انسانی حقوق سے متعلق گروپوں نے اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینی بچوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی بچوں کی زندگی شدید اذیت ناکی کا شکار ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق فلسطینی نظر بندوں کے حقوق کے لیے قائم کمیشن فلسطینی پرزنر سوسائٹی اور ایڈامیر پرزنر سپورٹ کے علاوہ ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن نے بیان میں کہا ہے کہ اکتوبر 2023 سے جیلوں میں بند فلسطینی بد ترین اذیتوں کا شکار ہیں۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وافا کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں عام فلسطینی قیدیوں میں سے کسی کی حالت بھی اچھی نہیں مگر فلسطینی بچوں کو سب سے زیادہ پرتشدد اسرائیلی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ مجموعی طور پر صرف اکتوبر 2023 کے بعدمزید 1700 فلسطینی بچے اسرائیلی جیلوں میں نظر بند ہیں۔
انسانی حقوق گروپوں نے ان بچوں کے خلاف اسرائیل کی نظر بندیوں کے لیے پالیسیوں کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی ہر نسل کو ہی جیلوں میں بد ترین تشدد کا سامنا ہے۔ ان میں کئی ہزار فلسطینی بچے بھی ہیں۔ فلسطینی بچوں کے لیے منائے جانے والے دن کے موقع پر ان گروپوں نے کہا کہ ان بچوں کو اکثر اسرائیلی فوج کی جانب سے رات کے وقت کی جانے والی کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا ہے جب مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں میں اسرائیلی فوج گھس جاتی ہے۔ جیلوں میں نظر بند کیے جانے والے لمبے عرصے تک کھانے پینے سے محروم رکھے جاتے ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 89 فلسطینی بچوں کا تعلق غزہ سے ہے۔ جنہیں اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کے حالیہ بنائے گئے قانون میں فلسطینیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جانے والا ہے اس سے جیلوں میں قید فلسطینیوں پر مزید اذیتیں شروع ہونے والی ہیں۔
سورس ۔۔ اے پی پی










