• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
SB2425
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

لالۂ تھل — مہر نور محمد تھند مرحوم ,,,, تحریر مہر محمد عرفان تھند

webmaster by webmaster
مارچ 31, 2026
in کالم
0
لالۂ تھل — مہر نور محمد تھند مرحوم  ,,,, تحریر مہر محمد عرفان تھند

کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی تاریخ، اس کی تہذیب اور اس کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محنت اور علم کے ذریعے اس تاریخ کو محفوظ کرتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں، مگر وہ لوگ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں جو اپنے قلم کے ذریعے اپنے علاقے، اپنی مٹی اور اپنی قوم کی کہانی آنے والی نسلوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ میرے والد محترم مہر نور محمد تھند مرحوم بھی ایسی ہی ایک باوقار اور علمی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور تحریر کے لیے وقف کر دی۔

مہر نور محمد تھند مرحوم کو مطالعے اور تحقیق سے غیر معمولی شغف تھا۔ وہ اپنے علاقے کی تاریخ، ثقافت اور روحانی ورثے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جو قوم اپنی تاریخ سے بے خبر ہو جائے وہ اپنی شناخت بھی کھو دیتی ہے۔ یہی سوچ ان کی تحریروں کا بنیادی محرک بنی۔ انہوں نے نہایت محنت، جستجو اور مسلسل مطالعے کے ذریعے اپنے علاقے کے تاریخی، سماجی اور روحانی پہلوؤں کو قلمبند کیا تاکہ آنے والی نسلیں اپنی مٹی کی پہچان سے جڑی رہیں۔

ان کی نمایاں تصانیف میں “تاریخ لیہ”، “بھکر”، “مسلم لیگ کے سو سال”، “ماں”، “اولیائے لیہ” اور “کروڑ” شامل ہیں۔ ان کتابوں میں صرف معلومات ہی نہیں بلکہ ایک سچے محقق کی لگن اور اپنے علاقے سے محبت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر “تاریخ لیہ” ایک ایسی اہم کتاب ہے جس نے اس خطے کی تاریخ کو ایک نئی ترتیب اور تحقیق کے ساتھ پیش کیا۔ اس کتاب کی تمہید، اسلوب اور تحقیقی انداز دیگر کتب سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی حلقوں میں اس کتاب کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اسی خدمت کے اعتراف میں انہیں محبت اور احترام کے ساتھ “لالۂ تھل” کا لقب دیا گیا۔

وہ صرف ہمارے والد نہیں تھے بلکہ پوری تھند قوم کے لیے فخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس محنت اور خلوص کے ساتھ انہوں نے اپنے علاقے کی تاریخ کو محفوظ کیا وہ یقیناً ایک بڑا علمی کارنامہ ہے۔ ان کی تحریریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ اپنے قلم کو ایک امانت سمجھتے تھے اور اسے سچائی اور تحقیق کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔

بطور والد ان کی شخصیت میں وقار، اصول پسندی اور ایک خاص سختی بھی تھی۔ بچپن میں کبھی کبھی ان کی یہ سختی ہمیں مشکل محسوس ہوتی تھی، لیکن آج جب زندگی کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کی یہی سختی دراصل ہماری کامیابی کی بنیاد تھی۔ اگر وہ ہم پر اتنی توجہ اور سختی نہ کرتے تو شاید ہم زندگی میں اس مقام تک نہ پہنچ پاتے۔

میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہی کی خواہش اور رہنمائی کی بدولت میں نے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ میں نے ریاضی کے شعبے میں ایم فل مکمل کیا اور آج ایک یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ جب میں طلبہ کو پڑھاتا ہوں تو اکثر یہ احساس دل میں ابھرتا ہے کہ اس سفر کی بنیاد میرے والد کی تربیت، ان کی نصیحتوں اور ان کی دعاؤں نے رکھی تھی۔

12 مارچ 2014 کا دن ہماری زندگی میں ایک ایسا لمحہ بن کر آیا جب علم و قلم کا یہ مسافر ہم سے جدا ہو گیا۔ وہ بظاہر اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اہلِ علم کبھی واقعی رخصت نہیں ہوتے۔ ان کی تحریریں، ان کی کتابیں اور ان کی فکر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

آج بھی جب ان کی لکھی ہوئی کتابوں کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا قلم اب بھی بول رہا ہو۔ ان کی تحریروں میں موجود تحقیق، خلوص اور اپنے علاقے سے محبت آج بھی پڑھنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہر نور محمد تھند مرحوم کا نام صرف ہماری فیملی تک محدود نہیں بلکہ پورے علاقے اور خاص طور پر تھند قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔

ہمارے لیے وہ صرف ایک والد نہیں تھے بلکہ ایک استاد، ایک رہنما اور ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیں علم، محنت اور کردار کی اہمیت سکھائی۔ ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کی علمی خدمات ہمیشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔

آج ان کی یاد میں سر جھکاتے ہوئے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مہر نور محمد تھند مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

Post Views: 42
Tags: column byirfan thnd
Previous Post

امریکا ایران جنگ رکوانے کیلیے پاکستانی کوششیں، ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی ٹیلیفونک گفتگو

Next Post

وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پرلیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو پر محکمہ صحت کا بڑا ایکشن ذمہ دارسینئر انتظامی افسران کو شوکاز نوٹس جاری

Next Post
وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پرلیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو پر محکمہ صحت کا بڑا ایکشن ذمہ دارسینئر انتظامی افسران کو شوکاز نوٹس جاری

وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پرلیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو پر محکمہ صحت کا بڑا ایکشن ذمہ دارسینئر انتظامی افسران کو شوکاز نوٹس جاری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف
قومی/ بین الاقوامی خبریں

نیلسن منڈیلا کی پوری زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کا روشن استعارہ ہے:مریم نواز شریف

by webmaster
جولائی 19, 2026
0

لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...

Read moreDetails
آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی کاررروائیوں میں 102 خارجی ہلاک

جولائی 11, 2026
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم  ?

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں رائٹ سائزنگ ،خالی نان ٹیچنگ آسامیاں ختم ?

جولائی 8, 2026
حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے،  سلمان اکرم راجا

حکومت کا معیشت کا رخ موڑنے کا دعویٰ جھوٹ ہے، سلمان اکرم راجا

جولائی 3, 2026
مریم نواز کا سڑکوں کی تعمیرو مرمت مالی سال کے آخر تک مکمل کرنے کا حکم

"شاباش ٹیم پنجاب”، "الحمدللہ امسال بھی محرم الحرام پرامن، باوقار اورمنظم رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

جون 27, 2026
کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی تاریخ، اس کی تہذیب اور اس کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محنت اور علم کے ذریعے اس تاریخ کو محفوظ کرتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں، مگر وہ لوگ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں جو اپنے قلم کے ذریعے اپنے علاقے، اپنی مٹی اور اپنی قوم کی کہانی آنے والی نسلوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ میرے والد محترم مہر نور محمد تھند مرحوم بھی ایسی ہی ایک باوقار اور علمی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور تحریر کے لیے وقف کر دی۔ مہر نور محمد تھند مرحوم کو مطالعے اور تحقیق سے غیر معمولی شغف تھا۔ وہ اپنے علاقے کی تاریخ، ثقافت اور روحانی ورثے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جو قوم اپنی تاریخ سے بے خبر ہو جائے وہ اپنی شناخت بھی کھو دیتی ہے۔ یہی سوچ ان کی تحریروں کا بنیادی محرک بنی۔ انہوں نے نہایت محنت، جستجو اور مسلسل مطالعے کے ذریعے اپنے علاقے کے تاریخی، سماجی اور روحانی پہلوؤں کو قلمبند کیا تاکہ آنے والی نسلیں اپنی مٹی کی پہچان سے جڑی رہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں “تاریخ لیہ”، “بھکر”، “مسلم لیگ کے سو سال”، “ماں”، “اولیائے لیہ” اور “کروڑ” شامل ہیں۔ ان کتابوں میں صرف معلومات ہی نہیں بلکہ ایک سچے محقق کی لگن اور اپنے علاقے سے محبت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر “تاریخ لیہ” ایک ایسی اہم کتاب ہے جس نے اس خطے کی تاریخ کو ایک نئی ترتیب اور تحقیق کے ساتھ پیش کیا۔ اس کتاب کی تمہید، اسلوب اور تحقیقی انداز دیگر کتب سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی حلقوں میں اس کتاب کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اسی خدمت کے اعتراف میں انہیں محبت اور احترام کے ساتھ “لالۂ تھل” کا لقب دیا گیا۔ وہ صرف ہمارے والد نہیں تھے بلکہ پوری تھند قوم کے لیے فخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس محنت اور خلوص کے ساتھ انہوں نے اپنے علاقے کی تاریخ کو محفوظ کیا وہ یقیناً ایک بڑا علمی کارنامہ ہے۔ ان کی تحریریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ اپنے قلم کو ایک امانت سمجھتے تھے اور اسے سچائی اور تحقیق کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ بطور والد ان کی شخصیت میں وقار، اصول پسندی اور ایک خاص سختی بھی تھی۔ بچپن میں کبھی کبھی ان کی یہ سختی ہمیں مشکل محسوس ہوتی تھی، لیکن آج جب زندگی کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کی یہی سختی دراصل ہماری کامیابی کی بنیاد تھی۔ اگر وہ ہم پر اتنی توجہ اور سختی نہ کرتے تو شاید ہم زندگی میں اس مقام تک نہ پہنچ پاتے۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہی کی خواہش اور رہنمائی کی بدولت میں نے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ میں نے ریاضی کے شعبے میں ایم فل مکمل کیا اور آج ایک یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ جب میں طلبہ کو پڑھاتا ہوں تو اکثر یہ احساس دل میں ابھرتا ہے کہ اس سفر کی بنیاد میرے والد کی تربیت، ان کی نصیحتوں اور ان کی دعاؤں نے رکھی تھی۔ 12 مارچ 2014 کا دن ہماری زندگی میں ایک ایسا لمحہ بن کر آیا جب علم و قلم کا یہ مسافر ہم سے جدا ہو گیا۔ وہ بظاہر اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اہلِ علم کبھی واقعی رخصت نہیں ہوتے۔ ان کی تحریریں، ان کی کتابیں اور ان کی فکر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ آج بھی جب ان کی لکھی ہوئی کتابوں کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا قلم اب بھی بول رہا ہو۔ ان کی تحریروں میں موجود تحقیق، خلوص اور اپنے علاقے سے محبت آج بھی پڑھنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہر نور محمد تھند مرحوم کا نام صرف ہماری فیملی تک محدود نہیں بلکہ پورے علاقے اور خاص طور پر تھند قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ہمارے لیے وہ صرف ایک والد نہیں تھے بلکہ ایک استاد، ایک رہنما اور ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیں علم، محنت اور کردار کی اہمیت سکھائی۔ ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کی علمی خدمات ہمیشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ آج ان کی یاد میں سر جھکاتے ہوئے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مہر نور محمد تھند مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.