کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی تاریخ، اس کی تہذیب اور اس کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محنت اور علم کے ذریعے اس تاریخ کو محفوظ کرتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں، مگر وہ لوگ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں جو اپنے قلم کے ذریعے اپنے علاقے، اپنی مٹی اور اپنی قوم کی کہانی آنے والی نسلوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ میرے والد محترم مہر نور محمد تھند مرحوم بھی ایسی ہی ایک باوقار اور علمی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور تحریر کے لیے وقف کر دی۔
مہر نور محمد تھند مرحوم کو مطالعے اور تحقیق سے غیر معمولی شغف تھا۔ وہ اپنے علاقے کی تاریخ، ثقافت اور روحانی ورثے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جو قوم اپنی تاریخ سے بے خبر ہو جائے وہ اپنی شناخت بھی کھو دیتی ہے۔ یہی سوچ ان کی تحریروں کا بنیادی محرک بنی۔ انہوں نے نہایت محنت، جستجو اور مسلسل مطالعے کے ذریعے اپنے علاقے کے تاریخی، سماجی اور روحانی پہلوؤں کو قلمبند کیا تاکہ آنے والی نسلیں اپنی مٹی کی پہچان سے جڑی رہیں۔
ان کی نمایاں تصانیف میں “تاریخ لیہ”، “بھکر”، “مسلم لیگ کے سو سال”، “ماں”، “اولیائے لیہ” اور “کروڑ” شامل ہیں۔ ان کتابوں میں صرف معلومات ہی نہیں بلکہ ایک سچے محقق کی لگن اور اپنے علاقے سے محبت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر “تاریخ لیہ” ایک ایسی اہم کتاب ہے جس نے اس خطے کی تاریخ کو ایک نئی ترتیب اور تحقیق کے ساتھ پیش کیا۔ اس کتاب کی تمہید، اسلوب اور تحقیقی انداز دیگر کتب سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی حلقوں میں اس کتاب کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اسی خدمت کے اعتراف میں انہیں محبت اور احترام کے ساتھ “لالۂ تھل” کا لقب دیا گیا۔
وہ صرف ہمارے والد نہیں تھے بلکہ پوری تھند قوم کے لیے فخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس محنت اور خلوص کے ساتھ انہوں نے اپنے علاقے کی تاریخ کو محفوظ کیا وہ یقیناً ایک بڑا علمی کارنامہ ہے۔ ان کی تحریریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ اپنے قلم کو ایک امانت سمجھتے تھے اور اسے سچائی اور تحقیق کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔
بطور والد ان کی شخصیت میں وقار، اصول پسندی اور ایک خاص سختی بھی تھی۔ بچپن میں کبھی کبھی ان کی یہ سختی ہمیں مشکل محسوس ہوتی تھی، لیکن آج جب زندگی کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کی یہی سختی دراصل ہماری کامیابی کی بنیاد تھی۔ اگر وہ ہم پر اتنی توجہ اور سختی نہ کرتے تو شاید ہم زندگی میں اس مقام تک نہ پہنچ پاتے۔
میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہی کی خواہش اور رہنمائی کی بدولت میں نے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ میں نے ریاضی کے شعبے میں ایم فل مکمل کیا اور آج ایک یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ جب میں طلبہ کو پڑھاتا ہوں تو اکثر یہ احساس دل میں ابھرتا ہے کہ اس سفر کی بنیاد میرے والد کی تربیت، ان کی نصیحتوں اور ان کی دعاؤں نے رکھی تھی۔
12 مارچ 2014 کا دن ہماری زندگی میں ایک ایسا لمحہ بن کر آیا جب علم و قلم کا یہ مسافر ہم سے جدا ہو گیا۔ وہ بظاہر اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اہلِ علم کبھی واقعی رخصت نہیں ہوتے۔ ان کی تحریریں، ان کی کتابیں اور ان کی فکر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
آج بھی جب ان کی لکھی ہوئی کتابوں کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا قلم اب بھی بول رہا ہو۔ ان کی تحریروں میں موجود تحقیق، خلوص اور اپنے علاقے سے محبت آج بھی پڑھنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہر نور محمد تھند مرحوم کا نام صرف ہماری فیملی تک محدود نہیں بلکہ پورے علاقے اور خاص طور پر تھند قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔
ہمارے لیے وہ صرف ایک والد نہیں تھے بلکہ ایک استاد، ایک رہنما اور ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیں علم، محنت اور کردار کی اہمیت سکھائی۔ ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کی علمی خدمات ہمیشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
آج ان کی یاد میں سر جھکاتے ہوئے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مہر نور محمد تھند مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔










