیں اپنے ان رویوں پر غور کرنا چاہئے اور سرکاری سطح پرادبی شخصیات کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے اور نسلِ نو میں ان کی تحریروںکو پڑھنے کے لئے رغبت پیدا کرنی چاہئے تاکہ نوجوان اپنے ان عظیم لوگوں کی قدر وقیمت کو پہچاننے کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت ،تاریخ اور مذہبی احکامات سے بھی روشناس ہو سکیں ۔ہر قوم ،ہر نئے فیشن کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی روایات کو اپنانے میں فخر محسوس کرے اور اپنے تہواروں کو اپنی روایات کے تحت ہی منائیں ۔۔۔

محمد عمار احمد ahmadmomin676@yahoo.com