واہ کیا بے شرمی ہے ، ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہو تی ہے ۔۔ بابے نے میری سوچ پڑھتے...
Read moreDetailsزندگی ایک مختصر سفر ہے جس میں ہر انسان مسافر ہے جیسے جیسے جس کی منزل آجاتی ہے اس کی...
Read moreDetailsاس نے ایک لمبی سی سا نس لی اور بو لتے بو لتے رک گیا اور سستانے کے انداز میں...
Read moreDetailsارض وطن میں وسائل کی بہتات ہے، مگر پھر بھی اسے ان گنت مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے، اس...
Read moreDetailsسر! آپ ایف ایم جوائن کریں ضیاء اللہ بزدار حسب عادت دو نوں ہا تھوں کو اپنی جھولی میں رکھ...
Read moreDetailsدنیا میں ہرشخص کسی نہ کسی شعبے سے منسک ہےجو اس کے روزگار کا ذریعہ بھی ہوتا ہے اور اس...
Read moreDetailsپاکستان میں خط غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد سات کروڑ سے زائد ہے جو خوراک سے لے کر...
Read moreDetailsہر شخص مختلف سوچ رکھتا ہے اور اپنی سوچ یا فلاسفی کے حق میں دلائل دے کر سچ ثابت کرنے...
Read moreDetailsسوشل میڈیاکو کیسے استعمال میں لاناچاہیے خوشبوئے قلم محمدصدیق پرہاروی siddiquepriharvi@gmail;46;com اسلامی نظریاتی کونسل نے سوشل میڈیا کے استعمال سے...
Read moreDetailsبے شک تیراکلام لائقِ تحسین ہے، تیری شخصیت قابلِ تقلیدہےجشن پروفیسر ڈاکٹر وحیدالزمان طارقایوانِ اقبال یواے ای اور کاروانِ فکرپاکستان...
Read moreDetailsعلیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetailsزندگی تیرا ہر رنگ نرالہ، عمل کا گر ردعمل نہ ہوتا، کھو جانے کے ڈر سے گر آگے بڑھنے کا جزبہ نہ ہوتا، تاریکی کے بعد گر اجالا نہ ہوتا، ہارنے کے بعد گر جیتنے کا حوصلہ نہ ہوتا، قربانی کے بعد گر شہادت کا رتبہ نہ ہوتا، تو ذرا سوچئے…. زندگی کا مقصد حیات کیا ہوتا….کہا جاتا ہے منزل انہیں کو ملتی ہے جو طالب مقصود ہوا کرتے ہیں ….
آج جب میں گاڑی ورکشاپ لے گیا تو میری ملاقات ایک شناسا نوجوان مکینک "شاہ زیب" سے ہوئی. اس نے بڑے ادب سے جھک کر مجھے سلام کیا، علیک سلیک کے بعد اپنا تعارف کرواتے ہوئے اس نوجوان نے بتایا کہ میں ایف ایس سی میں آپ کا سٹوڈنٹ رہا ہوں. میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا. اور پوچھا کہ "پڑھائی کہاں تک پہنچانی….". تو کہنے لگا کہ سر " بی ایس باٹنی" کر لی ہے…..
میں حیرت سے اس کا منہ تاکنے لگا….. کہ "بی ایس" کرنے کے بعد ایک پڑھا لکھا، خوش شکل، وضع دار لڑکا، گریس، موبل آئل سے اٹے میلے کچیلے کپڑوں میں،اس ان پڑھ ماحول میں کہاں اور کیوں دھکے کھا رہا……خیر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ "سر، میں تو دوران پڑھائی تین، چار سال سے یہی کام کر رہا ہوں". میں نے حیرت زدہ ہو کر اس سے پوچھا آخر کیوں…. اس نے سر جھکائے جواب دیا "سر، میں باہر (انگلینڈ) سے" ایم ایس (ایم فل) کرنا چاہتا ہوں". میرے حالات اتنے بہتر نہیں تھے کہ میں اپنی فیس وغیرہ بھر سکتا، تو محنت مزدوری کر کے بی ایس کی، اپنا پاسپورٹ بنوایا، ایم ایس کی فیس (پاؤنڈز میں) اکٹھی کی، ٹیسٹ کلئیر کر چکا، ویزہ لگ گیا ہے اور اب بس انشاءاللہ اگلے ماہ روانگی ہے.
حیرت زدہ تو میں پہلے ہی تھا، شاہ زیب کے کندھے پر ہاتھ کےدباؤ سے شاباش دی، یقین جانئیے فرحت جزبات سے اس کی آنکھوں میں اتری نمی کو میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ کس قدر کٹھن، مشکل، ناہموار رستے کو صرف اور صرف اپنی محنت کے بل بوتے پر پار کر گیا. اور کہنے لگا "سر، آپ کے الفاظ نے مجھے یہاں تک پہنچایا کہ" غریب کے پاس آگے جانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ایجوکیشن ہے ". میں نے اسے آگے بڑھ کر گلے سے لگالیا… میں اس کی خوشی کو دل کی تیز دھڑکن سے محسوس کر سکتا تھا….