بے ضبط و نظم یہ تحریر کرتے ہوئے میری آنکھیں پر نم ،دل شکستہ اور ہاتھ لرزاں و ترساں ہیں کہ ہمارے وسیب کے ایک سچے، کھرے، وضعدار و با کردار دوست مخدوم سید گل جہانیاں ہمیں روتا چھوڑ کر تین رمضان المبارک کی شب اپنی والدہ سیدہ سعیدہ بی بی کے قدموں میں جنت مکانی ہوگئے، سینکڑوں خیرخواہ ،دوست اور اولاد صالح و عزیزان کی یادوں میں آہ و فغاں کے ساتھ فانی دنیا سے رخصت ہو کر جہان آخر میں جابسے ، جب لحد کی مٹی کہہ رہی تھی کہ
ویکھ فریدا مٹی کھلی ، مٹی اتے مٹی ڈلی، مٹی ہسے ، مٹی رووے ، انت مٹی دا مٹی ہووے،
سب پیکران خاک کو ایک دن خاک ہونا ہے مگر کچھ خاکم بدہن ایسے ہوتے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا خاک ہی ہوتا ہے اور وہ یوں خاک نشیں ہو تے جنہیں خاک ایک لمبی مدت تک عرش نشیں ،فرش نشیں رکھتی ہے یہ خاکی یہ ترابی ہی دراصل محبت پرور، انسانیت کے سر پر تاج ہوتے ہیں ، اب تو برادر عزیز گل جہانیاں کے اچانک یوں چلے جانے کے بعد لگ رہا ہے کہ
محبتوں کے پاسباں نہ شہر میں نہ گاؤں میں
حقیقتوں کے راز داں نہ شہر میں نہ گاؤں میں ،
زمین و ذر کے حکمراں ملے ہمیں گلی گلی،
مگر دلوں کے حکمراں نہ شہر میں نہ گاؤں میں ،
ایسے بےمثل و نایاب لوگوں کے لیے کہا گیا تھا کہ
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔
بھائی گل جہانیاں کے وارثان میں برخوردار باقر شاہ، زین العابدین شاہ و صاحبزادی اور نہایت ہی شفیق و مہربان بھابھی صاحبہ سمیت برادران سید غلام قادر شاہ، سید طاہر شاہ اور سید غلام عباس شاہ کے علاوہ گل بھائی کا خانوادہ الفت و محبت شامل ہے لیکن یہ محض اطمینان نہیں بلکہ باعث اعزاز بھی ہے کہ ان خوش نصیبوں میں رئیس سلیم چاچڑ ، محمد شہزاد اور محمد اسداللہ شہزاد سمیت خاور حیات،فاروق سندھو اور ان کے معتمد عبید الرحمن شامل ہیں ، علاوہ ازیں ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا،
سچ پوچھیں تو لگتا ہے کہ سئیں گل جہانیاں کی یہ فصل گل بڑی دیر تک شاداب رہے گی اور حقیقی وارثان کے ساتھ ساتھ بے شمار احباب انہیں اپنی زندگی میں بھلا نہ پائیں گے ،
یوں تو آج چھ رمضان المبارک کی شب ہے اور کچھ ہی دیر بعد سحری کے لمحات آنے والے ہیں یوں لگتا ہے کہ کسی لمحے بھائی گل جہانیاں کے فون سے ہم ان کی محبت بھری صدا سنیں گے وہ اپنی صحت ، حالات اور ماحول کی سنگینی کو پس پشت ڈال کر صرف محبت کی باتیں کریں گے۔
ہوا یوں کہ بندہ ناچیز کی سال 1994 کے وسط میں رحیم یار خان بطور ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر تعیناتی ہوئی اور وہ میرے دفتر تشریف لائے ، سلسلہء بیاد فیاض حسین بخاری مرحوم چلا ، پھر ایسا چلا کہ آج سال 2026ء ہے مگر اس سارے عرصے میں خوشبو الفت و تکریم میں اضافہ در اضافہ ہوتا چلاگیا ، پتہ ہی نہ چلا کہ بتیس برس بیت گئے ، دوروز قبل جب ہم ان کے خاک نشیں ہونے پر وقت افطار دل آزردہ تھے تب سندھ کے معروف خانوادے لیاقت مہیسر اور روجھان سے شاھد مزاری سمیت دیگر دوستوں نے پہلی بار رحیم یار خان میں دو بارہ نہ آنے کی بات کی ، یہ محض ایک بات نہیں تھی بلکہ یہ بات تھی کہ
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا ۔میں باہر جاؤں کس کے لیے ،
وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا
اب ایسے ویسے لوگوں سے میں ہاتھ ملاوں کس کے لیے ،
مخدوم گل جہانیاں کے سفر آخرت کے موقع پر کئی نامور شخصیات سے ملاقات ہوئی جاوید اقبال ، میاں احسان ، راؤ نعمان اسلم ، ڈاکٹر ممتاز مونس ، ملک حبیب اللہ ، رئیس عبدالحمید برڑہ، ساجد درانی ، لیاقت گیلانی اور دیگر ۔
اللہ اکبر ، یہ تذکرہ ء جاناں ہے جس کا ہر پہلو روزنامہ فتح مبین سے لے کر بہت آگے اور پیچھے ہر رنگ میں ایک ہی رنگ نظر آرہا ہے کہ یہ محفل جو آج سجی ہے
اس محفل ہے کوئی ہم سا ،
ہم سا ہو تو سامنے آئے ۔
برادر عزیز اس محفل میں فی الحال آپ جیسا کوئی نہیں ہے ، ہم تو پہلی ملاقات سے آپکے بارے میں کہتے چلے آئے ہیں کہ آپ ہی کے لیے سخنور نے کہا تھا کہ
ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
خدا بزرگ و برتر آپ کو صدقہ ء محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و صدقہ ء پنج تن پاک جنت کے اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور بلا شبہ جنت مکانی ہیں کہ اپنی والدہ مرحومہ کے قدموں میں آسودہ بہشت ہوئے کہ آپ باوضو ، باروزہ اور بااقرار کلمہ طیبہ تھے ۔
انا للہ وانا الیہ رجعون
مخدوم سید گل جہانیاں بخاری ، ہمارا اک سہانا خواب ۔ جس کی تعبیر اب حسرت و غم کے اور کچھ نہیں ۔
انسانی حقوق گروپوں کی اسرائیلی جیلوں میں سینکڑوں فلسطینی بچوں کی حالت زار پر تشویش
انسانی حقوق سے متعلق گروپوں نے اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینی بچوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار...
Read moreDetails









