جھورا،،،،تحریر ۔….ریاض الحق بھٹی
جھورا،، سرائیکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ، غم، دکھ اور افسوس وغیرہ ، جیسے لفظ،ارداس،،، گذارش...
جھورا،، سرائیکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ، غم، دکھ اور افسوس وغیرہ ، جیسے لفظ،ارداس،،، گذارش...
ڈیرہ غا زیخان (صبح پا کستان):سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مگسی نے ڈائریکٹر زراعت مہر عابد حسین کے...
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی...
لیہ،( صبح پا کستان )ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر یوم پاکستان کی مرکزی تقریب کا انعقاد ہوا۔محکمہ تعلیم کے زیر...
لیہ ( صبح پا کستان ) تھانہ صدر میں بھاری مقدار میں ضبط شدہ منشیات تلف ،سول جج لیہ علی...
لیه () لیه ویٹرنری یونین کا پہلا باقاعدہ اجلاس 21 مارچ 2025 بروز جمعہ کو لیه میں ہوا جس میں...
پنجاب پولیس ڈیرہ غازی خان نے سرحدی تھانہ وہوا کی جھنگی چیک پوسٹ پر خوارجی دہشتگردوں کا بڑا حملہ پسپا...
راولپنڈی۔ صدرمملکت کی جانب سے مسلح افواج کے افسران اور سپاہیوں کو فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔نجی ٹی وی دنیا...
لیہ {صبح پا کستان} لیہ سے تعلق رکھنے والے قابل فخر پاکستانی بیٹر حسن نواز نے بابر اعظم کے ٹی...
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetailsجھورا،، سرائیکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ، غم، دکھ اور افسوس وغیرہ ، جیسے لفظ،ارداس،،، گذارش ، درخواست اور التجا کی کیفیت کے لیے بولا جاتا ہے ۔ خیر اب تو ساری زبانیں دب کے رہ گئی ہیں اور تو اور ، اشاروں کی زبان بھی مفقود ہوچکی ، شاعر نامدار کی طرح ہم چاہتے ہیں کہ
جو دل کی بات سمجھ لے فقط نگاہوں سے ،
تمام شہر میں ایسی نظر بھی ہے ؟
خیر سے نہ دل باقی ہے اور نہ شہر، اب تو بستیوں کو بھی اندیشہ لاحق ہو گیا ہے کہ ،،،
جنگل بستیوں تک آ گیاہے ،،،
ہمیں بھی یہی ،،، جھورا ،،، ہے کہ یہ ہوا جا رہا ہے ۔
جھورا ، یہ نہیں ہے کہ ہم دکھی ہیں بلکہ جھورا یہ ہے کہ باقی کیوں سکھی ہیں ،، دوسروں کے سکھ ہمیں پریشان کئے جاتے ہیں ،،،
جھورا یہ بھی ہے کہ ریاست اور حکومت ایک ہو گئے ہیں ۔ ہمارے لیے یہ آج بھی دونوں لائق عزت و تکریم ہیں لیکن خدارا ہمیں بتائیے بلکہ سمجھا ئیے کہ اس ملاپ میں کہیں عوام بھی ہیں اور اگر ہیں تو کتنے خوش ہیں ،،
ماضی میں برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی مملکت کی تلاش تھی مگر جیسے ہی مملکت یعنی ریاست ملی ۔ عوام کہیں کھو گئے اور آج دونوں ایک دوسرے تلاش میں نکلے ہوئے ہیں ،، آپ کو اگر کہیں سے خبر ملے تو بتائیے گا ضرور ۔۔۔۔
ہمیں ایک اور بھی پراسرار جھورا ، لاحق ہے کہ ہم زندہ ہیں اور ہماری زندگی کوئی اور جی رھا ھے ،
اب کس،کس جھورا ، کا ذکر کریں علم کا جھورا ، صحت کا جھورا، انصاف کا جھورا ، امن و سلامتی کا جھورا ، مہنگائی کا جھورا ،خالص پانی ، ہوا، اور دوا کا جھورا ،
یہ جھورا ہی ہے جو جمہور کی جان کا جانی بنا ہوا ہے ورنہ باقی تو سارے سنگی ، بیلی ، یار رشتے دار سب ساتھ چھوڑ گئے ،،، آ فرین ہے اس وفا شعار جھورا ، کی جو ساتھ نبھا رہا ہے ،،، کبھی خواہش تھی کہ ،
میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے،،
میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو ،،، اور
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو ،،
کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو ،،۔۔۔
دیکھتے ہیں کہ یہ جھورا ، کب تک ساتھ نبھانے میں کامیاب ہوتا ہے یا دوسرے بے وفاؤں کی طرح یہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے ،،،