• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
ad
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2024-12-20 at 4.47.55 PM
WhatsApp Image 2024-12-20 at 11.08.33 PM
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

افضل صفی ، شخصیت اور شاعری

webmaster by webmaster
جنوری 17, 2026
in شاعری
0
افضل صفی ، شخصیت اور شاعری

ڈاکٹر محمد افضل صفی کا اصل نام ۔۔۔محمد افضل ہے۔”صفی” تخلص کرتے ہیں۔ وہ یکم فروری 1971 کو فتح پور چک نمبر A/228 /TDA میں محمد جلال کھنڈ کے گھر پیدا ہوئے۔( اج کل لیہ مقیم ہیں)۔ پرائمری تعلیم اسی گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی۔۔
انہوں نے میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول فتح پور سے 1987 میں کیا۔
اور ایم فل اردو علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد سے 2010 میں کیا ۔اسی یونی ورسٹی سے 2021 میں وہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ۔ان کے مقالے کا عنوان تھا”۔احمد فراز کی شاعری کا فنی اور اسلوبیاتی مطالعہ”
پیشہ: درس و تدریس ہے. بطور صدرِ شعبہ اردو ، گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج کروڑ لعل عیسن میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
انھوں نے شاعری کا آغاز۔1984…1985 میں کیا ۔
ان کی تصانیف:

1.”صحرا سے گفتگو” ۔۔باراول۔۔2000(شاعری)
بار دوم۔۔2003 ۔۔
2.”نگاہیں اداس ہیں”۔۔مارچ 2004(شاعری)
3.”ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحیثیت محقق” 2010(تحقیق)
4.”صحرا اداس ہے”2011( شاعری)
5۔”احمد فراز کی شاعری کا فنی اور اسلوبیاتی مطالعہ” 2023 (تحقیق)
6۔”جمالِ لفظ و معنی” 2024( تنقیدی تبصرے تجزیے)
7.”رمز آ شنا "2024 (تحقیقی و تنقیدی مضامین)


8 ۔’صد رنگِ جمال” ( غزلیں: زیرِ طبع )
9۔”کہیں ملے تو اسے یہ کہنا” ( نظمیں :زیرِ طبع)
ڈاکٹر محمد افضل صفی بیک وقت تحقیق ،تنقید اور شاعری سے وابستہ ہیں۔
ان کے متعدد ریسرچ آرٹیکلز نیشنل اور انٹر نیشنل ریسرچ جرنلز میں چھپ چکے ہیں جو آن لائن دیکھے جا سکتے ہیں۔دنیائے اردو ادب میں ان کی ادبی خدمات کو بہت پزیرائی مل چکی ہے اور ان کے کام کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ان کی تحقیق و تنقید پر چند مشاہیر کی آرا دیکھیے:

ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد لکھتے ہیں:
” محمد افضل صفی نے نہایت محنت اور عرق ریزی سے ڈاکٹر گوہر نوشاہی کی زندگی اور ان کے تحقیقی و تدوینی کار ناموں کا جائزہ پیش کیا ہے۔ نتائج کے استخراج اور کتابوں کے تجزیے میں انھوں نے تحقیقی و تنقیدی اصولوں کی اور قاعدوں کی مکمل پاسداری کی ہے۔ان کا اسلوبِ نگارش سادہ مگر دل کش اور رواں ہے” ( ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحثیت محقق ص11)

ڈاکٹر تبسم کا شمیری:
” محمد افضل صفی نے گوہر نوشاہی کی تحقیق و تدوین کی بہتر تفہیم کے لیے ایک قابلِ قدر کام کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ مقالا گوہر شناسی کے میدان میں ایک قابلِ تحسین سعی قرار دیا جائے گا”( ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحثیت محقق :ص12)

ڈاکٹر رشید امجد:
” محمد افضل صفی نے ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحثیت محقق پر بہت عمدہ کام کیا ہے۔تحقیق و تنقید کے تقاضوں کو پوری طرح نبھایا ہے۔افضل صفی کا یہ کام علمی و ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ یہ دیکھا جائے گا”( ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحثیت محقق۔ص 14)
اسی طرح ان کے پی ایچ ڈی کے کام پر بہت کچھ لکھا گیا ہے چند آرا پیش خدمت ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر شاہد اقبال کامران بیشہ تحقیق کا شیر مرد کے عنوان سے لکھتے ہیں۔
” بیشتر محققین احمد فراز کی شاعری کے موضوعات اور فکریات تک محدود رہے۔۔۔۔محمد افضل صفی نے احمد فراز کی شاعری کے فنی اور اسلوبیاتی مطالعے کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ۔انھوں نے نہایت توجہ اور جامعیت کے ساتھ علمِ بیان بدیع ،علم عروض ،ہیئت شعری،صوتی اور صرف و نحو کے پیمانوں سے احمد فراز کی شاعری کے طلسم کو دریافت کرنے کی کوشش کی ” ( دیارِ عشق میں 22 اگست 2024)

ڈاکٹر اسحاق وردگ کے مطابق: "جدید نظامِ تنقید کے عدسے سے اردو شعروادب کا انتقادی تجزیہ بہت کم مرتب ہوا ہے۔بالخصوص کلاسیکل و جدید شعریات کا مطالعہ روایتی نظام تنقید کی روشنی میں ملتا ہے۔
اس تناظر میں ڈاکٹر محمد افضل صفی کا پی ایچ۔ڈی مقالہ "احمد فراز کی شاعری کا فنی و اسلوبیاتی مطالعہ” اردو تنقید کی ایک ناگزیر ضرورت کی تکمیل ہے۔یہ مقالہ اسلوبیات کے مغربی و مشرقی تصورات کی روشنی میں شعریات احمد فراز کی دریافتِ نو ہے۔(
"ڈاکٹر اسحاق وردگ : کتاب چہرہ 8 مارچ 2023)

فرحت عباس شاہ لکھتے ہیں:
"ڈاکٹر محمد افضل صفی کا شمار ایسے صاحبانِ اخلاص تخلیقی محققین و ناقدین میں ہوتا ہے جو بغیر کسی صلے کی تمنا کے ادب سے اپنی وابستگی کا سچا اور عملی اظہار رکھے ہوے ہیں۔احمد فراز پر ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ تحقیق کا معیار طے کرنے کی سطح کا مقالہ ہے۔۔۔۔۔ڈاکٹر افضل صفی کی "رمز آ شنا” کی تحقیق ہی یہ ہے کہ اس میں مضافات کے سولہ ایسے شعرا پر مضامین لکھے گئے ہیں جن کا نام اور کام تسلیم کرنے میں آج تک ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی رہی ہے”۔( فرحت عباس شاہ نوائے وقت 23 اگست 2024)

ان کے ادبی کام پر سات تحقیقی مقالات لکھے جا چکے ہیں۔تین ایم فل کی سطح پر ایک ایم کی سطح پر اور تین بی ایس کی سطح پر ۔یہ مقالاجات جی سی یونی ورسٹی لاہور، بہاء الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان سدرن پنجاب ،این سی بی اے ملتان اور غازی یونی ڈیرہ غازی خان وغیرہ میں تکمیل پائے۔
ا یک ضروری بات۔۔۔۔۔یہ ہےکہ اُن کی ایک نظم۔۔۔کہیں ملے تو اسے یہ کہنا۔۔۔۔گوگل یو ٹیوب پر بہت سے لوگوں نے اپنے نام سے منسوب کر رکھی ہے ۔اے آر وائی کی ڈرامہ سیریل وعدہ کا ٹائٹل سونگ بھی بنی۔۔اس کا ذکر ضروری تھا۔۔
چونکہ وہ جدید اور منفرد لہجے کے بہت عمدہ شاعر بھی ہیں اس لیے ان کی شاعری پر چند ناقدین کی آرا بھی پیش کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر خیال امروہوی کے مطابق:
"افضل صفی اپنے عہد کا نوحہ گر ہے۔اس کی شاعری قوسِ قزاح کی ماند ہے جس میں مختلف رنگ موجود ہیں۔وہ ایک روشن خیال شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد حساس انسان بھی ہے جس کے سینے میں درد مند دل دھڑکتا ہے۔اس کی شاعری انسانیت سے محبت کا درس دیتی ہے”(بحوالہ :فلیپ صحرا سے گفتگو)
محسن بھوپالی کے نزدیک :” افضل صفی کے یہاں نئی بات کہنے کا جذبہ کارفرما ہے۔غزل کے اشعار نہ صرف قاری کو بے ساختہ اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں بلکہ دادو تحسین پر بھی مائل کرتے ہیں "( بحوالہ فلیپ صحرا سے گفتگو)
ڈاکٹر گوہر نوشاہی کے مطابق: ” افضل صفی کی غزلوں میں تلخی،کڑواہٹ،تھکن،ناامیدی اور بے بسی کا احساس نہیں ہوتا بلکہ ان میں اُن کی شخصیت کی ٹھنڈک مٹھاس اور نغمگی قاری کا دامنِ دل کھینچتی ہے” (صحرا اداس ہے :ص15)
جعفر بلوچ کے نزدیک:
"جناب افضل صفی ایک خوش فکر اور خوش اسلوب شاعر ہیں۔ان کے کلام میں ان کے ذاتی علاقائی اور اجتماعی احوال و آثار کی صدائے باز گشت نمایاں طور پر سنائی دیتی ہے۔اپنے لطیف اور ہلکے پھلکے انداز میں وہ اپنی بات سہولت سے کہہ دینے پر قادر ہیں”( بحوالہ فلیپ صحرا سے گفتگو)
ڈاکٹر عاصی کرنالی کی نظر میں:
” افضل صفی نے غزل میں معنوی جمالیات کو برتا ہے اور عصری فضا کے تناظر میں خوب صورت پھول کھلائے ہیں۔وہ جدید طرزِ احساس کے ساتھ ساتھ عہدِ گزراں کی آشوب نگاری کے شاعر بھی ہیں۔انھیں یقین ہے کہ ایک دن آشوب کی اس ظلمت سے امید کا ستارہ اور انقلاب کی صبح طلوع ہوگی”(بحوالہ : نگاہیں اداس ہیں ۔ص 11)

محسن فارانی کے مطابق:” افضل صفی کی شاعری لفظ و معنی کی آب تاب اور فکروخیال کی ندرتوں سے آراستہ ہے۔انھوں نے مصرعوں کی صورت تابدار نگینے تراشے ہیں جن سے پڑھنے والا فکری روشنی حاصل کرتا ہے۔شعروں میں اپنے تجربات اور احساسات کو زبان دینا شیشہ گری کا فن ہے اور صفی صاحب اس نازک مرحلے سے کمال احتیاط کے ساتھ گزرے ہیں”( بحوالہ: فلیپ صحرا سے گفتگو )
آئیے اب ان کا نمونۂ کلام دیکھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔
غزل

کانچ کا ٹکڑا پڑا تھا دشت میں
یا مرا چہرہ پڑا تھا دشت میں

لگ رہا تھا وصل کی تدفین ہے
ہجر یوں بکھرا پڑا تھا دشت میں

اس کے قدموں کے نشاں محفوظ تھے
یوں لگا رستہ پڑا تھا دشت میں

میرے اندر تھل بسا تھا عشق کا
سو مجھے آنا پڑا تھا دشت میں

دشت بھی سارے کا سارا مجھ میں تھا
میں بھی تو سارا پڑا تھا دشت میں

ایک تنہائ بچھی تھی ریت پر
اور میں ٹوٹا پڑا تھا دشت میں

بھیڑ میں مجھ سے دلاسہ گم ہوا
میں نے جب ڈھونڈا، پڑا تھا دشت میں

دوستی بھی شاعری بھی عشق بھی
میرا ہر رشتہ پڑا تھا دشت میں

پرتوِ خورشید دھندلانے لگا
چاند کا سایہ پڑا تھا دشت میں

صرف میری ہی کمی تھی اے صفی
جو بھی تھا ویسا پڑا تھا دشت میں
۔۔۔۔۔۔۔
غزل
میں اگر نقش بناؤں وہ مٹا سکتا ہے
عشق طوفاں ہے گھنے پیڑ گرا سکتا ہے

خواب کیا ہے یہ دہکتا ہوا انگارہ ہے
چشمِ برفاب میں بھی آگ لگا سکتا ہے

صرف آنکھیں ہی نہیں سارا بدن خستہ ہے
دیکھ! یہ ہجر کسی سمت سے آ سکتا ہے

میرے سینے پہ لگے زخم گواہی دینا
پھول کھل جائے تو ماحول سجا سکتا ہے

وقت مرہم ہے یہ ہنستا ہے ہنساتا ہے میاں
یہ تو تقدیر کے ماتم کو بھلا سکتا ہے

کیا خبر کون ہے صوفی ہے قلندر ہے کہ غوث
میرے اندر ہی تو ہے مجھ کو بلا سکتا ہے

کتنا تنہائ کا سناٹا ہے چاروں جانب
سانس لینے سے بھی اک شور سا آ سکتا ہے

خود سے بچھڑا تو ترے در پہ چلا آیا ہوں
ایک تُو ہے جو مجھے مجھ سے ملا سکتا ہے

میں محبت ہوں ازل اور ابد مجھ میں ہیں
مجھ سوا کون صفی مجھ کو سما سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
جب تک میں آگہی کا پسندیدہ شخص تھا
تب تک میں بے کلی کا پسندیدہ شخص تھا

گھیرا ہے تیرگی نے مقدر کی بات ہے
ورنہ میں روشنی کا پسندیدہ شخص تھا

جگنو نہیں چراغ نہیں اس کے نام کا
کل تک جو زندگی کا پسندیدہ شخص تھا

تاریخ کے ورق سے مٹایا گیا مجھے
میں ہر ستم گری کا پسندیدہ شخص تھا

منبر سے میری خاک پہ فتوے اتر گئے
میں دشت بے بسی کا پسندیدہ شخص تھا

وہ جس نے سر کٹا کے اصولوں پہ داد دی
اچھا!! تو ، وہ صفی کا پسندیدہ شخص تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
اس شہر کی بقا پہ کہوں تو میں کیا کہوں
اس جبرِ ناروا پہ کہوں تو میں کیا کہوں

باطن کے آئنے پہ جمی ہیں کثافتیں
ظاہر کے مدعا پہ کہوں تو میں کیا کہوں

جھوٹی گواہیوں ہی پہ مجرم بنا دیا
منصف کی اس ادا پہ کہوں تو میں کیا کہوں

یونہی مرے وجود سے منکر ہوئے ہیں آپ
اس بغضِ ناروا پہ کہوں تو میں کیا کہوں

ہر سمت ہے خموشی، زبانوں پہ قفل ہیں
پُر ہول سی فضا پہ کہوں تو میں کیا کہوں

جینا بھی اک عذاب ہے مرنا بھی جرم ہے
اس قیدِ بے صدا پہ کہوں تو میں کیا کہوں

وہ کلفتیں سفر کی وہ پاؤں چھدے ہوے
اس جشنِ آبلہ پہ کہوں تو میں کیا کہوں

بادل ہٹے تو سامنے تھا چاند کا سروپ
قدرت کی اس عطا پہ کہوں تو میں کیا کہوں

سوچوں میں اضطراب تو آنکھوں میں ڈر صفی
خوابوں کی التجا پہ کہوں تو میں کیا کہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل

گواہ نقشِ جہاں بے ریا عبادت کا
حجاب اٹھیں، ابھرتا ہے حُسن وحدت کا

کبھی فرات، کبھی نیل کے بھنور بولے
یہ وقت خون سے لکھتا ہے لفظ حیرت کا

فلک کی آنکھ میں حیرت سی رہ گئی ساکن
چراغ جلتا رہا کربلا کی جرات کا

سپاہِ ظلم سمجھتی ہے یہ تو مٹی ہے
مگر یہ خاک حوالہ ہے ہر شجاعت کا

فسردہ رات کے پردے سے جب اذاں گونجی
سکوت جاگ اٹھا وقت تھا عبادت کا

یہاں جو رمزِ سُلُوکِ وفا سمجھتا ہے
وہی نشان بنا ہے شعورِ ملت کا

مزار چپ ہے مگر خاک بولتی ہے میاں
یہیں پہ دفن ہوا ہے غرور شہرت کا

ہراک سکوت کے پہلو میں اک صدا بھی ہے
سکوتِ صبر میں پنہاں جہاں بغاوت کا

اتر کے آئیں بگولے تمھاری نصرت کو
ہوا بھی ساتھ نبھاتی ہے اہلِ غیرت کا

سکوتِ صبر نے ہر دور میں بلند کیا
یذیدیت کے مقابل علم بغاوت کا

بدن ہو چاک مگر روح مسکراتی رہے
عجب مقام ہے سجدہ صفی عبادت کا
۔۔۔۔۔۔۔۔
چند فردیات

جب سے جھانکا ہے گریباں میں صفی
چھوڑ بیٹھے ہیں نصیحت کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابطہ پیڑ سے کٹ جاتا ہے جس وقت صفی
خشک پتے کو تو جھونکے کا بھی ڈر رہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر میں بے چہرگی کا گر یہی عالم رہا
دیکھنے والے نہ ہوں گے آئنے رہ جائیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفرت سی ہو گئی ہے مجھے دوستی کے ساتھ
اتنا نہ دے خلوص کہ آنسو نکل پڑیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی تذلیل پہ ہم چپ نہ رہیں گے
ہر شخص کے سینے میں تو پتھر نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ اس خوف سے کم مرتے ہیں دنیا میں صفی
اپنی چادر سے کہیں بڑھ کے کفن لگتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کرتے رہے چاک گریباں کی شکایت
صد شکر کہ اپنا تو گریباں ہی نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے بدن اتار کے گٹھڑی میں رکھ دیا
کیسے سنبھالتا میں ادھارے وجود کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھتی ہے میرے جسم سے تیرے بدن کی لَو
لگتا ہے چوم لیں گے ستارے وجود کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کی یلغار سے مسمار کیسے ہو گیا
صاحبِ کردار بے کردار کیسے ہوگیا

سوچتا ہوں کس قدر بدلا اسے حالات نے
پھول سا جو شخص تھا تلوارکیسے ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائے گردش دوراں یہ تغیر نہیں اچھا
تو سوچ کبھی صاحب دستار تھا میں بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جکڑ رکھا ہے پورے زور سے کس نے شکنجے میں
مجھے لگتا ہے تیری یاد کے بازو نکل آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہجے سے اُس نے جھوٹ کو سچ میں بدل دیا
میں چپ تھا مجھ سے شعلہ بیانی نہ ہو سکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدینے کی گلی تھی روشنی تھی اور میں تھا
تصور میں کہیں غار حرا رکھا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔
برف پگھلی ہے میرے اندر سے
کون کہتا ہے اشک باری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گر ڈبوتا وہ مجھے خود بھی نہ بچتا دریا
میں جو طوفان میں ڈھلتا تو کنارہ جاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔
تصور آئینہ خانہ ہے ہر تصویر افسردہ
بکھرتی کرچیوں میں زندگی کا رقص جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے جھانکا ہے گریباں میں صفی
چھوڑ بیٹھے ہیں نصیحت کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابطہ پیڑ سے کٹ جاتا ہے جس وقت صفی
خشک پتے کو تو جھونکے کا بھی ڈر رہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر میں بے چہرگی کا گر یہی عالم رہا
دیکھنے والے نہ ہوں گے آئنے رہ جائیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفرت سی ہو گئی ہے مجھے دوستی کے ساتھ
اتنا نہ دے خلوص کہ آنسو نکل پڑیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی تذلیل پہ ہم چپ نہ رہیں گے
ہر شخص کے سینے میں تو پتھر نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ اس خوف سے کم مرتے ہیں دنیا میں صفی
اپنی چادر سے کہیں بڑھ کے کفن لگتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کرتے رہے چاک گریباں کی شکایت
صد شکر کہ اپنا تو گریباں ہی نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے بدن اتار کے گٹھڑی میں رکھ دیا
کیسے سنبھالتا میں ادھارے وجود کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھتی ہے میرے جسم سے تیرے بدن کی لَو
لگتا ہے چوم لیں گے ستارے وجود کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کی یلغار سے مسمار کیسے ہو گیا
صاحبِ کردار بے کردار کیسے ہوگیا

سوچتا ہوں کس قدر بدلا اسے حالات نے
پھول سا جو شخص تھا تلوارکیسے ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائے گردش دوراں یہ تغیر نہیں اچھا
تو سوچ کبھی صاحب دستار تھا میں بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جکڑ رکھا ہے پورے زور سے کس نے شکنجے میں
مجھے لگتا ہے تیری یاد کے بازو نکل آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہجے سے اُس نے جھوٹ کو سچ میں بدل دیا
میں چپ تھا مجھ سے شعلہ بیانی نہ ہو سکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدینے کی گلی تھی روشنی تھی اور میں تھا
تصور میں کہیں غارِ حرا رکھا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔
برف پگھلی ہے میرے اندر سے
کون کہتا ہے اشک باری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گر ڈبوتا وہ مجھے خود بھی نہ بچتا دریا
میں جو طوفان میں ڈھلتا تو کنارہ جاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔
تصور آئینہ خانہ ہے ہر تصویر افسردہ
بکھرتی کرچیوں میں زندگی کا رقص جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیرت سرائے عشق میں گزری تمام عمر

ساری تھکن سمیٹ کے اب گھر گیا ہوں میں

Tags: dr afzal safi
Previous Post

لیہ ۔ ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر کی زیر صدارت پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے قیام کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

جنوبی پنجاب کی ترقی اور خوشحالی پاکستان کی مجموعی ترقی کےلئے ناگزیر ہے، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی
قومی/ بین الاقوامی خبریں

جنوبی پنجاب کی ترقی اور خوشحالی پاکستان کی مجموعی ترقی کےلئے ناگزیر ہے، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی

by webmaster
جنوری 16, 2026
0

اسلام آباد۔:قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے حافظ حسین احمد مدنی اور نوابزادہ سردار رفیق عباسی نے ایوانِ...

Read moreDetails
اقرار الحسن نے عوام راج تحریک کے قیام کا اعلان کر دیا

اقرار الحسن نے عوام راج تحریک کے قیام کا اعلان کر دیا

جنوری 15, 2026
ستھرا پنجاب اتھارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ تیار، یکم فروری کو فعال کیا جائے گا

ستھرا پنجاب اتھارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ تیار، یکم فروری کو فعال کیا جائے گا

جنوری 12, 2026
پیشہ ور بھکاری مافیا اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی  کی جاءے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی

پیشہ ور بھکاری مافیا اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جاءے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی

جنوری 9, 2026
جعفر ایکسپریس حملہ؛ آپریشن مکمل، 21 افراد اور 4 جوان شہید، تمام 33 دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر

خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

جنوری 7, 2026
ڈاکٹر محمد افضل صفی کا اصل نام ۔۔۔محمد افضل ہے۔"صفی" تخلص کرتے ہیں۔ وہ یکم فروری 1971 کو فتح پور چک نمبر A/228 /TDA میں محمد جلال کھنڈ کے گھر پیدا ہوئے۔( اج کل لیہ مقیم ہیں)۔ پرائمری تعلیم اسی گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی۔۔ انہوں نے میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول فتح پور سے 1987 میں کیا۔ اور ایم فل اردو علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد سے 2010 میں کیا ۔اسی یونی ورسٹی سے 2021 میں وہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ۔ان کے مقالے کا عنوان تھا"۔احمد فراز کی شاعری کا فنی اور اسلوبیاتی مطالعہ" پیشہ: درس و تدریس ہے. بطور صدرِ شعبہ اردو ، گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج کروڑ لعل عیسن میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے شاعری کا آغاز۔1984...1985 میں کیا ۔ ان کی تصانیف: 1."صحرا سے گفتگو" ۔۔باراول۔۔2000(شاعری) بار دوم۔۔2003 ۔۔ 2."نگاہیں اداس ہیں"۔۔مارچ 2004(شاعری) 3."ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحیثیت محقق" 2010(تحقیق) 4."صحرا اداس ہے"2011( شاعری) 5۔"احمد فراز کی شاعری کا فنی اور اسلوبیاتی مطالعہ" 2023 (تحقیق) 6۔"جمالِ لفظ و معنی" 2024( تنقیدی تبصرے تجزیے) 7."رمز آ شنا "2024 (تحقیقی و تنقیدی مضامین) 8 ۔'صد رنگِ جمال" ( غزلیں: زیرِ طبع ) 9۔"کہیں ملے تو اسے یہ کہنا" ( نظمیں :زیرِ طبع) ڈاکٹر محمد افضل صفی بیک وقت تحقیق ،تنقید اور شاعری سے وابستہ ہیں۔ ان کے متعدد ریسرچ آرٹیکلز نیشنل اور انٹر نیشنل ریسرچ جرنلز میں چھپ چکے ہیں جو آن لائن دیکھے جا سکتے ہیں۔دنیائے اردو ادب میں ان کی ادبی خدمات کو بہت پزیرائی مل چکی ہے اور ان کے کام کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ان کی تحقیق و تنقید پر چند مشاہیر کی آرا دیکھیے: ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد لکھتے ہیں: " محمد افضل صفی نے نہایت محنت اور عرق ریزی سے ڈاکٹر گوہر نوشاہی کی زندگی اور ان کے تحقیقی و تدوینی کار ناموں کا جائزہ پیش کیا ہے۔ نتائج کے استخراج اور کتابوں کے تجزیے میں انھوں نے تحقیقی و تنقیدی اصولوں کی اور قاعدوں کی مکمل پاسداری کی ہے۔ان کا اسلوبِ نگارش سادہ مگر دل کش اور رواں ہے" ( ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحثیت محقق ص11) ڈاکٹر تبسم کا شمیری: " محمد افضل صفی نے گوہر نوشاہی کی تحقیق و تدوین کی بہتر تفہیم کے لیے ایک قابلِ قدر کام کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ مقالا گوہر شناسی کے میدان میں ایک قابلِ تحسین سعی قرار دیا جائے گا"( ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحثیت محقق :ص12) ڈاکٹر رشید امجد: " محمد افضل صفی نے ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحثیت محقق پر بہت عمدہ کام کیا ہے۔تحقیق و تنقید کے تقاضوں کو پوری طرح نبھایا ہے۔افضل صفی کا یہ کام علمی و ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ یہ دیکھا جائے گا"( ڈاکٹر گوہر نوشاہی بحثیت محقق۔ص 14) اسی طرح ان کے پی ایچ ڈی کے کام پر بہت کچھ لکھا گیا ہے چند آرا پیش خدمت ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہد اقبال کامران بیشہ تحقیق کا شیر مرد کے عنوان سے لکھتے ہیں۔ " بیشتر محققین احمد فراز کی شاعری کے موضوعات اور فکریات تک محدود رہے۔۔۔۔محمد افضل صفی نے احمد فراز کی شاعری کے فنی اور اسلوبیاتی مطالعے کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ۔انھوں نے نہایت توجہ اور جامعیت کے ساتھ علمِ بیان بدیع ،علم عروض ،ہیئت شعری،صوتی اور صرف و نحو کے پیمانوں سے احمد فراز کی شاعری کے طلسم کو دریافت کرنے کی کوشش کی " ( دیارِ عشق میں 22 اگست 2024) ڈاکٹر اسحاق وردگ کے مطابق: "جدید نظامِ تنقید کے عدسے سے اردو شعروادب کا انتقادی تجزیہ بہت کم مرتب ہوا ہے۔بالخصوص کلاسیکل و جدید شعریات کا مطالعہ روایتی نظام تنقید کی روشنی میں ملتا ہے۔ اس تناظر میں ڈاکٹر محمد افضل صفی کا پی ایچ۔ڈی مقالہ "احمد فراز کی شاعری کا فنی و اسلوبیاتی مطالعہ" اردو تنقید کی ایک ناگزیر ضرورت کی تکمیل ہے۔یہ مقالہ اسلوبیات کے مغربی و مشرقی تصورات کی روشنی میں شعریات احمد فراز کی دریافتِ نو ہے۔( "ڈاکٹر اسحاق وردگ : کتاب چہرہ 8 مارچ 2023) فرحت عباس شاہ لکھتے ہیں: "ڈاکٹر محمد افضل صفی کا شمار ایسے صاحبانِ اخلاص تخلیقی محققین و ناقدین میں ہوتا ہے جو بغیر کسی صلے کی تمنا کے ادب سے اپنی وابستگی کا سچا اور عملی اظہار رکھے ہوے ہیں۔احمد فراز پر ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ تحقیق کا معیار طے کرنے کی سطح کا مقالہ ہے۔۔۔۔۔ڈاکٹر افضل صفی کی "رمز آ شنا" کی تحقیق ہی یہ ہے کہ اس میں مضافات کے سولہ ایسے شعرا پر مضامین لکھے گئے ہیں جن کا نام اور کام تسلیم کرنے میں آج تک ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی رہی ہے"۔( فرحت عباس شاہ نوائے وقت 23 اگست 2024) ان کے ادبی کام پر سات تحقیقی مقالات لکھے جا چکے ہیں۔تین ایم فل کی سطح پر ایک ایم کی سطح پر اور تین بی ایس کی سطح پر ۔یہ مقالاجات جی سی یونی ورسٹی لاہور، بہاء الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان سدرن پنجاب ،این سی بی اے ملتان اور غازی یونی ڈیرہ غازی خان وغیرہ میں تکمیل پائے۔ ا یک ضروری بات۔۔۔۔۔یہ ہےکہ اُن کی ایک نظم۔۔۔کہیں ملے تو اسے یہ کہنا۔۔۔۔گوگل یو ٹیوب پر بہت سے لوگوں نے اپنے نام سے منسوب کر رکھی ہے ۔اے آر وائی کی ڈرامہ سیریل وعدہ کا ٹائٹل سونگ بھی بنی۔۔اس کا ذکر ضروری تھا۔۔ چونکہ وہ جدید اور منفرد لہجے کے بہت عمدہ شاعر بھی ہیں اس لیے ان کی شاعری پر چند ناقدین کی آرا بھی پیش کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر خیال امروہوی کے مطابق: "افضل صفی اپنے عہد کا نوحہ گر ہے۔اس کی شاعری قوسِ قزاح کی ماند ہے جس میں مختلف رنگ موجود ہیں۔وہ ایک روشن خیال شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد حساس انسان بھی ہے جس کے سینے میں درد مند دل دھڑکتا ہے۔اس کی شاعری انسانیت سے محبت کا درس دیتی ہے"(بحوالہ :فلیپ صحرا سے گفتگو) محسن بھوپالی کے نزدیک :" افضل صفی کے یہاں نئی بات کہنے کا جذبہ کارفرما ہے۔غزل کے اشعار نہ صرف قاری کو بے ساختہ اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں بلکہ دادو تحسین پر بھی مائل کرتے ہیں "( بحوالہ فلیپ صحرا سے گفتگو) ڈاکٹر گوہر نوشاہی کے مطابق: " افضل صفی کی غزلوں میں تلخی،کڑواہٹ،تھکن،ناامیدی اور بے بسی کا احساس نہیں ہوتا بلکہ ان میں اُن کی شخصیت کی ٹھنڈک مٹھاس اور نغمگی قاری کا دامنِ دل کھینچتی ہے" (صحرا اداس ہے :ص15) جعفر بلوچ کے نزدیک: "جناب افضل صفی ایک خوش فکر اور خوش اسلوب شاعر ہیں۔ان کے کلام میں ان کے ذاتی علاقائی اور اجتماعی احوال و آثار کی صدائے باز گشت نمایاں طور پر سنائی دیتی ہے۔اپنے لطیف اور ہلکے پھلکے انداز میں وہ اپنی بات سہولت سے کہہ دینے پر قادر ہیں"( بحوالہ فلیپ صحرا سے گفتگو) ڈاکٹر عاصی کرنالی کی نظر میں: " افضل صفی نے غزل میں معنوی جمالیات کو برتا ہے اور عصری فضا کے تناظر میں خوب صورت پھول کھلائے ہیں۔وہ جدید طرزِ احساس کے ساتھ ساتھ عہدِ گزراں کی آشوب نگاری کے شاعر بھی ہیں۔انھیں یقین ہے کہ ایک دن آشوب کی اس ظلمت سے امید کا ستارہ اور انقلاب کی صبح طلوع ہوگی"(بحوالہ : نگاہیں اداس ہیں ۔ص 11) محسن فارانی کے مطابق:" افضل صفی کی شاعری لفظ و معنی کی آب تاب اور فکروخیال کی ندرتوں سے آراستہ ہے۔انھوں نے مصرعوں کی صورت تابدار نگینے تراشے ہیں جن سے پڑھنے والا فکری روشنی حاصل کرتا ہے۔شعروں میں اپنے تجربات اور احساسات کو زبان دینا شیشہ گری کا فن ہے اور صفی صاحب اس نازک مرحلے سے کمال احتیاط کے ساتھ گزرے ہیں"( بحوالہ: فلیپ صحرا سے گفتگو ) آئیے اب ان کا نمونۂ کلام دیکھتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔ غزل کانچ کا ٹکڑا پڑا تھا دشت میں یا مرا چہرہ پڑا تھا دشت میں لگ رہا تھا وصل کی تدفین ہے ہجر یوں بکھرا پڑا تھا دشت میں اس کے قدموں کے نشاں محفوظ تھے یوں لگا رستہ پڑا تھا دشت میں میرے اندر تھل بسا تھا عشق کا سو مجھے آنا پڑا تھا دشت میں دشت بھی سارے کا سارا مجھ میں تھا میں بھی تو سارا پڑا تھا دشت میں ایک تنہائ بچھی تھی ریت پر اور میں ٹوٹا پڑا تھا دشت میں بھیڑ میں مجھ سے دلاسہ گم ہوا میں نے جب ڈھونڈا، پڑا تھا دشت میں دوستی بھی شاعری بھی عشق بھی میرا ہر رشتہ پڑا تھا دشت میں پرتوِ خورشید دھندلانے لگا چاند کا سایہ پڑا تھا دشت میں صرف میری ہی کمی تھی اے صفی جو بھی تھا ویسا پڑا تھا دشت میں ۔۔۔۔۔۔۔ غزل میں اگر نقش بناؤں وہ مٹا سکتا ہے عشق طوفاں ہے گھنے پیڑ گرا سکتا ہے خواب کیا ہے یہ دہکتا ہوا انگارہ ہے چشمِ برفاب میں بھی آگ لگا سکتا ہے صرف آنکھیں ہی نہیں سارا بدن خستہ ہے دیکھ! یہ ہجر کسی سمت سے آ سکتا ہے میرے سینے پہ لگے زخم گواہی دینا پھول کھل جائے تو ماحول سجا سکتا ہے وقت مرہم ہے یہ ہنستا ہے ہنساتا ہے میاں یہ تو تقدیر کے ماتم کو بھلا سکتا ہے کیا خبر کون ہے صوفی ہے قلندر ہے کہ غوث میرے اندر ہی تو ہے مجھ کو بلا سکتا ہے کتنا تنہائ کا سناٹا ہے چاروں جانب سانس لینے سے بھی اک شور سا آ سکتا ہے خود سے بچھڑا تو ترے در پہ چلا آیا ہوں ایک تُو ہے جو مجھے مجھ سے ملا سکتا ہے میں محبت ہوں ازل اور ابد مجھ میں ہیں مجھ سوا کون صفی مجھ کو سما سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل جب تک میں آگہی کا پسندیدہ شخص تھا تب تک میں بے کلی کا پسندیدہ شخص تھا گھیرا ہے تیرگی نے مقدر کی بات ہے ورنہ میں روشنی کا پسندیدہ شخص تھا جگنو نہیں چراغ نہیں اس کے نام کا کل تک جو زندگی کا پسندیدہ شخص تھا تاریخ کے ورق سے مٹایا گیا مجھے میں ہر ستم گری کا پسندیدہ شخص تھا منبر سے میری خاک پہ فتوے اتر گئے میں دشت بے بسی کا پسندیدہ شخص تھا وہ جس نے سر کٹا کے اصولوں پہ داد دی اچھا!! تو ، وہ صفی کا پسندیدہ شخص تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل اس شہر کی بقا پہ کہوں تو میں کیا کہوں اس جبرِ ناروا پہ کہوں تو میں کیا کہوں باطن کے آئنے پہ جمی ہیں کثافتیں ظاہر کے مدعا پہ کہوں تو میں کیا کہوں جھوٹی گواہیوں ہی پہ مجرم بنا دیا منصف کی اس ادا پہ کہوں تو میں کیا کہوں یونہی مرے وجود سے منکر ہوئے ہیں آپ اس بغضِ ناروا پہ کہوں تو میں کیا کہوں ہر سمت ہے خموشی، زبانوں پہ قفل ہیں پُر ہول سی فضا پہ کہوں تو میں کیا کہوں جینا بھی اک عذاب ہے مرنا بھی جرم ہے اس قیدِ بے صدا پہ کہوں تو میں کیا کہوں وہ کلفتیں سفر کی وہ پاؤں چھدے ہوے اس جشنِ آبلہ پہ کہوں تو میں کیا کہوں بادل ہٹے تو سامنے تھا چاند کا سروپ قدرت کی اس عطا پہ کہوں تو میں کیا کہوں سوچوں میں اضطراب تو آنکھوں میں ڈر صفی خوابوں کی التجا پہ کہوں تو میں کیا کہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل گواہ نقشِ جہاں بے ریا عبادت کا حجاب اٹھیں، ابھرتا ہے حُسن وحدت کا کبھی فرات، کبھی نیل کے بھنور بولے یہ وقت خون سے لکھتا ہے لفظ حیرت کا فلک کی آنکھ میں حیرت سی رہ گئی ساکن چراغ جلتا رہا کربلا کی جرات کا سپاہِ ظلم سمجھتی ہے یہ تو مٹی ہے مگر یہ خاک حوالہ ہے ہر شجاعت کا فسردہ رات کے پردے سے جب اذاں گونجی سکوت جاگ اٹھا وقت تھا عبادت کا یہاں جو رمزِ سُلُوکِ وفا سمجھتا ہے وہی نشان بنا ہے شعورِ ملت کا مزار چپ ہے مگر خاک بولتی ہے میاں یہیں پہ دفن ہوا ہے غرور شہرت کا ہراک سکوت کے پہلو میں اک صدا بھی ہے سکوتِ صبر میں پنہاں جہاں بغاوت کا اتر کے آئیں بگولے تمھاری نصرت کو ہوا بھی ساتھ نبھاتی ہے اہلِ غیرت کا سکوتِ صبر نے ہر دور میں بلند کیا یذیدیت کے مقابل علم بغاوت کا بدن ہو چاک مگر روح مسکراتی رہے عجب مقام ہے سجدہ صفی عبادت کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ چند فردیات جب سے جھانکا ہے گریباں میں صفی چھوڑ بیٹھے ہیں نصیحت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رابطہ پیڑ سے کٹ جاتا ہے جس وقت صفی خشک پتے کو تو جھونکے کا بھی ڈر رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر میں بے چہرگی کا گر یہی عالم رہا دیکھنے والے نہ ہوں گے آئنے رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نفرت سی ہو گئی ہے مجھے دوستی کے ساتھ اتنا نہ دے خلوص کہ آنسو نکل پڑیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کی تذلیل پہ ہم چپ نہ رہیں گے ہر شخص کے سینے میں تو پتھر نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ اس خوف سے کم مرتے ہیں دنیا میں صفی اپنی چادر سے کہیں بڑھ کے کفن لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کرتے رہے چاک گریباں کی شکایت صد شکر کہ اپنا تو گریباں ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے بدن اتار کے گٹھڑی میں رکھ دیا کیسے سنبھالتا میں ادھارے وجود کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹھتی ہے میرے جسم سے تیرے بدن کی لَو لگتا ہے چوم لیں گے ستارے وجود کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت کی یلغار سے مسمار کیسے ہو گیا صاحبِ کردار بے کردار کیسے ہوگیا سوچتا ہوں کس قدر بدلا اسے حالات نے پھول سا جو شخص تھا تلوارکیسے ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ائے گردش دوراں یہ تغیر نہیں اچھا تو سوچ کبھی صاحب دستار تھا میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جکڑ رکھا ہے پورے زور سے کس نے شکنجے میں مجھے لگتا ہے تیری یاد کے بازو نکل آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہجے سے اُس نے جھوٹ کو سچ میں بدل دیا میں چپ تھا مجھ سے شعلہ بیانی نہ ہو سکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدینے کی گلی تھی روشنی تھی اور میں تھا تصور میں کہیں غار حرا رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ برف پگھلی ہے میرے اندر سے کون کہتا ہے اشک باری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گر ڈبوتا وہ مجھے خود بھی نہ بچتا دریا میں جو طوفان میں ڈھلتا تو کنارہ جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تصور آئینہ خانہ ہے ہر تصویر افسردہ بکھرتی کرچیوں میں زندگی کا رقص جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب سے جھانکا ہے گریباں میں صفی چھوڑ بیٹھے ہیں نصیحت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رابطہ پیڑ سے کٹ جاتا ہے جس وقت صفی خشک پتے کو تو جھونکے کا بھی ڈر رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر میں بے چہرگی کا گر یہی عالم رہا دیکھنے والے نہ ہوں گے آئنے رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نفرت سی ہو گئی ہے مجھے دوستی کے ساتھ اتنا نہ دے خلوص کہ آنسو نکل پڑیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کی تذلیل پہ ہم چپ نہ رہیں گے ہر شخص کے سینے میں تو پتھر نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ اس خوف سے کم مرتے ہیں دنیا میں صفی اپنی چادر سے کہیں بڑھ کے کفن لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کرتے رہے چاک گریباں کی شکایت صد شکر کہ اپنا تو گریباں ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے بدن اتار کے گٹھڑی میں رکھ دیا کیسے سنبھالتا میں ادھارے وجود کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹھتی ہے میرے جسم سے تیرے بدن کی لَو لگتا ہے چوم لیں گے ستارے وجود کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت کی یلغار سے مسمار کیسے ہو گیا صاحبِ کردار بے کردار کیسے ہوگیا سوچتا ہوں کس قدر بدلا اسے حالات نے پھول سا جو شخص تھا تلوارکیسے ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ائے گردش دوراں یہ تغیر نہیں اچھا تو سوچ کبھی صاحب دستار تھا میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جکڑ رکھا ہے پورے زور سے کس نے شکنجے میں مجھے لگتا ہے تیری یاد کے بازو نکل آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہجے سے اُس نے جھوٹ کو سچ میں بدل دیا میں چپ تھا مجھ سے شعلہ بیانی نہ ہو سکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدینے کی گلی تھی روشنی تھی اور میں تھا تصور میں کہیں غارِ حرا رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ برف پگھلی ہے میرے اندر سے کون کہتا ہے اشک باری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گر ڈبوتا وہ مجھے خود بھی نہ بچتا دریا میں جو طوفان میں ڈھلتا تو کنارہ جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تصور آئینہ خانہ ہے ہر تصویر افسردہ بکھرتی کرچیوں میں زندگی کا رقص جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیرت سرائے عشق میں گزری تمام عمر ساری تھکن سمیٹ کے اب گھر گیا ہوں میں
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.