من میں تو تن میں تو عفت وہ جیل کے یخ بستہ فرش پہ اکڑوں بیٹھا گھٹنوں میں سر دئیے...
Read moreDetailsبہاول پور میں نظریاتی ورکرز ایم آر ملک چا چا مشہود چغتائی مجھے بہاول پور کی ایک معروف شاہراہ پر...
Read moreDetailsاداریہ مودی سرکار نا جائز فو جی جار حیت کر کے پا کستان دو لخت کر نے والے نا مزد...
Read moreDetailsبیرون ملک جانے والے ہو شیار باش مقبول جنجوعہ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو خاص طور پر عرب ملکوں...
Read moreDetailsایم ایم روڈ کی اکھاڑ پچھاڑ کا ذمہ دار کون ؟ تحریر... محمد عمر شاکر برادرم رؤف کلاسرہ صاحب سنئیر...
Read moreDetailsیادیں رہ جاتی ہیں تحریر: مریم کائنات الٹی پڑی ہیں کشتیاں ریت پر میری وہ لے گیا آنکھوں سے سمندر...
Read moreDetailsادب روٹھ رہا ہے محمد عمار احمد سُہانے وقتوں میں دادی اماں سونے سے پہلے بچوں کو لوک کہانیاں ،اسلامی...
Read moreDetailsپولیس قانون سے بالاتر کیوں؟ شاہداقبال شامی ہمارے ملک کی پولیس اپنے منفی رویے کی وجہ سے مشہور ہے ہمارے...
Read moreDetailsHELp LINE with ANJUM SEHRAI محمد رمضان فریادی کی فریاد کون سنے گا ؟ لیہ (صبح پا کستان ) محلہ...
Read moreDetailsپسِ آئینہ عفت پاکستان میں چار موسموں کے علاوہ ایک موسم اور بھی ہوتا ہے جو فروری تا جون تک...
Read moreDetailsراولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...
Read moreDetails
باتیں کوٹ سلطان کی ۔۔۔
میں شائد پہلے کہیں لکھ چکا ہوں کہ انڈیا سے پا کستان ہجرت کے بعد میرے خاندان کو کوٹ سلطان نشیب مو ضع بیٹ وساوا شما لی میں 50 ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین ملی ۔اس کے علاوہ دادی اماں خد یجہ بیگم جو اپنے رعب اور دبدے کی وجہ سے پورے شہر میں تھا نید ارنی کے نام سے مشہور و معروف تھیں نے بڑی کو شش اور تگ و دو کے بعد شہر کے وسطی محلہ جا موں والا میں واقع ایک بڑا مکان جو کسی بڑے ہندو سا ہو کار کا چھوڑا ہوا تر کہ تھا اور قیام پاکستان کے بعد محکمہ مال نے اپنے قبضہ میں لے کر وہاں پٹوار خا نہ قا ئم کر رکھا تھا کو اپنے نام الاٹ کرا لیا تھا مجھے یاد ہے کہ ہمارے اس مکان کا گلی میں کھلنے والا لکڑی کا ایک بڑا سا دروازہ تھا دروازے کے پیشا نی پر اس ہندو سا ہو کار کے نام کی تختی بھی
جیسے نا بغہ روزگار اسا تذہ کی تعلیم و تر بیت نصیب ہو ئی ۔ اس دور میں کوٹ سلطان میں ایک گورٹمنٹ بوائز ہا ئی سکول اور ایک گورٹمنٹ گرلز مڈل سکول ہوا کرتا تھا ۔ ہا ئی سکول کے ہیڈ ما سٹر ممتاز خان گورما نی اور گرلز سکول کی ہیڈ مسٹریس مسز رضوی ہوا کر تی تھیں ۔ معاف کیجئے گا مسز رضوی کا نام بھول رہا ہوں اللہ بخشے مر حو مہ فضل حق رضوی( تحصیلدار ) کی اہلیہ تھیں ۔ مسز رضوی کے بڑے بیٹے سید پنجتن رضوی آج کل ڈائریکٹر جزل پا کستان پوسٹ ہیں ۔ جب کہ ان کے چھو ٹے بیٹے اعجاز رضوی کسی نجی بنک میں اعلی عہدے پر فا ئز ہیں ۔
کوٹ سلطان کی شخصیات میں میں جن سے بہت زیا دہ متا ثر ہوا ان میں ایک سید ممتاز شاہ تھے ۔ گو یہ ایک زمیندار تھے لیکن انہیں اپنے بچوں کو پڑ ھا نے کا جنون تھا ۔ ان کی اسی تعلیم دو ستی کے سبب ان کا ایک بیٹا سید شو کت علی شاہ نے سو سر وس کے مقا بلہ کا امتحان پاس کر کے پہلے انکم ٹیکس اور بعد میں محکمہ پو لیس کو جوائن کیا ۔ سید شو کت شاہ پو لیس آ فیس ہو نے کے ساتھ ساتھ ادیب اور شا عر بھی تھے وہ پو لیس میں بحیثیت ایس پی اپنے فرا ئض انجام دے رہے تھے کہ ایک حاد ثہ میں ہلاک ہو گئے شو کت علی شاہ کے چھو ٹے بھا ئی سخاوت علی شاہ جو ڈاکٹر ہیں میرے کلاس فیلو ہیں آ ج کل محکمہ ہیلتھ پنجاب سے وا بستہ ہیں ۔
گورٹمنٹ ہا ئی سکول میں ہمارے ہیڈ ما سٹر اللہ یار الما نی تھے اسکول اسا تذہ میں استاد غلام حسین منجو ٹھ، ملک عا شق حسین انگلش ٹیچر ، محمد رفیق اردو ، محمد عبد الرشید اردو ، ما سٹر حفیظ ڈرا ئینگ ما سٹر ، خو رشید احمد عر بی ٹیچر ، غلام حسین دستی سا ئینس ٹیچر ، ما سٹر گل محمد کھرل ، فیض محمد ڈو لو انگلش ٹیچر جیسے کمال اسا تذہ سے کسب فیض کے مواقع ملے ۔
کوٹ سلطان میں ان دنوں کھیل کے میدان آ باد ہوا کرتے تھے مجھے یاد ہے کہ اس زما نے میں سکول کے بچے ہائی سکول کے ملحقہ فو جی میدان جہاں آج کل کالج بلڈ نگ ہے میں ہا کی کھیلا کرتے تھے
وہ زما نہ ہا کی کا زما نہ تھا ، آج بھی ہمارا قو می کھیل ہا کی ہی ہے ۔ کر کٹ نے توبہت دیر سے کھیل کے میدان کو فتح کیا ۔ سکول کے طلبا بھی پی ٹی کے پیر یڈ میں اسی میدان میں پی ٹی کیا کرتے تھے ۔ ہمارے پی ٹی آ ئی ماسٹر حیات نیازی ہوا کرتے تھے جن کی اکڑی مو نچھ اور تیز آ نکھ سے سب بچوں کی جان جایا کرتی تھی ۔۔۔ با قی آ ئیندہ