انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابو میں لٹیروں کے جسارت خیالی یہ کیسی سیاست ہے ہر سمت قیامت ہے قابو میں لٹیروں کے...
Read moreDetailsانتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شب گزیدہ دیا بھی جلتا ہے موت سے پہلے کون مرتا ہے شب گزیدہ دیا بھی جلتا ہے...
Read moreDetailsانتخاب ............ شہر جاناں کے عذاب شہر جاناں کے عذاب لکھوں تیرے بچھرنے کاحال لکھوں لمحوں کے سارے زوال لکھوں...
Read moreDetailsانتخاب ............ غزل شاعرہ۔ثمینہ کنول پھول راکھ لگتے ہیں یار جب بچھڑ تے ہیں آپ سنگ ہوتے ہیں کام سب...
Read moreDetails.......انتخاب نیلا دکھ سو چوں کے انبار پہ لیٹی سوچ رہی ہوں چاند ستارے ، بادل اور بارش کا...
Read moreDetailsلاہور: پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق...
Read moreDetailsبہت تلخ ہے حقیقت تیری یادوں کی
جب شام سی ڈھلتی ہے تو پتا چلتا ہے
اس کی ہنسی پے نہ جانا بڑا ستم گر ہے وہ
جب کھلتی ہے حقیقت تو پتا چلتا ہے
بدگماں نہ کر دے کہیں اپنے آپ سے تم کو
جب سانس سی رکتی ہے تو پتا چلتا ہے
عشق میں جل جل کر اسے یاد کرو گے
جب من میں آگ سی لگتی ہے تو پتا چلتا ہے
زحمت نہ اٹھائے کوئی اذیت انتظار کی
جب جان پے بنتی ہے تو پتا چلتا ہے
اندھیروں میں رو رو کر فریاد کرو گے
نگری میں چاند نہ نکلے تو پتا چلتا ہے
کوئی ساتھ میں رہے تو سب اچھا ہے
جب کوئی ہاتھ سے نکلے تو پتا چلتا ہے
تم سے کوئی محبت کا اظہار نہ کر دے
جب ںیندیں اڑتی ھیں تو پتا چلتا ہے
تمہیں ہے عشق تو سنبھال کر رکھو
ورنہ جب چوٹ سی لگتی ہے تو پتا چلتا ہے
شاعر, حمادرضا