محترم صدرِ عالی وقار اور معزز حاضرینِ محفل!
السلام علیکم!
کہتے ہیں کہ قلم سے انقلاب آتا ہے، قلم سے نسلیں بنتی ہیں
قلم صرف ایک اوزار نہیں، بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اگر ہم پاکستان اور پاکستانیت کے تناظر میں بات کریں، تو قلم کار کا کردار ایک چوکیدار اور رہنما جیسا ہو جاتا ہے۔ ایک سچا قلم کار اپنی تحریر سے معاشرے کو آئینہ دکھاتا ہے اور مایوسی کے اندھیروں میں امید کی شمع جلاتا ہے۔
معزز سامعین!
آج کے دور میں جہاں قلم کاروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہیں ان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور تربیت کرنے والے ادارے بھی برابر کے داد کے مستحق ہیں۔ اسلام آباد کی معروف ادبی تنظیم "ادب, سماج اور انسانیت” اس کی ایک بہترین اور زندہ مثال ہے۔
میں یہاں خاص طور پر اس تنظیم کے روحِ رواں، محترم شہزاد افق صاحب اور ان کی پوری ٹیم کا تہہِ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے اس باوقار تربیتی نشست اور ساتویں سالانہ تقریب میں مجھے مہمانِ خصوصی بننے کا اعزاز بخشا۔ ان کی اس محبت اور خلوص کے لیے یہ شعر صادق آتا ہے:
خلوصِ دل سے جو روشن کیے ہیں تم نے چراغ
انہی چراغوں سے اب فکرِ نو کی بستی ہے
حاضرینِ گرامی!
جب ہم شہزاد افق صاحب کی بات کرتے ہیں، جن کا تعلق لیہ کے نواحی گاؤں جمال چھپری سے ہے، تو ہمیں فخر ہوتا ہے کہ انہوں نے علم و ادب کے میدان میں اپنے وسیب کا نام روشن کیا۔ یہ دھرتی کتنی زرخیز ہے کہ اسلام آباد کے میڈیا اور صحافت کے افق پر چمکنے والے ہمارے کئی قابلِ فخر ستارے اسی مٹی کا اثاثہ ہیں۔ چاہے وہ: صحافت کا معتبر نام رؤف کلاسرا صاحب ہوں،
تحقیقاتی صحافت کے بے باک صحافی زاہد گشکوری صاحب ہوں،
یا میڈیا انڈسٹری میں نمایاں مقام رکھنے والے صدیق جان , احمد اعجاز ۔علی شیر گلشن , فخر درانی , یہ تمام شخصیات اسلام آباد کے میڈیا میں اپنا گراں قدر کردار ادا کر رہی ہیں اور یہ سب ہمارے لیہ وسیب کا قابلِ فخر چہرہ ہیں۔ شہزاد افق صاحب نے اسی مٹی کی لاج رکھتے ہوئے اس تنظیم کے ذریعے یہ کاروان جاری رکھا ہوا ہے، جہاں ہر سال قلم کاروں کو ایوارڈز بھی دیے جاتے ہیں اور اس تربیتی نشست جیسے پروگرامز کے ذریعے نئی نسل کے لکھاریوں کی فکری آبیاری کی جاتی ہے۔
معزز حاضرینِ محفل!
آج جب میں یہاں کھڑا ہوں، تو یادوں کے دریچوں سے مجھے سال 1993 کا وہ دن کبھی نہیں بھولتا، جب میں نے اپنے دوستوں کے ہمراہ پاکستان اور پاکستانیت کے ناطے پارلیمنٹ کے سامنے ایک تاریخی احتجاج کیا گرفتار ہوے ۔ وہ ایک ایسا کٹھن دور تھا جب چند علاقائی گروہ لسانی نفرت اور تعصب کو بنیاد بنا کر انتشار کی سیاست کر رہے تھے، اور یہاں تک کہ ہمارے مقدس قومی جھنڈے جلائے جا رہے تھے۔ اس وقت ہم نے حب الوطنی کا علم بلند کیا اور ثابت کیا کہ پاکستان کی مٹی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
اسی ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں آج آپ کے سامنے یہ بات پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں اپنے تمام تر فکری، نظریاتی اور سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانیت کی بات کرنا ہو گی۔ کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں! ہماری آزادی، ہمارا وقار، ہماری انا اور ہماری عزت، سب کچھ اسی وطنِ عزیز پاکستان سے جڑا ہے۔ اس لیے قلم کاروں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تحریروں سے قوم کو جوڑیں، توڑیں نہیں۔
آخر میں، میں ایک بار پھر شہزاد افق صاحب اور ان کی تمام ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس خوبصورت محفل کا حصہ بنایا۔ "ادب، سماج اور انسانیت” جیسی تنظیمیں اور ہمارے یہ مایہ ناز ادیب شاعر صحافی دراصل پاکستان کا وہ بالغ نظر روشن، پڑھا لکھا اور پرامن چہرہ ہیں جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد!
(ادب سماج انسانیت فورم پاکستان کے زیر اہتمام اکادمی ادبیات اسلام آباد میں منعقدہ تربیتی نشست سے خطاب)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” شب و روزِ زندگی”
کے لئے ایک اور بڑا اعزاز:
ادب، سماج اور انسانیت ایوارڈ 2026 🌹
"شب و روزِ زندگی” کو باوقار "ادب سماج انسانیت ایوارڈ 27 -2026” سے نوازا گیا ہے۔یہ معزز ایوارڈ معروف شاعرادیب محترم محمد مظہر نیازی اور نوجوان شاعر عمران عامی صاحب نے مصنف انجم صحرائی کو پیش کیا۔
سماجی، ادبی اور انسانیت فورم کے روحِ رواں محترم شہزاد افق نے تقریب کی شاندار میزبانی کی اور محفل کو رونق بخشی۔ پُروقار تقریب اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد کے ہال میں منعقد کی گئی۔تقریب کی صدارت معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر روش ندیم نے کی جبکہ مہمان خصوصی انجم صحرائی اور مہمان ا عزاز ماہر تعلیم ڈاکٹر عمران اظفر اور پروفیسر نوید ملک تھے







