شب و روز زند گی قسط57 انجم صحرائی دوستو ماہ و سال گذرتے دیر نہیں لگتے وقت نے تو گذرنا...
Read moreDetailsایم ایم روڈ موٹروے میں کب تبدیل ہوگا ؟ خضرکلاسرا وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ میانوالی کے ایم...
Read moreDetailsارضِ پاک :غنڈوں میں پھنسی رضیہ محمدعماراحمد جس روز ایرانی صدر جناب حسن روحانی صاحب پاکستان کے دورے پر آئے...
Read moreDetailsروبینہ فیصل کی’’ خواب سے لپٹی کہانیاں‘‘ ازقلم: حسیب اعجاز عاشر معروف ادبی شخصیت محمد ظہیر بدر کی میزبانی میں...
Read moreDetailsڈراوا یا ڈرامہ عفت پٹھان کوٹ کا حملہ کیا ہوا ایک بار پھر پاکستان کو اس میں ملوث کرنے کی...
Read moreDetailsڈی سی ہاؤس کے پڑوس میں چا ئلڈ لیبر کے مرا کز تحریر محمد عمر شاکر برصغیر میں مغلیہ حکومت...
Read moreDetailsشب و روز زند گی قسط56 تحریر ۔۔ انجم صحرائی کوٹ سلطان کی پہلی انجمن تا جران یہ تو...
Read moreDetailsلہو لہولہان لاہور خضرکلاسرا لاہور کے گلشن اقبال پارک میں 72معصوم بچوں ،عورتوں اوردیگر افرادکی خودکش حملہ کے نتیجہ میں...
Read moreDetailsگلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے محمدعماراحمد یہ دل وجان سے عزیز پاکستان، بننے سے پہلے ہی خون کاپیاسا...
Read moreDetailsساجھے کی ہانڈی عفت مثل مشہور ہے کہ ساجھے کی ہانڈی بیچ چوراہے میں پھوٹتی ہے۔ایسا ہی کچھ ایم کیو...
Read moreDetailsراولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...
Read moreDetails
نائن الیون کا حادثہ عصر حاضر کا سب سے بڑا سانحہ ہے جس نے دنیا کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے مگراس واقعہ کے بعد وہ مذاہب جن کے پیروکاروں کے درمیان نفرت کی وسیع خلیج حائل ہوگئی تھی ان میں مکالمہ کی اشد ضرورت تھی مگر ہر دو نظریات کے دانشورحلقے اس ضرورت کو کماحقہ پورا کرنے سے قاصر رہے جس کی وجہ سے وہ چند چہرے جنھوں نے مذہب کا نقاب اوڑھ کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے جہاں سماج میں امن کے چہرے کو مسخ کرنے کی سعی کی وہاں ہر دومذاہب کے شدت پسند طبقات نے نفرت کی دیواریں اتنی اونچی کردیں جنھیں پھلانگنا ناممکن تھا۔اسی طرح کمیونزم کو بعض مذہبی شدت پسندوں نے غلط رنگ دیا حالاں کہ کمیونزم مساوات اور انسانیت کا
پھونک کر سماج کو ایک ڈھب میں ڈھالا۔اس بار یہ بیڑا معروف شاعر،دانشور ومحقق ڈاکٹر افتخار بیگ نے معاشرے میں قائم جمود کو توڑنے کے لیے جہاں وعلم وآگہی کے دیپ جلائے وہاں طلبا و طالبات میں ’’بحث و مباحثہ‘‘کا آغاز کر کے ’’سوال‘‘اٹھانے سے ’’جواب‘‘کے ملنے تک کا جو سلسلہ شروع کیا وہ یقیناًقابل تحسین ہے۔
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ میں’’ مجلس مباحثہ ‘‘کا آغاز 25فروری 2016ء کو ہوا۔ اس کے اب تک 8اجلاس ہو چکے ہیں۔اس مجلس کے قیام میں کالج ہذا کے پرنسپل پروفیسرمہر اختر وہاب کی دلچسپی نے اہم کردار ادا کیا۔عہدیداران کا چناؤ ڈاکٹر افتخار بیگ نے کیا ۔مجلس مباحثہ کے عہدیداران میں مجاہد اقبال(صدر)عبدالرحمان احمد(جنرل سیکرٹری)عارف حسین(نائب صدر)صدیق احمد(جوائنٹ سیکرٹری)ہیں۔
مجلس مباحثہ کے اِن 8اجلاسوں میں جن جن طلبا نے حصہ لیا ان میں۔مجاہد اقبال(ایم۔اے اردو)عبدالرحمان(بی۔ایس سی )صدیق احمد(یم۔اے اردو)عارف حسین (ایم۔اے اردو)،عامر رضا(ایم۔اے اردو)سارہ اصغر(ایم۔اے اردو)مصباح نورین(ایم۔اے اردو)ثمینہ (ایم۔اے اردو)محمد اعظم (ایم۔اے اردو)سونیا کنول(ایم۔اے اردو)،مصباح ناز(ایم۔اے اردو) مزمل حسین (ایم۔اے اردو)،۔منزہ نذیر(ایم۔اے اردو)عرفات قیوم(ایم۔اے اردو)اقرارکنول(ایم۔اے اردو)شامل ہیں۔اگر دیکھا جائے تو اب تک کہ جوموضوعات اب تک زیر بحث لائے جا چکے ہیں وہ حالاتِ حاضرہ کے اہم موضاعات میں سے ہیں جیسا کہ ’’اسلام میں رواداری‘‘،حقوق نسواں‘‘،’’طلبا پڑھنا چاہتے ہیں ماحول میسرنہیں‘‘،’’اسلام معاشرتی رواداری کا درس دیتا ہے‘‘،’’کیا پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے‘‘،’’میں ٹیکس کیوں دوں‘‘،تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان‘‘شامل ہیں۔
بحث ومباحثہ سے جہاں مختلف موضوعات پر تعلیم یافتہ نئی نسل کو ہر دوفریقین سے کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا وہاں ایسی معلومات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکے گا جو ہماری اذہان کی آنکھوں سے بھی اوجھل ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ گورنمنٹ ونجی تعلیمی اداروں میں مکالمہ اور بحث ومباحثہ کو لازمی قرار دے تاکہ ہمارا معاشرہ ’’سوال‘‘سے ’’جواب‘‘تک پہنچ کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے۔