گوشت مارکیٹ میں نہ قصاب گئے اور نہ نادرا دفتر منتقل ہو سکا تحریر ۔محمد صابر عطاء تھہیم 03008762327 کوئی...
Read moreDetailsطوائف گھری ہو ئی ہے تماش بینوں میں تحریر ۔ انجم صحرائی شب کا آ خری پہر اور نیند کو...
Read moreDetailsخوشبوئے قلم احسان اللہ احسان لیکس محمدصدیق پرہار siddiqueprihar@gmail.com وطن عزیزپاکستان جب سے معرض وجودمیں آیا ہے ، اس کومٹانے...
Read moreDetailsپانامہ لیکس فیصلہ اور سدا بہار اقتداری رویے انجم صحرائی پانامہ کیس کا فیصلہ واقعی ایسا ہے کہ لوگ بیس...
Read moreDetailsاحساس کی جلن انجم صحرائی سانحہ چک 105لیہ کے تناظر میں لکھی گئی ایک نا مکمل تحریر موت نے اتنا...
Read moreDetailsتھل " کیساتھ ناانصافی کیوں ؟ خضرکلاسرا ملتان میں نشتر میڈیکل کالج ،ڈیرہ غازی خان میں غازی میڈیکل کالج ،رحیم...
Read moreDetailsعشق پیچاں۔عفت بھٹی آفتاب نارنجی ہوچلا تھا تمازت میں ایک میٹھا پن در آیا تھا ۔پرندے تھکے ہونے کے باوجود...
Read moreDetailsلیہ میں ایک شام شاکر شجاع آبادی کے نام تحریر:شیخ اقبال حسین یہ شام مورخہ 26مارچ2017کو بوقت دس بجے رات...
Read moreDetailsبھراتری وقف لینڈ سکینڈل اور ٹی ڈی اے کا کھوہ کھاتہ تحریر : انجم صحرائی قیام پاکستان کے لیہ سے...
Read moreDetailsگندم خریداری مہم 2017 تحریر. محمد جنید جتوئی . انفارمیشن آفیسر mjunaidinfo@gmail.com وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر...
Read moreDetailsعلیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetailsوزیر اعظم کا دورہ لیہ اے بسا کہ آرزو خاک شد تحریر ۔۔ انجم صحرائی
آج تین مئی صحافت ڈے اور گذرے کل دو مئی کو وزیر اعظم لیہ کے مہمان بنے تھَے ستم بالائے ستم یہ کہ وزیر اعظم کے لئے بنائے گئے اس ایک میل پر محیط جلسہ گاہ کے پنڈال میں اگر جگہ نہ ملی تو لوکل میڈیا کار کنوں کو۔۔۔ (معاف کیجئے گا یہ ایک میل کا جلسہ محترم نواز شریف نے بولا وگرنہ میں جا نتا ہوں میل کتنے کنالوں کا ہو تا ہے)
مقامی صحافی کیوں جلسہ میں شریک نہ ہو سکے ؟ ظاہر ہے کہ جب کسی جرنلسٹ سے کہا جاءے گا کہ تم تشریف ضرور لا ئیں مگر نہ تم نے دیکھنا ہے ، نہ بولنا ہے اور نہ لکھنا ہے تو جو صحافی ہے تو وہ تو یہی کہے گا نا کہ بھائی میں کیوں اور کس لئے آ ئوں ۔۔۔ وزیر اعظم تو روز ملتے ہیں ٹی وی پر آج بھی نظر آ جائیں گے سو ایسا ہی ہوا مقامی دفتر اطلاعات والوں نے جب لوکل میڈ یا کو یہ کہہ کر دعوت دی کہ وزیر اعظم کی میڈ یا کوریج آپ نہیں کریں گے کیمرہ آپ نہیں لا ئیں گے بس آپ مہمان اور وہ بھی گو نگے اندھے اور بہرے مہمان بن آ نا چا ہتے ہیں تو تشریف لے آ ئیں سو بسم اللہ ۔۔۔
ظاہر ہے اس انو کھی پیشکش پر یہی ہونا تھا صحافتی تنظیموں اور سبھی صحافیوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ مٹی پاءو پی ٹی وی زندہ باد اور سبھوں نے اپنے معزز مہمان وزیر اعظم کے شو کو لائیو دیکھا اور سنا .... اور مجھ جیسے صحافت کے ادنی طالب علم کے لئے یہ ایک فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میرے ان نوجوان صحافی دو ستوں نے جلسہ گاہ سے دور رہتے ہو ئے بھی ذمہ داری نبھائی اور نیوز رپورٹنگ کی یقین نہ آئے تو آپ کل سے سوشل میڈ یا پر دی جانے والی پوسٹ اور آج کے قومی اخبارات میں دورہ وزیر اعظم کی جھلکیاں پڑھ لیں آپ کو یقین آ جائے گا
جلسہ گاہ کے ایئر کنڈیشنڈ پنڈال ہو نے کے با وجود میاں نواز شریف کا دورہ لیہ اس لحاط سے پھیکا پھیکا لگا کہ مسلم لیگ کے اس جلسے میں میاں دے نعرے وجن گے اور دیکھو دیکھو کون آ یا کے دیوانہ وار نعرے لگانے والے پیارے ورکر کم تھے یا شا ئد پی ٹی وی کے کیمرے کی نظر ان پر پڑی ہی نہیں اور کیمرہ ادھر گیا ہی نہیں جو ناظرین مسلم لیگی کار کنوں کی طرف سے لگائے گئے ان فلک شگاف نعروں کو دیکھنے اور سننے سے محروم رہے ۔ لگتاتھا کہ ممبران اسمبی نے اپنے ووٹرز سے پنڈال بھرا تھا میاں صاحب کے جانثار مسلم لیگی ور کرز سے سٹیج محروم رہا ۔۔۔۔ایئر کنڈیشنڈ پنڈال سے یاد آیا کہ دورہ وزیر اعظم کی خوشی میں لیہ کے شہری چو بیس گھنٹے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے محفوظ رہے ۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہو نا اتنی انہو نی تھی کہ سوشل میڈیا پر لوگ سوال کرتے نظر آ ئے کہ آج بجلی نہیں گئی خیر یت ؟ وزیر اعظم نے علاقہ نشیب میں تعمیر ہونے والے لیہ تونسہ پل جیسے میگا پراجیکٹ کا افتتا ح سپورٹس گراءونڈ میں ہی اپنے نام کی افتتاحی تختی کی نقاب کشا ئی کر کے کیا اب دیکھنا یہ ہو گا کہ سات کڑوڑ کے منصوبے کی یہ تختی اپنے اصل مقام پر کب نصب ہو تی ہے ؟
کاش وزیر اعظم لیہ تو نسہ پل کے تعمیر کی مجوزہ جگہ تشریف لے جاتے تو انہیں پتہ چلتا کہ علاقہ نشیب میں دریا برد ہو نے والے بے سرو ساماں اور بے خانماں لو گوں کو اس وقت لیہ تو نسہ پل سور کارپیٹڈ سڑک کے وعدوں سے زیادہ ہمدردی ، امداد ، بحالی اور آباد کاری کی ضرورت ہے ۔۔
افسوس اور شر مندگی اس بات پر رہی کہ ممبران اسمبلی وزیر اعظم سے آج بھی بلدیاتی سطح کے مطالبات کرتے رہے ، ہسپتال ، روزگار ، ایءر پورٹ ، میڈیکل کالج ، یونی ورسٹی یہ سب مطالبات دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ اور تو اور وہ تو یہ بھی بھول گئے کہ ضلع لیہ ضیاء دور میں بننے والے اضلاع میں وہ واحد بد قسمت ضلع ہے جسے نصف صدی گذرنے کے بعد بھی ایک مکمل ڈی ایچ کیو ہسپتال بھی نصیب نہیں ہوا اور کچھ نہیں تو ایک مکمل ہسپتال ہی مانگ لیتے
مگر اے بسا کہ آرزو خاک شد

انجم صحرائی