ختم نبوت ﷺکے معاملے پر نہ بولتا تو اللہ اور اس کے رسول کو کیا منہ دکھاتا، مسلم لیگ چھوڑ رہا ہوں: میر ظفراللہ جمالی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے میں ترمیم ...
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے میں ترمیم ...
نوشہرہ(ما نیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قائداعظم کے کہنے پر ...
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے چیئر مین نیب کے عہدے کا چارج سنبھال لیا ۔نجی نیوز ...
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاہے کہ نوازشریف نے 300ارب کاجواب نہیں دیااس لئے ان ...
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہمارا دشمن خواہ چھوٹا ہو ...
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)احتساب عدالت نے کیپٹن (ر)صفدر کو 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر فوری طور ...
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)آج سے ٹھیک 12سال قبل پاکستان کی تاریخ کا سب سے ہولناک زلزلہ آیا جو اپنے پیچھے ان مٹ ...
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو جنوبی ایشیائکی سٹریٹجی میں بھارتی کردار اور ...
جھل مگسی (مانیٹرنگ ڈیسک)درگاہ فتح پور پر ہونے والے دھماکے کے شہدا کی تدفین کا سلسلہ جاری ہے، اتنا بڑا ...
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سیاست میں پاک ...
وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...
Read moreDetailsاسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر مسلم لیگ ن چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ نجی ٹی وی 24 نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میر ظفراللہ خان جمالی نے کہا کہ وہ پچھلے 37 سال سے متواتر بلا ناغہ سعودی عرب جاتے رہے ہیں ، اللہ کے گھر اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ ن چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ اگر میں ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر نہ بولتا تو وہاں کیا منہ دکھاتا، ایسی جگہ پر رہنا میرے لیے نا ممکن ہے اسی لیے میں اپنا سامان سمیٹ کر آیا ہوں اور گھر جا رہا ہوں‘۔
میر ظفراللہ جمالی نے بتایا کہ ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر انہوں نے زاہد حامد کے ساتھ رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی، زاہد حامد نے کہا کہ یہ کمیٹی کا فیصلہ تھا۔ ’بل کو پڑھے بغیر کیسے پاس کیا گیا جس نے بھی بل پاس کیا وہ بری الذمہ نہیں ہے اکیلا ایک وزیر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرسکتا‘۔ source... http://dailypakistan.com.pk/national/12-Oct-2017/658137