گرم مرغی اور ٹھنڈی مرغی …. تحریر عفت
گرم مرغی اور ٹھنڈی مرغی تحریر عفت دو سموسے دینا ،چٹنی زرا ذیادہ ہو ۔ایک بڑی گول گپے کی پلیٹ...
گرم مرغی اور ٹھنڈی مرغی تحریر عفت دو سموسے دینا ،چٹنی زرا ذیادہ ہو ۔ایک بڑی گول گپے کی پلیٹ...
ڈی پی او لیہ غا زی محمد صلا ح الدین کے تبا دلہ کے مو قع پر الو دا عی...
دینی مدا ر س کے طا لب علمو ں کے در میان مقا بلو ں پر تقریب تقسیم انعا ما...
بچے کو حفاظتی ٹیکہ لگانے سے انکار ،والد کے تکرار پر ہسپتال کے عملہ نے دھکے دیکر نکال دیا لیہ(صبح...
پاکستان عوامی تحریک کی درخواست پر ڈی سی او نے مولانا خادم رضوی کے لیہ آمد پر پا بندی عا...
قو م دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کے ساتھ ہے ۔ رضوان بیگ چوک اعظم (صبح پا کستان )کالم...
پانچ سال قبل رورل ہیلتھ سنٹر کے لئے تعمیر کی گئی گئی کروڑوں روپے کی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار...
نسل نو کی اخلاقی روحانی علمی تربیت کی بدولت ہی پاکستان کو باکردارقیادت میسر آ سکتی ہے ، پروفیسر ڈاکٹر...
پنجاب حکومت نے گذشتہ چھ سالوں سے ترقیاتی تعلیمی بجٹ جاری نہیں کیا ۔ سید نیاز احمد گیلانی لیہ(صبح پا...
بریکنگ نیوز لیہ ۔ راہزنی کے واقعہ میں زخمی ہو نے والے محکمہ ہاؤسنگ کے سب انجینئر ملک محمد امجد...
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetails
دو سموسے دینا ،چٹنی زرا ذیادہ ہو ۔ایک بڑی گول گپے کی پلیٹ ،چار شوارمے ،چکن برگر،آلو کی کٹلس۔دو کپ چائے ملائی مار کے ۔یہ سب وہ آوازیں ہیں جو ہم صبح شام سنتے ہیں ۔اور سڑک کے کنارے لگی خوردونوش کی ان دکانوں سے لذت و کام و دہن کا کام لیتے ہیں ۔ان اشیاء کی خوشبو ہمیں
چسکے لینے میں ہماری قوم اپنی مثال آپ ہے ۔پرویز مشرف صاحب علاج کے غرض دبئی روانہ ہوئے اب میڈیا ساری رات ان کے دروازے پہ پہرہ دیتی رہی کہ صاحب کب نکلیں اور کب وہ دیکھیں آیا ان کی بیماری حقیقی ہے یا ڈرامہ اب ہوا یہ کہ سابق جنرل صاحب بھی بڑے تیز نکلے عقبی دروازے سے ائیر پورٹ پہنچ گئے اور میڈیا بھوسے میں سوئی تلاش کرتا رہ گیا ۔اب تبصرے کے سموسے کی چٹنی کا حال دیکھیں کہ ناپا جا رہا ہے کہ اس میں دہی کتنی ہے ہری مرچیں کتنی اور پانی کتنا ؟ یعنی کیا وہ اپنے قدموں پہ چل کے گئے؟ آیا ان کی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی؟ان کے چہرے پہ تکلیف کے آثار تھے ؟ جہاز کی سیڑھیاں کیسے چڑھے ؟ اب اس ایک ایک
پوائنٹ پہ تبصرہ سارا دن اس پہ لگا دیا جائے اس لیے کہ ویلی قوم ہے سو کسی کام پہ ہی لگ جائے ۔اب مشرف صاحب کو اس صورتحال میں مزہ تو آنا تھا آخر چوہے بلی کا کھیل تھا سو انہوں نے سفر میوزک انجوائے کرتے اور مسکراتے مست گذارا اب اس پہ بھی اعتراض کہ اگر وہ علیل ہیں تو مسکراہٹ کیوں کرب کیوں نہیں ۔
گذشتہ دنوں ٹی وی پہ ایک پروگرام نظر سے گذرا اس میں دو لفظ استعمال ہوئے گرم مرغی اور ٹھنڈی مرغی ۔کمپئیر نے وضاحت طلب کی تو جواب ملا جب مرغیاں ایک شہر سے دوسرے میں سپلائی کی جاتی ہے تو جو مرغیاں راستے کی صعوبتوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے اللہ کو پیاری ہو جاتیں وہ ٹھنڈی مرغی کہلاتی اس کا ریٹ بہت کم ہو جاتا لہذا وہ ہمیں چکن برگر،شوارمے، چکن سموسے،اور چکن کے جو ،جو لوازمات ہم شوق سے کھاتے اس میں ڈال کر کھلا دی جاتی اور ہم چٹخارے لے کے لذت و کام و دہن میں اضافہ کرتے ۔حرام کا چسکہ ایسا لگا کہ پہچان ہی نہ ہوئی کہ گائے کھائی یا قصائی بادشاہ نے گدھا کھلا دیا ۔اس سے اندازہ لگائیں کہ کس طرح ہم حلال حرام کا فرق فراموش کر گئے اور اس پہ ہم اپنے دکھوں کا پنڈورا کھول کے بیٹھ جاتے افسوس کہ ہمارے اپنے اعمال ہی ایسے ہیں ۔جب اپنے ہی دامن میں چھید ہوں تو دینے والے کے ہاتھ کا کیاقصور۔۔ ؟