• ہوم پیج
  • ہمارے بارے
  • رابطہ کریں
  • پرائیوسی پالیسی
  • لاگ ان کریں
Subh.e.Pakistan Layyah
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
WhatsApp Image 2025-07-28 at 02.25.18_94170d07
previous arrow
next arrow
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز
No Result
View All Result
Subh.e.Pakistan Layyah
No Result
View All Result

بانڑ ، وٹب اور مرکل ۔۔۔تحریر ، ریاض الحق بھٹی

webmaster by webmaster
جون 15, 2026
in کالم
0
سوچ کر بویا کرو ۔۔۔  تحریر ۔ ریاض الحق بھٹی

ماں بولی کی محبت سے تو شاید ہی کوئی گریزاں ہو، یہ الگ بات کہ وقت کے ساتھ سبھی زبانوں میں مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہورہے ہیں اور ہر زبان ایک ملغوبہ بنتی جا رہی ہے ، جی چاہ رہا تھا کہ اپنے معززین کو سرائیکی کے دو لفظوں کی چاشنی سے محضوظ کریں تو ملاحظہ فرمائیں پہلا لفظ ، بانڑ۔ اس کے معنی ہیں کوشش کرنا، دوسرا لفظ ہے وٹب، جس کے معنی ہیں بے جا حمایت کرنا۔۔
ہم عالمی سطح سے لیکر مقامی سطح تک اپنی ماں بولی سے بہت زیادہ دور ہوئے جاتے ہیں ہم کیسے لوگ ہیں اغیار کی مصنوعات کے استعمال کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کو بھی نظر انداز کر ریے ہیں ہم کیسے لوگ ہیں ، چلئے آپ کو باوقار اور جدید دنیا کی ایک جھلک دکھاتے ہیں کہ
یہ کون لوگ ہیں؟
مجھے کبھی ملازم کی ضرورت ہی نہیں پڑی ہم دو میاں بیوی ہیں مل کر کام کرلیتے ہیں*20 سال سے نئے کپڑے نہیں بنائے میں جرمنی کی چانسلر ہوں فیشن گرل تو نہیں یورپ کی آئرن لیڈی سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی زندگی کی چند جھلکیاں

مجھے چانسلر ہوتے ہوئے اپنے ذاتی گھر میں کبھی ملازم کی ضرورت ہی نہیں پڑی‘ ہم دو میاں بیوی ہیں‘ فلیٹ چھوٹا ہے‘ مل کر کام کر لیتے ہیں‘ کھانا میں خود بنا لیتی ہوں‘ میرا خاوند رات کو مشین میں کپڑے ڈال دیتا ہے‘ میں صبح انھیں استری کر لیتی ہوں‘ صفائی ہم دونوں مل کر کر لیتے ہیں چناں چہ ہمیں کبھی کک یا ملازم رکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی‘‘۔
یہ الفاظ 16 برس تک دنیا کی چوتھی بڑی معیشت جرمنی کی سربراہ رہنے والی خاتون اینجلا مرکل کے ہیں‘ یہ 2005سے 2021 تک جرمنی کی مسلسل چانسلر رہیں‘ یہ 9 سال تک فوربز میگزین کی موسٹ پاورفل لیڈی ‘ پورے یورپ اور فری ورلڈ کی لیڈر بھی رہیں۔ اینجلا مرکل 1954 میں ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں‘ والدین کے ساتھ مشرقی جرمنی گئیں۔ 1986 میں کوانٹم کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور ریسرچ سائنس دان کے طور پر کام شروع کر دیا۔ مشرقی جرمنی میں 1989 میں سیاسی بیداری کا عمل شروع ہوا تو یہ سیاست میں آئیں اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ مختلف حیثیتوں میں کام کرتی رہیں۔ 2002 میں اپوزیشن لیڈر بنیں‘۔گرہارڈ شنوڈر کو ہرا کر 2005میں جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر بن گئیں۔
یہ بھی کمال تھا لیکن یہ اتنا بڑا کمال نہیں تھا‘ کمال تو اس خاتون نے اس کے بعد کیے اور پھرکمالات کی لائن لگا دی۔ جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا۔ ملک میں امن‘ سکون اور استحکام آیا اور جرمنی کا معاشی سکہ پوری دنیا میں چلنے لگا‘ یہ مسلسل 16 سال چانسلر رہیں۔ مزید بھی رہ سکتی تھیں لیکن انھوں نے 2018 میں اعلان کر دیا ’’میں 2021کے الیکشنز میں حصہ نہیں لوں گی‘ میں سیاست سے ریٹائر ہو رہی ہوں‘‘ یہ اعلان عجیب تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ دنیا‘ یورپ اور جرمنی کی مشہور ترین سیاست دان ہیں‘ لوگ ان سے حقیقتاً محبت کرتے ہیں لہٰذا یہ اگر چاہتی تو مزید دس پندرہ سال اس عہدے پر رہ سکتی تھیں لیکن انھوں نے خود ہی اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا -یہ یقیناً کمال ہے لیکن ان کا اصل کمال ان کا سادہ لائف اسٹائل ہے۔
اینجلا مرکل نے 18سال پہلے برلن میں ایک فلیٹ خریدا تھا-یہ درمیانے سائز کا مڈل کلاس فلیٹ ہے یہ 18سال سے اپنے خاوند جوکم سیور (Joachim Sauer) کے ساتھ اسی فلیٹ میں رہائش پذیر ہے. خاوند یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر ہے- وہ کبھی لائم لائٹ میں نہیں آئے۔ روز بس پر یونیورسٹی جاتے ہیں اور اگر بیرون ملک سفر کرنا پڑے تو یہ سستی ایئر لائینزپر اکانومی کلاس میں ٹریول کرتے ہیں۔یہ دونوں میاں بیوی 23سال سے اکٹھا ناشتہ کرتے ہیں ناشتہ سادہ ہوتا ہے اور یہ دونوں مل کر بناتے ہیں۔
برتن بھی دونوں دھوتے ہیں اور اس کے بعد اینجلا مرکل چانسلر کی گاڑی میں آفس چلی جاتی تھیں جب کہ خاوند بس یا پھر چھوٹی ذاتی گاڑی میں یونیورسٹی روانہ ہوجاتے۔ اینجلا مرکل نے 20سال سے نئے قیمتی کپڑے نہیں خریدے وارڈروب میں تیس پرانی جیکٹس‘ کوٹس اور لانگ کورٹس ہیں‘ اس کے پاس ٹراؤزر بھی صرف سفید رنگ کے ہیں اور یہ دنیا کو 18سال سے انھی وائٹ ٹراؤزرز میں نظر آ تی رہیں‘۔ان کے کوٹ اور جیکٹس بھی تبدیل نہیں ہوئیں‘ ان کے پاس صرف ایک نیکلس ہے دنیا نے آج تک ان کے گلے میں صرف یہی نیکلس دیکھا‘ ہیئراسٹائل بھی ایک ہی رہا‘ یہ کبھی بال بنوانے کے لیے بھی سیلون نہیں گئیں تھیں۔
صرف تین شوق ہیں‘ ہائیکنگ‘ فٹ بال کے میچ اور کھانا بنانا‘ اینجلا پروفیشنل شیف ہے‘ اینجلا مرکل نے اقتدار کے 16 برسوں میں روزانہ 20 گھنٹے کام کیا‘ یہ صرف چار گھنٹے سوتی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ میں مزاج کے لحاظ سے اونٹ ہوں‘ میں اپنی نیند اسٹور کر لیتی ہوں‘ چھٹی کا دن آتا ہے تو میں لمبی نیند لے لیتی ہوں جب کہ عام دنوں میں میری نیند صرف چار گھنٹے ہوتی ہے ۔یہ اپنے اسٹاف کو ہر وقت دستیاب رہتیں۔ اسے سحری کے وقت بھی فون کیا جاتا تھا تو یہ فون خود اٹھاتی تھی اور اس کی آواز میں کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔
لوگ ان کے یکساں ہیئراسٹائل‘ ایک جیسے کپڑے اور ایک نیکلس کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ ہنس کر جواب دیتی ہے ’’میں جرمنی کی چانسلر ہوں‘ فیشن گرل نہیں‘‘ یہ 2008 میں ناروے میں اپنے وزیراعظم کے ساتھ ایک فیشن شو میں مدعو تھیں لیکن پورے ہال میں سب سے سستے کپڑے انہوں نے پہن رکھے تھے ان کے سوٹ کی مالیت صرف پانچ یورو تھی اور وہ بھی چار سال پرانا تھا جب کہ ویٹرز تک کے ڈریس مہنگے اور ماڈرن تھے مگر اس سستے سوٹ کے باوجود پورے ہال میں آئرن لیڈی صرف ایک ہی تھی اور اس کا نام تھا اینجلا مرکل۔ یہ کپڑوں پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیشہ کہتی ہے ’’مرد عورتوں کو صرف اور صرف فیشن سمبل سمجھتے ہیں۔
یہ اگر خود چھ چھ ماہ ایک ہی شرٹ‘ پتلون اور کوٹ پہنتے رہیں انھیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی لیکن یہ خواتین کو ہمیشہ نئے اور مہنگے کپڑوں میں دیکھنا چاہتے ہیں‘‘ اس کا کہنا ہے ’’ہم اپنے گندے کپڑے رات کو مشین میں ڈالتے ہیں کیوں کہ رات کے وقت بجلی بھی زیادہ ہوتی ہے اور سستی بھی تاہم مجھے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے مشین کی وجہ سے ہمارے ہمسایوں کی نیند خراب نہ ہوتی ہو لہٰذا میں ایک دن ان کے پاس گئی اور ان سے رات کے وقت مشین چلانے کی باقاعدہ اجازت لی۔
جرمنی کے دورے کے دوران اینجلا مرکل نے اس وقت یوسف رضا گیلانی سے کہا تھا ’’جب تک کسی ملک کی پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوتی اس وقت تک اس کے حکمران مضبوط نہیں ہوتے‘ میں روز اپنے دفتر کی کھڑکی سے جرمن پارلیمنٹ کو دیکھتی ہوں اور اپنے آپ سے کہتی ہوں اینجلا تمہیں اس عمارت نے آئرن لیڈی بنایا‘ یہ جب تک مضبوطی سے کھڑی ہے تم بھی کھڑی ہو۔
جس دن یہ کم زور ہو جائے گی تم بھی اس دن کمزور ہو جاؤ گی۔ریٹائرمنٹ کے وقت اینجلا کے کل اثاثے ساڑھے گیارہ ملین یورو تھے اور یہ اس رقم میں برلن میں ڈھنگ کا کوئی مکان تک نہیں خریدا جاسکتا۔ لیکن یہ اس کے باوجود مطمئن کیوں ہیں؟ کیوں کہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ رقم دونوں میاں بیوی کے لیے کافی ہے۔
میں نے جب یہ حقائق پڑھنا اور کھوجنا شروع کیے تو میں نے اپنے آپ سے سوال کیا‘ یہ کون لوگ ہیں اور کیا یہ لوگ دوزخ میں چلے جائیں گے اور ہم ہوس کے پجاری اپنے ہی لوگوں کا خون چوسنے کے باوجود جنتی ہوں گے؟ میں نے یہ بھی سوچا‘ ہمارے رسولؐ انتہائی سادہ تھے اور اللہ نے ایمان داری‘ اخلاص اور ان تھک محنت کا حکم ہمیں دیا تھا لیکن محنتی یہ لوگ نکلے‘ اخلاص کے پیکر بھی یہ ہیں‘ ایمان دار بھی یہ اتنے ہیں کہ یہ حکمران ہونے کے باوجود کپڑے دھونے کی مشین بھی ہمسایوں سے پوچھ کر چلاتے ہیں اور یہ 16 سال کے اقتدار کے بعد خود ہی کرسی سے اٹھ بھی جاتے ہیں۔
یہ کون لوگ ہیں؟ کیا یہ لوگ عالم اسلام کی کھوئی ہوئی میراث کے اصل وارث نہیں ؟
حیران ہیں کہ ہم نے کوئی ایسا بانڑ یعنی کوشش نہیں کی جس سے ہم اپنی نشاط ثانیہ کو سنبھال پاتے بلکہ ہم نے تو وٹب ، مطلب ہے جا حمایت کے ذریعہ اپنا صرف وقار ہی نہیں بلکہ اعتبار بھی گنوا دیا ہے ، محترمہ مریکل کی مثال دی ہے کہ جو سادگی ،سچائی ، ایمانداری اور محنت و انصاف سے کام کر تے ہیں قدرت ہمیشہ عزت و تکریم اور ترقی انہیں ہی عطا فرماتی ہے ،،،،

Post Views: 28
Tags: column by riyaz bhatti
Previous Post

صبح پاکستان ۔۔ بلا مبالغہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر  ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق  نے شہریوں کی شکایات سنیں
قومی/ بین الاقوامی خبریں

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ملتان میں کھلی کچہری،چیئرپرسن وزیر اعلیٰ شکایات سیل صائمہ فاروق نے شہریوں کی شکایات سنیں

by webmaster
جون 14, 2026
0

لاہور{ صبح پا کستان} وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پروزیراعلی شکایات سیل کی ٹیم نے ضلع ملتان...

Read moreDetails
اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ بھی نہیں: بیرسٹر گوہر

جون 13, 2026
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون بروز بدھ شام 5 بجے اسلام آباد میں ہوگا

جون 10, 2026
کوئٹہ  ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

کوئٹہ ،تیزاب گردی، سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب پھینکنے والاملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ، خاتون ڈاکٹر شدید زخمی

جون 7, 2026
ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام  دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

ڈیرہ غازی خان ۔اتحاد بین المسلمین استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔ علماء کرام محراب و منبر سے امن، محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام دیں ۔مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

جون 4, 2026
ماں بولی کی محبت سے تو شاید ہی کوئی گریزاں ہو، یہ الگ بات کہ وقت کے ساتھ سبھی زبانوں میں مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہورہے ہیں اور ہر زبان ایک ملغوبہ بنتی جا رہی ہے ، جی چاہ رہا تھا کہ اپنے معززین کو سرائیکی کے دو لفظوں کی چاشنی سے محضوظ کریں تو ملاحظہ فرمائیں پہلا لفظ ، بانڑ۔ اس کے معنی ہیں کوشش کرنا، دوسرا لفظ ہے وٹب، جس کے معنی ہیں بے جا حمایت کرنا۔۔ ہم عالمی سطح سے لیکر مقامی سطح تک اپنی ماں بولی سے بہت زیادہ دور ہوئے جاتے ہیں ہم کیسے لوگ ہیں اغیار کی مصنوعات کے استعمال کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کو بھی نظر انداز کر ریے ہیں ہم کیسے لوگ ہیں ، چلئے آپ کو باوقار اور جدید دنیا کی ایک جھلک دکھاتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں؟ مجھے کبھی ملازم کی ضرورت ہی نہیں پڑی ہم دو میاں بیوی ہیں مل کر کام کرلیتے ہیں*20 سال سے نئے کپڑے نہیں بنائے میں جرمنی کی چانسلر ہوں فیشن گرل تو نہیں یورپ کی آئرن لیڈی سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی زندگی کی چند جھلکیاں مجھے چانسلر ہوتے ہوئے اپنے ذاتی گھر میں کبھی ملازم کی ضرورت ہی نہیں پڑی‘ ہم دو میاں بیوی ہیں‘ فلیٹ چھوٹا ہے‘ مل کر کام کر لیتے ہیں‘ کھانا میں خود بنا لیتی ہوں‘ میرا خاوند رات کو مشین میں کپڑے ڈال دیتا ہے‘ میں صبح انھیں استری کر لیتی ہوں‘ صفائی ہم دونوں مل کر کر لیتے ہیں چناں چہ ہمیں کبھی کک یا ملازم رکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی‘‘۔ یہ الفاظ 16 برس تک دنیا کی چوتھی بڑی معیشت جرمنی کی سربراہ رہنے والی خاتون اینجلا مرکل کے ہیں‘ یہ 2005سے 2021 تک جرمنی کی مسلسل چانسلر رہیں‘ یہ 9 سال تک فوربز میگزین کی موسٹ پاورفل لیڈی ‘ پورے یورپ اور فری ورلڈ کی لیڈر بھی رہیں۔ اینجلا مرکل 1954 میں ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں‘ والدین کے ساتھ مشرقی جرمنی گئیں۔ 1986 میں کوانٹم کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور ریسرچ سائنس دان کے طور پر کام شروع کر دیا۔ مشرقی جرمنی میں 1989 میں سیاسی بیداری کا عمل شروع ہوا تو یہ سیاست میں آئیں اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ مختلف حیثیتوں میں کام کرتی رہیں۔ 2002 میں اپوزیشن لیڈر بنیں‘۔گرہارڈ شنوڈر کو ہرا کر 2005میں جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر بن گئیں۔ یہ بھی کمال تھا لیکن یہ اتنا بڑا کمال نہیں تھا‘ کمال تو اس خاتون نے اس کے بعد کیے اور پھرکمالات کی لائن لگا دی۔ جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا۔ ملک میں امن‘ سکون اور استحکام آیا اور جرمنی کا معاشی سکہ پوری دنیا میں چلنے لگا‘ یہ مسلسل 16 سال چانسلر رہیں۔ مزید بھی رہ سکتی تھیں لیکن انھوں نے 2018 میں اعلان کر دیا ’’میں 2021کے الیکشنز میں حصہ نہیں لوں گی‘ میں سیاست سے ریٹائر ہو رہی ہوں‘‘ یہ اعلان عجیب تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ دنیا‘ یورپ اور جرمنی کی مشہور ترین سیاست دان ہیں‘ لوگ ان سے حقیقتاً محبت کرتے ہیں لہٰذا یہ اگر چاہتی تو مزید دس پندرہ سال اس عہدے پر رہ سکتی تھیں لیکن انھوں نے خود ہی اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا -یہ یقیناً کمال ہے لیکن ان کا اصل کمال ان کا سادہ لائف اسٹائل ہے۔ اینجلا مرکل نے 18سال پہلے برلن میں ایک فلیٹ خریدا تھا-یہ درمیانے سائز کا مڈل کلاس فلیٹ ہے یہ 18سال سے اپنے خاوند جوکم سیور (Joachim Sauer) کے ساتھ اسی فلیٹ میں رہائش پذیر ہے. خاوند یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر ہے- وہ کبھی لائم لائٹ میں نہیں آئے۔ روز بس پر یونیورسٹی جاتے ہیں اور اگر بیرون ملک سفر کرنا پڑے تو یہ سستی ایئر لائینزپر اکانومی کلاس میں ٹریول کرتے ہیں۔یہ دونوں میاں بیوی 23سال سے اکٹھا ناشتہ کرتے ہیں ناشتہ سادہ ہوتا ہے اور یہ دونوں مل کر بناتے ہیں۔ برتن بھی دونوں دھوتے ہیں اور اس کے بعد اینجلا مرکل چانسلر کی گاڑی میں آفس چلی جاتی تھیں جب کہ خاوند بس یا پھر چھوٹی ذاتی گاڑی میں یونیورسٹی روانہ ہوجاتے۔ اینجلا مرکل نے 20سال سے نئے قیمتی کپڑے نہیں خریدے وارڈروب میں تیس پرانی جیکٹس‘ کوٹس اور لانگ کورٹس ہیں‘ اس کے پاس ٹراؤزر بھی صرف سفید رنگ کے ہیں اور یہ دنیا کو 18سال سے انھی وائٹ ٹراؤزرز میں نظر آ تی رہیں‘۔ان کے کوٹ اور جیکٹس بھی تبدیل نہیں ہوئیں‘ ان کے پاس صرف ایک نیکلس ہے دنیا نے آج تک ان کے گلے میں صرف یہی نیکلس دیکھا‘ ہیئراسٹائل بھی ایک ہی رہا‘ یہ کبھی بال بنوانے کے لیے بھی سیلون نہیں گئیں تھیں۔ صرف تین شوق ہیں‘ ہائیکنگ‘ فٹ بال کے میچ اور کھانا بنانا‘ اینجلا پروفیشنل شیف ہے‘ اینجلا مرکل نے اقتدار کے 16 برسوں میں روزانہ 20 گھنٹے کام کیا‘ یہ صرف چار گھنٹے سوتی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ میں مزاج کے لحاظ سے اونٹ ہوں‘ میں اپنی نیند اسٹور کر لیتی ہوں‘ چھٹی کا دن آتا ہے تو میں لمبی نیند لے لیتی ہوں جب کہ عام دنوں میں میری نیند صرف چار گھنٹے ہوتی ہے ۔یہ اپنے اسٹاف کو ہر وقت دستیاب رہتیں۔ اسے سحری کے وقت بھی فون کیا جاتا تھا تو یہ فون خود اٹھاتی تھی اور اس کی آواز میں کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ لوگ ان کے یکساں ہیئراسٹائل‘ ایک جیسے کپڑے اور ایک نیکلس کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ ہنس کر جواب دیتی ہے ’’میں جرمنی کی چانسلر ہوں‘ فیشن گرل نہیں‘‘ یہ 2008 میں ناروے میں اپنے وزیراعظم کے ساتھ ایک فیشن شو میں مدعو تھیں لیکن پورے ہال میں سب سے سستے کپڑے انہوں نے پہن رکھے تھے ان کے سوٹ کی مالیت صرف پانچ یورو تھی اور وہ بھی چار سال پرانا تھا جب کہ ویٹرز تک کے ڈریس مہنگے اور ماڈرن تھے مگر اس سستے سوٹ کے باوجود پورے ہال میں آئرن لیڈی صرف ایک ہی تھی اور اس کا نام تھا اینجلا مرکل۔ یہ کپڑوں پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیشہ کہتی ہے ’’مرد عورتوں کو صرف اور صرف فیشن سمبل سمجھتے ہیں۔ یہ اگر خود چھ چھ ماہ ایک ہی شرٹ‘ پتلون اور کوٹ پہنتے رہیں انھیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی لیکن یہ خواتین کو ہمیشہ نئے اور مہنگے کپڑوں میں دیکھنا چاہتے ہیں‘‘ اس کا کہنا ہے ’’ہم اپنے گندے کپڑے رات کو مشین میں ڈالتے ہیں کیوں کہ رات کے وقت بجلی بھی زیادہ ہوتی ہے اور سستی بھی تاہم مجھے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے مشین کی وجہ سے ہمارے ہمسایوں کی نیند خراب نہ ہوتی ہو لہٰذا میں ایک دن ان کے پاس گئی اور ان سے رات کے وقت مشین چلانے کی باقاعدہ اجازت لی۔ جرمنی کے دورے کے دوران اینجلا مرکل نے اس وقت یوسف رضا گیلانی سے کہا تھا ’’جب تک کسی ملک کی پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوتی اس وقت تک اس کے حکمران مضبوط نہیں ہوتے‘ میں روز اپنے دفتر کی کھڑکی سے جرمن پارلیمنٹ کو دیکھتی ہوں اور اپنے آپ سے کہتی ہوں اینجلا تمہیں اس عمارت نے آئرن لیڈی بنایا‘ یہ جب تک مضبوطی سے کھڑی ہے تم بھی کھڑی ہو۔ جس دن یہ کم زور ہو جائے گی تم بھی اس دن کمزور ہو جاؤ گی۔ریٹائرمنٹ کے وقت اینجلا کے کل اثاثے ساڑھے گیارہ ملین یورو تھے اور یہ اس رقم میں برلن میں ڈھنگ کا کوئی مکان تک نہیں خریدا جاسکتا۔ لیکن یہ اس کے باوجود مطمئن کیوں ہیں؟ کیوں کہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ رقم دونوں میاں بیوی کے لیے کافی ہے۔ میں نے جب یہ حقائق پڑھنا اور کھوجنا شروع کیے تو میں نے اپنے آپ سے سوال کیا‘ یہ کون لوگ ہیں اور کیا یہ لوگ دوزخ میں چلے جائیں گے اور ہم ہوس کے پجاری اپنے ہی لوگوں کا خون چوسنے کے باوجود جنتی ہوں گے؟ میں نے یہ بھی سوچا‘ ہمارے رسولؐ انتہائی سادہ تھے اور اللہ نے ایمان داری‘ اخلاص اور ان تھک محنت کا حکم ہمیں دیا تھا لیکن محنتی یہ لوگ نکلے‘ اخلاص کے پیکر بھی یہ ہیں‘ ایمان دار بھی یہ اتنے ہیں کہ یہ حکمران ہونے کے باوجود کپڑے دھونے کی مشین بھی ہمسایوں سے پوچھ کر چلاتے ہیں اور یہ 16 سال کے اقتدار کے بعد خود ہی کرسی سے اٹھ بھی جاتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں؟ کیا یہ لوگ عالم اسلام کی کھوئی ہوئی میراث کے اصل وارث نہیں ؟ حیران ہیں کہ ہم نے کوئی ایسا بانڑ یعنی کوشش نہیں کی جس سے ہم اپنی نشاط ثانیہ کو سنبھال پاتے بلکہ ہم نے تو وٹب ، مطلب ہے جا حمایت کے ذریعہ اپنا صرف وقار ہی نہیں بلکہ اعتبار بھی گنوا دیا ہے ، محترمہ مریکل کی مثال دی ہے کہ جو سادگی ،سچائی ، ایمانداری اور محنت و انصاف سے کام کر تے ہیں قدرت ہمیشہ عزت و تکریم اور ترقی انہیں ہی عطا فرماتی ہے ،،،،
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • ہمارے بارے
    • لیہ کی تاریخ
  • خبریں
    • صفحہ اول
    • جنوبی پنجاب
      • لیہ نیوز
      • ڈیرہ غازی خان
      • مظفر گڑھ
      • راجن پور
      • ملتان
      • بہاول پور
      • خانیوال
      • رحیم یار خان
    • قومی/ بین الاقوامی خبریں
  • نیوز بلٹن
  • کالم
    • شب و روز زندگی
  • شاعری
  • وڈیوز

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.