عہد دشنامی میں انقلاب کیسے ؟ انجم صحرائی
اب جس معاشرے میں طلباء سر عام ڈنڈوں سے اپنے استاد کی خبر گیری کرتے نظر آ ئیں اور استاد ...
اب جس معاشرے میں طلباء سر عام ڈنڈوں سے اپنے استاد کی خبر گیری کرتے نظر آ ئیں اور استاد ...
پنجاب میں آج کل ڈینگی کا بھوت ناچ رہا ہے ، اس وقت تک ایک محتاط اندازے کے مطا بق ...
یہ شا ید 80 کے عشرے کا ذکر ہے جب میں کلین شیو تھا اور عمر شا کر کی داڑھی ...
میرا سوال سنتے ہی صاحب اپنی کر سی سے یوں اچھلے جیسے کسی کیڑے نے ان کے جسم کے کسی ...
سوشل میڈیا میں وائریل ہونے والی ایک وڈیو میں ہمارے ایک پرانے انصافی ایم این اے نے ایک نئے انصافی ...
با وجود اس کے کہ مجھے اندازہ ہے کہ میں کبھی ایم پی اے مہر اعجاز اچلانہ کی گڈ بکس ...
سمجھ نہیں آ رہا آ ئی ایم ایف سے ملنے والے 6 ارب ڈالر پر دھمال ڈالیں یا ماتم ۔ ...
دوستو ! آج کل لیہ میں نعروں اور تا لیوں کی بہار آ ئی ہو ئی جدھر دیکھیں مبارک سلامت ...
جب سے دسٹرکٹ پریس کلب کے دوستوں نے لیہ ڈویژن بنا ءو کے نکتہ پر عوامی بیداری مہم کا آ ...
ریٹائرڈ میجر جنرل طارق مرانی کہتے ہیں کہ لیہ کو ضلع بنا نے میں ان کا اہم کردار ہے ان ...
اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال...
Read moreDetailsنہ لغاری رہے نہ مزاری رہے جنگ جاری رہے جنگ جاری رہے
سٹیج پر لغاری مزاری ۔ گردیزی اور خان سردار سبھی مو جود تھے سبھی خاموش سنتے رہے کہ وہ قلندر نما شا عر کسی شخص کو پڑھنے کی بجاءے جا گیردارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کر رہا تھا ۔ حبیب جا لب کی شا عری کو دیکھ لیںایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا ۔ میں نہیں جا نتا ظلم کی بات کو ۔جہل کی رات کو میں نہیں ما نتا ، میں نہیں جا نتا
حبیب جا لب نے یہ شعر وہاں سنا ءے جہاں اقتدار اور اقتدارءیے سبھی مو جود تھے لیکن کسی کو جراءت نہیں ہوئی کہ دھکے دے کر سٹیج سے اتارے ۔ مجھے صحافت کے ساتھ ساتھ سیاست کا بھی شوق تھا دو نوں میدانوں میں جا گیردارانہ سیاسی نظام اور سدا بہار اقتدار پرست چہرے میرے حریف رہے ۔ 36/40 کی سیاسی و صحافتی جدو جہد میں بہت سخت لکھا بھی اور بو لا بھی مگر آج تک کہیں خجا لت نہیں ا ٹھا نا پڑی سبب صرف یہ کہ زیر بحث مو ضوع نظام رہا ، استحصال رہا کسی کی ذات یا قبیلہ کو گا لیاں نہیں دیں اس کے عمل کو تنقید کا نشا نہ بنا یا ۔۔اور لو گوں کو میری تنقید اور بات سمجھ بھی آ ئی ۔۔ گا لیاں انقلاب اور تبدیلی نہیں لا یا کر تیں نظام کے ستاءے ہو ءے لو گوں کو آرگنائز کر کے ہی مقا صد حاصل کئے جا سکتے ہیں میرا خیال ہے {آپ میری اس راءے سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں }۔ ہمارے شا عروں ، دانشوروں اور اسا تذہ کو استحصالی سیاسی نظام کے خلاف فکری تحریک کے خدو خال متعین کر نے اور عوامی حقوق پر مبنی اپنے بیا نہ کو از سر نو تر تیب دینے کی ضرورت ہے ۔