پاکستان پاکستانیت ،شب و روز زندگی کے لیے ادب سماج انسانیت ایوارڈ
محترم صدرِ عالی وقار اور معزز حاضرینِ محفل! السلام علیکم! کہتے ہیں کہ قلم سے انقلاب آتا ہے، قلم سے ...
محترم صدرِ عالی وقار اور معزز حاضرینِ محفل! السلام علیکم! کہتے ہیں کہ قلم سے انقلاب آتا ہے، قلم سے ...
اسلام آباد {پ ر }۔بانی و صدرنشین ادب سماج انسانیت فورم پاکستان شہزاد اُفق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ...
مسلح افواج آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گی، صدر ممنون حسین اسلام آباد (ما نیٹرننگ ...
حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں افغانستان مدد کرے: راحیل شریف اسلام آباد (مانیٹرننگ ڈیسک )پاکستانی فوج کے ...
لاہور {صبح پا کستان }وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ...
Read moreDetails
خلوصِ دل سے جو روشن کیے ہیں تم نے چراغ
انہی چراغوں سے اب فکرِ نو کی بستی ہے
حاضرینِ گرامی!
جب ہم شہزاد افق صاحب کی بات کرتے ہیں، جن کا تعلق لیہ کے نواحی گاؤں جمال چھپری سے ہے، تو ہمیں فخر ہوتا ہے کہ انہوں نے علم و ادب کے میدان میں اپنے وسیب کا نام روشن کیا۔ یہ دھرتی کتنی زرخیز ہے کہ اسلام آباد کے میڈیا اور صحافت کے افق پر چمکنے والے ہمارے کئی قابلِ فخر ستارے اسی مٹی کا اثاثہ ہیں۔ چاہے وہ: صحافت کا معتبر نام رؤف کلاسرا صاحب ہوں،
تحقیقاتی صحافت کے بے باک صحافی زاہد گشکوری صاحب ہوں،
یا میڈیا انڈسٹری میں نمایاں مقام رکھنے والے صدیق جان , احمد اعجاز ۔علی شیر گلشن , فخر درانی , یہ تمام شخصیات اسلام آباد کے میڈیا میں اپنا گراں قدر کردار ادا کر رہی ہیں اور یہ سب ہمارے لیہ وسیب کا قابلِ فخر چہرہ ہیں۔ شہزاد افق صاحب نے اسی مٹی کی لاج رکھتے ہوئے اس تنظیم کے ذریعے یہ کاروان جاری رکھا ہوا ہے، جہاں ہر سال قلم کاروں کو ایوارڈز بھی دیے جاتے ہیں اور اس تربیتی نشست جیسے پروگرامز کے ذریعے نئی نسل کے لکھاریوں کی فکری آبیاری کی جاتی ہے۔
معزز حاضرینِ محفل!
آج جب میں یہاں کھڑا ہوں، تو یادوں کے دریچوں سے مجھے سال 1993 کا وہ دن کبھی نہیں بھولتا، جب میں نے اپنے دوستوں کے ہمراہ پاکستان اور پاکستانیت کے ناطے پارلیمنٹ کے سامنے ایک تاریخی احتجاج کیا گرفتار ہوے ۔ وہ ایک ایسا کٹھن دور تھا جب چند علاقائی گروہ لسانی نفرت اور تعصب کو بنیاد بنا کر انتشار کی سیاست کر رہے تھے، اور یہاں تک کہ ہمارے مقدس قومی جھنڈے جلائے جا رہے تھے۔ اس وقت ہم نے حب الوطنی کا علم بلند کیا اور ثابت کیا کہ پاکستان کی مٹی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
اسی ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں آج آپ کے سامنے یہ بات پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں اپنے تمام تر فکری، نظریاتی اور سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانیت کی بات کرنا ہو گی۔ کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں! ہماری آزادی، ہمارا وقار، ہماری انا اور ہماری عزت، سب کچھ اسی وطنِ عزیز پاکستان سے جڑا ہے۔ اس لیے قلم کاروں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تحریروں سے قوم کو جوڑیں، توڑیں نہیں۔
آخر میں، میں ایک بار پھر شہزاد افق صاحب اور ان کی تمام ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس خوبصورت محفل کا حصہ بنایا۔ "ادب، سماج اور انسانیت" جیسی تنظیمیں اور ہمارے یہ مایہ ناز ادیب شاعر صحافی دراصل پاکستان کا وہ بالغ نظر روشن، پڑھا لکھا اور پرامن چہرہ ہیں جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد!
(ادب سماج انسانیت فورم پاکستان کے زیر اہتمام اکادمی ادبیات اسلام آباد میں منعقدہ تربیتی نشست سے خطاب)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" شب و روزِ زندگی"
کے لئے ایک اور بڑا اعزاز:
ادب، سماج اور انسانیت ایوارڈ 2026 🌹
"شب و روزِ زندگی" کو باوقار "ادب سماج انسانیت ایوارڈ 27 -2026" سے نوازا گیا ہے۔یہ معزز ایوارڈ معروف شاعرادیب محترم محمد مظہر نیازی اور نوجوان شاعر عمران عامی صاحب نے مصنف انجم صحرائی کو پیش کیا۔
سماجی، ادبی اور انسانیت فورم کے روحِ رواں محترم شہزاد افق نے تقریب کی شاندار میزبانی کی اور محفل کو رونق بخشی۔ پُروقار تقریب اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد کے ہال میں منعقد کی گئی۔تقریب کی صدارت معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر روش ندیم نے کی جبکہ مہمان خصوصی انجم صحرائی اور مہمان ا عزاز ماہر تعلیم ڈاکٹر عمران اظفر اور پروفیسر نوید ملک تھے