کرب ,,, تحریر ۔۔ عفت
کرب تحریر ۔۔ عفت امینہ بی کافی دن سے نظر نہیں آ رہی تھی ۔ورنہ وہ تو دن میں ایک...
کرب تحریر ۔۔ عفت امینہ بی کافی دن سے نظر نہیں آ رہی تھی ۔ورنہ وہ تو دن میں ایک...
شب و روز زند گی قسط 53 انجم صحرائی کوٹ سلطان کے اس دور کی دیگر شخصیات میں چیئرمین غلام...
پریس کلب کوٹ سلطان کے نو منتخب عہدیدارن کی تقریب حلف برداری کوٹ سلطان ( صبح پا کستان) پریس کلب...
صاحب طرز ادیب شاعر نوجوان پولیس آفیسر شاہد رضوان مہوٹہ کے حالات وخیالات ملاقات ۔ محمد صابر عطاء تھہیم ہمارا...
غیر قانو نی گیس ریفلنگ ، پو لیس نے رنگے ہا تھوں گرفتار ملزم چھوڑ دئے کروڑ لعل عیسن (صبح...
بارش سے لیہ روڈ پر ایک ماہ قبل لگنے والی کروڑوں روپے کی ٹف ٹائل پا نی برد چوک اعظم(...
مہر نو ر محمد تھند کی پہلی برسی پر تعذ یتی تقریب کا انعقاد لیہ( صبح پا کستان)معروف محقق مصنف...
مو سم بہار شجر کا ری مہم کے دوران 1لا کھ 40ہزار پو دے لگائے جا ئیں گے ۔ڈی سی...
بارشوں کے پانی سے شہر جوہڑ میں تبدیل ، شہری گھروں میں قید دھوری اڈا( صبح پا کستان ) دو...
سیکریٹری جنگلات کا دورہ چوک اعظم چوک اعظم( صبح پا کستان ) سیکرٹری جنگلات کا ٹی ایچ کیو ہسپتال چوک...
وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...
Read moreDetails
امینہ بی کافی دن سے نظر نہیں آ رہی تھی ۔ورنہ وہ تو دن میں ایک دفعہ تو لازما چکر لگاتی تھی ۔بیٹھے بیٹھے باتوں باتوں میں وہ کئی کام نبٹا تی جاتی ۔میں نے اسے کبھی فارغ بیٹھے نہ دیکھا تھا ۔اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر ہوتا جس میں کبھی اون سلائیاں اور کبھی سوت کا کھیس ہوتا جس کے دھاگے بٹتی نظر آتی ۔زبان کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ بھی تیزی سے چلتے ۔باتیں کرتے کرتے وہ میرے ہاتھ سے چھری لے لیتی اور فٹا فٹ سبزی بنا دیتی ۔میرا اس سے تعارف دو سال پہلے ہوا تھا وہ
صبح کے سات بجنے والے تھے میں تیزی سے ناشتہ بنانے میں مصروف تھی ۔بیٹی نے یونیورسٹی جانا تھا اس کا پوائنٹ سوا سات تک آجاتا تھا بیٹے کو اسکول جانا تھا ساتھ مجھے بھی سو یہ وقت بھاگ دوڑ میں گذرتا ۔ڈور بیل بجی ۔میں نے کچن سے ہانک لگائی دروازے پہ کوئی ہے دیکھیں ۔کوئی نہیں ہلا آخر ایک ہاتھ میں آٹے کا پیڑا تھامے بڑبڑاتے ہوئے مجھے ہی جانا پڑا دروازہ کھولا تو سامنے امینہ بی کی چھوٹی بیٹی کھڑی تھی ۔آپ کو اماں نے بلایا ہے اس نے سلام کے بعد پیغام دیا ۔اچھا میں دو بجے آؤں گی اس وقت بہت مصروف ہو ں اسکول سے واپسی پہ چکر لگاؤں گی بینا کی شادی ہو گئیَ ؟ میں نے رانی سے پوچھا ؟ ہاں جی اماں بیمار ہو گئی تھی آپریشن ہوا تھا اب ٹھیک ہے ۔بابر بھائی کو اماں نے سلامی میں موٹر سائیکل دی اور مکان کے لیے پچاس ہزار بھی ۔رانی نے للچائی نظروں سے سیب کی طرف دیکھتے ہوئے انکشاف کیا ۔میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کرتے سیب اس کے ہاتھ میں دے دیا ۔مجھے سخت حیرانی اور تجسس تھا مگر رانی میرے کچھ اور پوچھنے سے قبل ہی سیب لے کر اڑنچھو ہو گئی ۔میں بھی جلدی جلدی کام نبٹانے لگی اسکول میں پڑھاتے وقت بھی میرے دماغ پہ رانی کی باتیں سوار رہیں ۔واپسی پہ میں نے امینہ بی کے گھر کا رخ کیا ۔عبدل گھر کے سامنے بیٹھا تھا مجھے دیکھتے سلام کیا اور بیساکھی سیدھی کرتے اٹھ کھڑا ہوا آئیں بی بی جی ۔میں نے سلام کا جواب دیا اور اندر آگئی ۔بجلی حسبِ معمول ندارد تھی کمرے میں تاریکی کا احساس دھوپ سے آنے پہ ہوا چند لمحوں کے بعد میری نظر چارپائی پہ لیٹی امینہ بی پہ پڑی وہ بہت کمزور ہو گئی تھی مجھے دیکھ کر ایک پھیکی سی مسکراہٹ اس کے سپید ہونٹوں پہ آ کر دم توڑ گئی میں سامنے بستر پہ بیٹھ گئی اور اس کا حال دریافت کیا میری بے چینی شاید اس نے بھانپ لی تھی۔باجی سب وہ نہیں ہوتا جو ہمیں دکھائی دیتا ہے بینا کی مہندی والے دن مجھ پہ بابر اور اس کے گھر والوں کی حقیقت کھلی انہوں نے پچاس ہزار اور موٹر سائیکل کا مطالبہ کیا ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے سب بینا کا ہے کونسا ہم نے استعمال کرنا ۔میں نے بہت منت ترلے مارے اس کے ابے نے بھی کہ ہم اتنے جوگے نہیں پر وہ ہمیں رشتہ ختم کرنے کی دھمکی دینے لگے تب میں نے بینا کی زندگی بربادی سے بچانے کے لئے ایک فیصلہ کیا ۔اتنا بتا کر امینہ بی ہانپ گئی ۔کیسا فیصلہ ؟ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ۔امینہ بی نے ہمت مجتمع کرتے ہوئے کہا۔باجی میں نے اپنا گردہ بیچ دیا ۔میری بینا کا گھر بس گیا اور کیا چاہیے تھا ۔باجی اگر میں ایسا نہ کرتی تو رشتہ ختم ہونے کے بعد کون کرتا میری بینا سے بیاہ؟؟؟