• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

چہء مگوئیاں ۔۔۔۔ عفت

webmaster by webmaster
جنوری 31, 2016
in First Page, کالم
0
چہء مگوئیاں ۔۔۔۔    عفت
چہء مگوئیاں
عفت
DailyTimes-KidneyforSaleمرشد نے بارہا مجھے ایک ہی نصیحت کی کہ عام لوگوں کی بات کرو عام لوگوں کی بات لکھو ۔وہ خود بھی ساری عمر عوامی رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے رہے اور کر رہے ہیں ۔ہم اہلِ قلم کا ہتھیار قلم ہی ہے جو لوگوں کے حال کو بزبانِ قلم صفحہ قرطاس پہ بکھیرتا ہے ۔مگر نہ ملک کی تقدیر بدلتی نظر آئی نہ غریب عوام کی ۔ اب ملکی حالات اس نہج پہ پہنچ گئے ہیں کہ ہمارے

تعلیمی ادارے بند،مختلف اداروں کے احتجاجات، گیس بجلی پانی کی لوڈ شیڈنگ اور عوام سڑکوں پہ ان حکمرانوں کو کوسنے دیتی ہوئی،توڑ پھوڑ کرتی ہوئی ،ہر طرف دہشت کا بازار گرم ہے اس پہ طرہ یہ کہ ہمارے سیاست دان حسبِ معمول بے تکی باتوں پہ بحث کرتے نظر آتے ہیں ۔کبھی سگریٹ نوشی پہ بحث کبھی انگوٹھی پہ کہاں سے آئی کس نے پہنائی پہ ،کبھی مذمتیں نہ کرنے کی دہائی ،کراچی میں ایم ۔کیو ایم ،الطاف بھائی کی تحریر و تقریر پہ پابندی کے نتیجے میں سڑکوں پہ نکلنے پہ تیار ،،سارا ملک بلاوجہ انتشار کی زد میں ہے درحقیقت فوج کے علاوہ کسی کو اس ملک کے بارے میں کسی قسم کی تشویش نہیں اب وہ سرحدوں کی حفاظت بھی کرے اندرونی معاملات سے بھی نمٹے اور عوام کی حفاظت بھی کرے تو ایسی صورتحال میں سب وزراء گھر بیٹھ جائیں ۔کیونکہ وہ سوائے ایک دوسرے پہ پھبتیاں کسنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے جب یہی کرنا ہے تو اس کے لیے ایوان سجانے کی کیا ضرورت ہے ان کے پروٹوکولز پہ جو تخمینہ لگتا اس سے کئی گھروں کا چولھا جل سکتا ہے۔جب ملک حالتِ جنگ میں ہے تو کیا ان فضول حرکات کے بجائے ملکی حالات پہ توجہ دیں تھر میں بھوک اور بیماری سے بلکتے بچوں کو دیکھیں ۔عوام کے اور ملک کے تحفظ کے جو وعدے وعید کیے اور عوام کے ووٹوں کے کاندھے پہ چڑھ کر جب اسمبلیوں میں پہنچے اور وہاں جو حلف اٹھایا اس کا پاس کریں نہ کہ اپنی تو تو میں میں میں لگے رہیں ۔سیاسی جوڑ توڑ اور آپس کے اختلافات کو کسی اور موقعے کے لیے اٹھا رکھیں۔real estate and property situation in Pakistan 1
وہ چوک پہ کھڑا تھا اس نے اپنے گلے میں ڈوری کے ساتھ ایک بینر سا لٹکا رکھا تھا جس پہ لکھا تھا ڈگریاں برائے فروخت۔اور نیچے (،ایف ۔ایس ۔سی۔،بی ایس سی۔ایم ایس سی۔ایم اے ۔ایم فل ،پی،ایچ ڈی۔)قطار میں لکھی ہوئی تھیں ۔اور ہر گذرنے والا اسے دیکھتے ہوئے گذر رہا تھا کسی کے لبوں پہ تحریر پڑھ کے مسکراہٹ بکھر جاتی اور کوئی افسوس ذدہ نظر ڈال کر گذر جاتا ۔اسی اثناء میں کسی وی، آپی کی آمد کا غلغلہ مچا اور پولیس آ موجود ہوئی ٹریفک روک دی گئی ۔اور شاہراہ کو بند کر دیا گیا اس پہ یہ قیامت مچی کہ پولیس والے اس ملگجے لباس والے نوجوان کو مشکوک قرار دے کر بری طرح پیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے نوجوان کے چہرے پہ بے بسی کی تحریررقم تھی کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہ تھا وہ کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا تو پولیس والے مکوں اور ٹھڈوں سے اس کی تواضع کرنے لگتے۔نوجوان کے بہتے آنسو اس کی بے بسی کے غماز تھے جو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے میرا قصور غریب پاکستانی ہونا اور اس سے بڑھ کے بیروزگار اعلی تعلیم یافتہ ہونا ہے ۔اگر میں بھی مڈل پاس ہوتا اور الیکشن جیتا ہوتا تو آج مجھے بھی پروٹوکول مل رہا ہوتا ۔اگلے دن اخبارات چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔ ایک دہشت گرد پولیس مقابلے میں مارا گیا ۔
تعلیمی ادارے سردیوں کی چھٹیوں وجہ سے بند ہوگئے اور یہ خبر رات گئے نشر کی گئی۔لیکن قیامت کی نظر رکھنے والے تاڑ گئے کہ معاملہ کچھ اور ہے ۔اور اگلے دن ہی صورتحال سامنے آگئی ۔کئی ادارے سیکیورٹی کے نامناسب انتظام کی وجہ سے سیل کر دئیے گئے ۔ایک سوال میرے ذہن میں بار بار اٹھتا ہے کہ کیا ہر بات کی ذمہ داری فوج پہ ہے ؟کیا ہمارا کردار اس میں محض تماشائی بنے رہنے کا ہے؟ہماری نسلِ نو خوف کا شکار ہے تدریسی ادارے دشمن کے اہداف ہیں اور آسان ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں ۔شاید دشمن ہماری کمزوری بھانپ گیا ہے ،لیکن اب ان حالات کو سمجھتے ہوئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچے بچے کو دشمن سے نمٹنے کی تربیت دیں اور ہر شخص ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرے۔بالخصوص ہمارے نوجوان تو لازمی شہری دفاع کی ٹریننگ لیں تاکہ وہ اپنا اور دوسروں کا تحفظ کر سکیں ۔مگر ہمارے ملک میں یہ بدقسمتی عام ہے کہ اس قسم کی کام کی باتوں پہ توجہ دینے کے بجائے ایک دوسرے کے بیانات اور ان کے جوابات اور الزام تراشیوں کی سیاست سے فرصت نہیں ۔اور اگر ایسے پروگرام شروع ہو جاتے تو ان کو مکمل ہونے سے پہلے کھوہ کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔بحر طور مجموعی طور پہ ہمیں ہمیں خود انتظامی انتظامات کرنے چاہیے تاکہ ہم اپنی افواج کے کندھے کا بوجھ بانٹ سکیں اور اپنا حق ادا کر سکیں ۔اور یہ نہ صرف وقت کا تقاضا بلکہ ہماری اہم ضرورت ہے ۔

Previous Post

پنجاب میں سکولز یکم فروری کو کھلیں گے ۔ رانا مشہود

Next Post

پریس کلب کوٹ سلطان کے انتخابات ۔ عابد فاروقی صدر ،محمد محسن جزل سیکرٹری منتخب

Next Post

پریس کلب کوٹ سلطان کے انتخابات ۔ عابد فاروقی صدر ،محمد محسن جزل سیکرٹری منتخب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین  کی  کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند  ہو گا ۔علیمہ خانم
قومی/ بین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظ آئین کی کال پر 8فروری کو سارا پاکستان بند ہو گا ۔علیمہ خانم

by webmaster
جنوری 28, 2026
0

علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...

Read moreDetails
پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان جون 2026 تک مکمل کیا جاءے۔وزیر اعلی مریم نواز

جنوری 26, 2026
پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ۔ڈیرہ غازیخان سمیت متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیشین گوئئ

جنوری 24, 2026
ملک میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، وزیراعظم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس؛ پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

جنوری 21, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

جنوری 18, 2026
چہء مگوئیاں عفت DailyTimes-KidneyforSaleمرشد نے بارہا مجھے ایک ہی نصیحت کی کہ عام لوگوں کی بات کرو عام لوگوں کی بات لکھو ۔وہ خود بھی ساری عمر عوامی رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے رہے اور کر رہے ہیں ۔ہم اہلِ قلم کا ہتھیار قلم ہی ہے جو لوگوں کے حال کو بزبانِ قلم صفحہ قرطاس پہ بکھیرتا ہے ۔مگر نہ ملک کی تقدیر بدلتی نظر آئی نہ غریب عوام کی ۔ اب ملکی حالات اس نہج پہ پہنچ گئے ہیں کہ ہمارے
تعلیمی ادارے بند،مختلف اداروں کے احتجاجات، گیس بجلی پانی کی لوڈ شیڈنگ اور عوام سڑکوں پہ ان حکمرانوں کو کوسنے دیتی ہوئی،توڑ پھوڑ کرتی ہوئی ،ہر طرف دہشت کا بازار گرم ہے اس پہ طرہ یہ کہ ہمارے سیاست دان حسبِ معمول بے تکی باتوں پہ بحث کرتے نظر آتے ہیں ۔کبھی سگریٹ نوشی پہ بحث کبھی انگوٹھی پہ کہاں سے آئی کس نے پہنائی پہ ،کبھی مذمتیں نہ کرنے کی دہائی ،کراچی میں ایم ۔کیو ایم ،الطاف بھائی کی تحریر و تقریر پہ پابندی کے نتیجے میں سڑکوں پہ نکلنے پہ تیار ،،سارا ملک بلاوجہ انتشار کی زد میں ہے درحقیقت فوج کے علاوہ کسی کو اس ملک کے بارے میں کسی قسم کی تشویش نہیں اب وہ سرحدوں کی حفاظت بھی کرے اندرونی معاملات سے بھی نمٹے اور عوام کی حفاظت بھی کرے تو ایسی صورتحال میں سب وزراء گھر بیٹھ جائیں ۔کیونکہ وہ سوائے ایک دوسرے پہ پھبتیاں کسنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے جب یہی کرنا ہے تو اس کے لیے ایوان سجانے کی کیا ضرورت ہے ان کے پروٹوکولز پہ جو تخمینہ لگتا اس سے کئی گھروں کا چولھا جل سکتا ہے۔جب ملک حالتِ جنگ میں ہے تو کیا ان فضول حرکات کے بجائے ملکی حالات پہ توجہ دیں تھر میں بھوک اور بیماری سے بلکتے بچوں کو دیکھیں ۔عوام کے اور ملک کے تحفظ کے جو وعدے وعید کیے اور عوام کے ووٹوں کے کاندھے پہ چڑھ کر جب اسمبلیوں میں پہنچے اور وہاں جو حلف اٹھایا اس کا پاس کریں نہ کہ اپنی تو تو میں میں میں لگے رہیں ۔سیاسی جوڑ توڑ اور آپس کے اختلافات کو کسی اور موقعے کے لیے اٹھا رکھیں۔real estate and property situation in Pakistan 1 وہ چوک پہ کھڑا تھا اس نے اپنے گلے میں ڈوری کے ساتھ ایک بینر سا لٹکا رکھا تھا جس پہ لکھا تھا ڈگریاں برائے فروخت۔اور نیچے (،ایف ۔ایس ۔سی۔،بی ایس سی۔ایم ایس سی۔ایم اے ۔ایم فل ،پی،ایچ ڈی۔)قطار میں لکھی ہوئی تھیں ۔اور ہر گذرنے والا اسے دیکھتے ہوئے گذر رہا تھا کسی کے لبوں پہ تحریر پڑھ کے مسکراہٹ بکھر جاتی اور کوئی افسوس ذدہ نظر ڈال کر گذر جاتا ۔اسی اثناء میں کسی وی، آپی کی آمد کا غلغلہ مچا اور پولیس آ موجود ہوئی ٹریفک روک دی گئی ۔اور شاہراہ کو بند کر دیا گیا اس پہ یہ قیامت مچی کہ پولیس والے اس ملگجے لباس والے نوجوان کو مشکوک قرار دے کر بری طرح پیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے نوجوان کے چہرے پہ بے بسی کی تحریررقم تھی کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہ تھا وہ کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا تو پولیس والے مکوں اور ٹھڈوں سے اس کی تواضع کرنے لگتے۔نوجوان کے بہتے آنسو اس کی بے بسی کے غماز تھے جو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے میرا قصور غریب پاکستانی ہونا اور اس سے بڑھ کے بیروزگار اعلی تعلیم یافتہ ہونا ہے ۔اگر میں بھی مڈل پاس ہوتا اور الیکشن جیتا ہوتا تو آج مجھے بھی پروٹوکول مل رہا ہوتا ۔اگلے دن اخبارات چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔ ایک دہشت گرد پولیس مقابلے میں مارا گیا ۔ تعلیمی ادارے سردیوں کی چھٹیوں وجہ سے بند ہوگئے اور یہ خبر رات گئے نشر کی گئی۔لیکن قیامت کی نظر رکھنے والے تاڑ گئے کہ معاملہ کچھ اور ہے ۔اور اگلے دن ہی صورتحال سامنے آگئی ۔کئی ادارے سیکیورٹی کے نامناسب انتظام کی وجہ سے سیل کر دئیے گئے ۔ایک سوال میرے ذہن میں بار بار اٹھتا ہے کہ کیا ہر بات کی ذمہ داری فوج پہ ہے ؟کیا ہمارا کردار اس میں محض تماشائی بنے رہنے کا ہے؟ہماری نسلِ نو خوف کا شکار ہے تدریسی ادارے دشمن کے اہداف ہیں اور آسان ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں ۔شاید دشمن ہماری کمزوری بھانپ گیا ہے ،لیکن اب ان حالات کو سمجھتے ہوئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچے بچے کو دشمن سے نمٹنے کی تربیت دیں اور ہر شخص ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرے۔بالخصوص ہمارے نوجوان تو لازمی شہری دفاع کی ٹریننگ لیں تاکہ وہ اپنا اور دوسروں کا تحفظ کر سکیں ۔مگر ہمارے ملک میں یہ بدقسمتی عام ہے کہ اس قسم کی کام کی باتوں پہ توجہ دینے کے بجائے ایک دوسرے کے بیانات اور ان کے جوابات اور الزام تراشیوں کی سیاست سے فرصت نہیں ۔اور اگر ایسے پروگرام شروع ہو جاتے تو ان کو مکمل ہونے سے پہلے کھوہ کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔بحر طور مجموعی طور پہ ہمیں ہمیں خود انتظامی انتظامات کرنے چاہیے تاکہ ہم اپنی افواج کے کندھے کا بوجھ بانٹ سکیں اور اپنا حق ادا کر سکیں ۔اور یہ نہ صرف وقت کا تقاضا بلکہ ہماری اہم ضرورت ہے ۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.