چہء مگوئیاں ۔۔۔۔ عفت
چہء مگوئیاں عفت مرشد نے بارہا مجھے ایک ہی نصیحت کی کہ عام لوگوں کی بات کرو عام لوگوں کی...
چہء مگوئیاں عفت مرشد نے بارہا مجھے ایک ہی نصیحت کی کہ عام لوگوں کی بات کرو عام لوگوں کی...
پنجاب میں سکولز یکم فروری کو کھلیں گے ۔ رانا مشہود لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) پنجاب میں تمام سکولز یکم...
تعلیمی اداروں میں فول پروف سیکورٹی انتظا ما ت کے لئے سیکو رٹی گارڈز کی عملی تربیت لیہ (صبح پا...
پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسو سی ایشن نےچارٹر آف ڈیمانڈ سیکریٹری ایجو کیشن پنجاب کو پیش کر دیا لیہ...
کرو ڑ فتح پور روڈ ایکسیڈنٹ ،مرحومین کے نمازے جنازہ آج فتح پور میں ادا کئے جائیں گئے کروڑ لعل...
کروڑ فتح پور روڈ پر ٹریکٹر ٹرالی اور کار میں تصادم تین افراد جان بحق کروڑ لعل عیسن (صبح پا...
کا لجز میں فول پروف سیکورٹی انتظا ما ت , اعلی سطحی اجلاس ،ڈائریکٹر کا لجز ڈاکٹر الطا ف حسین...
حکو مت پنجا ب 13لا کھ پچاس ہزار روپے کی سبسڈی سے 30لیزلینڈ لیولر فراہم کر رہی ہے ، ای...
پاکستان تحریک انصاف نظریہ کا نام ہے ملک کے فرسودہ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ۔ با بر...
ڈاکٹر سید مختیار حسین شاہ کی بطورڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب لیہ کی عوام کے لئے با عث فخر ہے کوٹ...
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetails
مرشد نے بارہا مجھے ایک ہی نصیحت کی کہ عام لوگوں کی بات کرو عام لوگوں کی بات لکھو ۔وہ خود بھی ساری عمر عوامی رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے رہے اور کر رہے ہیں ۔ہم اہلِ قلم کا ہتھیار قلم ہی ہے جو لوگوں کے حال کو بزبانِ قلم صفحہ قرطاس پہ بکھیرتا ہے ۔مگر نہ ملک کی تقدیر بدلتی نظر آئی نہ غریب عوام کی ۔ اب ملکی حالات اس نہج پہ پہنچ گئے ہیں کہ ہمارے
وہ چوک پہ کھڑا تھا اس نے اپنے گلے میں ڈوری کے ساتھ ایک بینر سا لٹکا رکھا تھا جس پہ لکھا تھا ڈگریاں برائے فروخت۔اور نیچے (،ایف ۔ایس ۔سی۔،بی ایس سی۔ایم ایس سی۔ایم اے ۔ایم فل ،پی،ایچ ڈی۔)قطار میں لکھی ہوئی تھیں ۔اور ہر گذرنے والا اسے دیکھتے ہوئے گذر رہا تھا کسی کے لبوں پہ تحریر پڑھ کے مسکراہٹ بکھر جاتی اور کوئی افسوس ذدہ نظر ڈال کر گذر جاتا ۔اسی اثناء میں کسی وی، آپی کی آمد کا غلغلہ مچا اور پولیس آ موجود ہوئی ٹریفک روک دی گئی ۔اور شاہراہ کو بند کر دیا گیا اس پہ یہ قیامت مچی کہ پولیس والے اس ملگجے لباس والے نوجوان کو مشکوک قرار دے کر بری طرح پیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے نوجوان کے چہرے پہ بے بسی کی تحریررقم تھی کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہ تھا وہ کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا تو پولیس والے مکوں اور ٹھڈوں سے اس کی تواضع کرنے لگتے۔نوجوان کے بہتے آنسو اس کی بے بسی کے غماز تھے جو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے میرا قصور غریب پاکستانی ہونا اور اس سے بڑھ کے بیروزگار اعلی تعلیم یافتہ ہونا ہے ۔اگر میں بھی مڈل پاس ہوتا اور الیکشن جیتا ہوتا تو آج مجھے بھی پروٹوکول مل رہا ہوتا ۔اگلے دن اخبارات چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔ ایک دہشت گرد پولیس مقابلے میں مارا گیا ۔
تعلیمی ادارے سردیوں کی چھٹیوں وجہ سے بند ہوگئے اور یہ خبر رات گئے نشر کی گئی۔لیکن قیامت کی نظر رکھنے والے تاڑ گئے کہ معاملہ کچھ اور ہے ۔اور اگلے دن ہی صورتحال سامنے آگئی ۔کئی ادارے سیکیورٹی کے نامناسب انتظام کی وجہ سے سیل کر دئیے گئے ۔ایک سوال میرے ذہن میں بار بار اٹھتا ہے کہ کیا ہر بات کی ذمہ داری فوج پہ ہے ؟کیا ہمارا کردار اس میں محض تماشائی بنے رہنے کا ہے؟ہماری نسلِ نو خوف کا شکار ہے تدریسی ادارے دشمن کے اہداف ہیں اور آسان ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں ۔شاید دشمن ہماری کمزوری بھانپ گیا ہے ،لیکن اب ان حالات کو سمجھتے ہوئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچے بچے کو دشمن سے نمٹنے کی تربیت دیں اور ہر شخص ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرے۔بالخصوص ہمارے نوجوان تو لازمی شہری دفاع کی ٹریننگ لیں تاکہ وہ اپنا اور دوسروں کا تحفظ کر سکیں ۔مگر ہمارے ملک میں یہ بدقسمتی عام ہے کہ اس قسم کی کام کی باتوں پہ توجہ دینے کے بجائے ایک دوسرے کے بیانات اور ان کے جوابات اور الزام تراشیوں کی سیاست سے فرصت نہیں ۔اور اگر ایسے پروگرام شروع ہو جاتے تو ان کو مکمل ہونے سے پہلے کھوہ کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔بحر طور مجموعی طور پہ ہمیں ہمیں خود انتظامی انتظامات کرنے چاہیے تاکہ ہم اپنی افواج کے کندھے کا بوجھ بانٹ سکیں اور اپنا حق ادا کر سکیں ۔اور یہ نہ صرف وقت کا تقاضا بلکہ ہماری اہم ضرورت ہے ۔