شب و رو زند گی قسط 55 … انجم صحرائی
شب و رو زند گی قسط 55 انجم صحرائی جن دنوں لیہ کوٹ سلطان روڈ کچی ہوا کرتی تھی ان...
شب و رو زند گی قسط 55 انجم صحرائی جن دنوں لیہ کوٹ سلطان روڈ کچی ہوا کرتی تھی ان...
ٹی ایم اے لیہ کے مالیاتی بحران کا خدشہ ، آئندہ ماہ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی سے محروم...
وزیر اعلی کے احکامات، ہسپتالوں کے میڈیس سٹور کار ریکارڈ تحویل میں لے لیا گیا لیہ(صبح پا کستان)ڈی جی ہیلتھ...
لیگی دادگیری خضرکلاسرا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر قیصر مشتاق صاحب کیساتھ جو تماشہ صوبائی وزیر ملک اقبال...
جنو بی پنجا ب انوٹیشن بیڈ منٹن ٹورنا منٹ کا افتتا ح لیہ (صبح پا کستان)ضلع حکو مت لیہ کھیلو...
ملتان کور کی طرف سے چناب مریان بوٹ کلب اور سیلنگ ٹریننگ سکول کا افتتاح ملتان (صبح پا کستان )کمانڈر...
گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بستی سرائی میں محفل میلاد کی تقریب کا انعقاد کوٹ سلطان (صبح پا کستان ) پیغمبر...
سپرنگ فیسٹیول 2016 ،بی زیڈ یو بہادر سب کیمپس میں فلاور اینڈ پیٹ شو لیہ(صبح پا کستان)سپرنگ فیسٹیول 2016 بی...
حقوقِ مرداں بل تحریر:انعام الحق اُوپرکی سطر میں دائیں ’’بسم اللہ‘‘ درمیان میں’’ سرِراہ ‘‘اوربائیں’’ محمد رسول اللہ‘‘لکھا تھا جبکہ...
نقطہ نظر ۔۔۔ عادت چھوڑی نہیں جاتی راحت عائشہ . کراچی۔ "ایک زمانہ تھا کہ کراچی اور سندھ میں جب...
علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات 8فروری کو ہوگی، تحریک تحفظ آئین نے کال دے...
Read moreDetails
جن دنوں لیہ کوٹ سلطان روڈ کچی ہوا کرتی تھی ان دنوں لو گوں کی اکثریت ریل گاڑی سے سفر کیا کرتی تھی اس دور کو آپ ریلوے کا دور کہہ سکتے ہیں ریلوے سٹیشن آ باد اور صاف ستھرے اور پلیٹ فارم پر پینے کا ٹھنڈا پا نی بھی دستیاب ہوا کرتا تھا مجھے یاد ہے کہ اس زما نے میں ریلوے سٹیشن کے اسٹیشن ما سٹر کی اپنی شان ہوا کرتی تھی ریلوے کے با بو سے دوستی اور تعلق علا قہ میں معتبر ہو نے نشا نی سمجھا جاتا تھا کوٹ سلطان اسٹیشن کے باہر شہر جا نے والے کچے راستے پر ایک چھپر ہو ٹل ہوا کرتا تھا مجھے اس ہو ٹل کے سنجیدہ سے بزرگ مالک کا نام تو یاد نہیں لیکن
اور لا ہور سے کوٹ سلطان شفٹ ہو ئے تھے میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اشتیاق خان میرے سگے ما موں تو نہیں تھے لیکن ما موں کی اہلیہ اور اماں میں بڑی محبت تھی اسی لئے ہماران سے بڑا گہرا گھریلو تعلق تھا اگر میں کہوں کہ میرا بچپن ما موں کے گھر ہی گذرا ہے تو غلط نہیں ہو گا خیر اسی قر بت کے سبب مرزا محبوب کی فیملی اور ان کے بچوں کے ساتھ بھی ہمارا احترام اور پیار کا تعلق بن گیا ۔ مرازا محبوب لا ہور سے آ ئے مگر بہت کم وقت میں انہوں نے کوٹ سلطان کے شوشل اور سما جی حلقوں میں اپنی جگہ بنا لی ۔مرزا محبوب کے چار بیٹے طارق ، ظفر ، با بر اور محمود تھے طارق اور ظفر میرے ہم عمر اور ہم عصر تھے جب کہ با بر اور محمود مجھ سے جو نیئر ۔آج کل مرازا محبوب اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ میں رہتے ہیں پا کستانی نژاد با کسر عامر خان کی اہلیہ فریال شو کت مخدوم مرزا محبوب کی نواسی ہیں ۔
کوٹ سلطان میں بند کے سے ذرا پہلے مرزا صاحب کی ایک آ ٹے کی چکی تھی آ ٹے کی اس چکی پر مجھے بھی چند مہینے نو کری کرنے کا مو قع ملا میں ان دنوں سا تویں یا آ ٹھویں کلاس میں پڑ ھتا تھا جب مجھے چکی آ شنا ئی ہو ئی ۔ چکی پر کام کرنے والے نو جوان مستری کا نام سعید تھا اس زما نے میں نہ تو بجلی تھی اور نہ ہی چا ئینہ چکیوں اور پیٹر انجنوں کا رواج آ یا تھا پتھر کے دو بڑے بڑے پا ٹوں سے بنی آ ٹے کی چکی چلا نے کے لئے بڑی ہارس پاور کے ڈیزل انجن استعمال کئے جاتے تھے ۔ایک دن جب سعید ایک اور آ دمی کے ساتھ مل کر انجن سٹارٹ کر کے با ہر گندم پیسنے میں مصروف تھا اور میں اندر انجن کا تیل پا نی چیک کر رہا تھا کہ ایک شخص جو دیہا توں میں برتنوں کی پھیری کا کام کرتا تھا انجن روم میں داخل ہوا اور سلام کر کے چلتے انجن کو دیکھ کرکہا " اچھا تو یہ انجن ایسے چلتا ہے" ابھی اس کی زبان سے یہ جملہ نکلا ہی تھا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور انجن میں چلنے والی کرینک دو ٹکڑے ہو گئی ۔
ہو سکتا ہے کہ آپ بھی میری طرح بد نظری بارے ابہام کا شکار ہوں مگر ایک مکتب فکر اس بارے بہت سنجیدہ ہے میں نے تو اس واقعہ کو کو ئی نام نہیں دیا میرے نزدیک ایک اتفاق تھا جو ہو گیا لیکن سعید سمیت بہت سے لو گوں نے اسے بد نظری قرار دیا سعید کا مو قف تھا کہ بد نظری ایک حقیقت ہے اس نے کہا کہ ما ئیں بچوں کی بد نظری کا علاج سرخ مر چیں جلا کر کرتی ہیں مر چوں کو اگر عام حالات میں آگ میں جلا یا جائے تو جلنے والی مر چوں کی دھسک نا قا بل برداشت ہو تی ہے لیکن جب وہی سرخ مر چیں ما ئیں اپنے معصوم بچوں کی نظر اتارنے کے لئے جلاتی ہیں تو دھسک کا نام و نشان تک نہیں ہو تا کیوں ؟ سعید کی یہ بات سن کر میں نے بھی سو چا کہ بات تو ہے سو چنے کی ۔
مرزا محبوب کے ایک اور بھا ئی ہیں مرزا ایوب ۔ ہمارے بچپن کے دنوں میں وہ سعودی عرب ہوا کرتے تھے بہت محنت کی بہت کما یا سنا ہے کہ آج کل لا ہور میں ہیں اور حالات کے مدو جزر کا شکار ہیں ۔
بد نصیبی کا تو قائل نہ تھا لیکن میں نے
برسات میں جلتے ہو ئے گھر دیکھے ہیں
میری شادی 1980میں ہو ئی اور ہم 1987 میں لیہ شفٹ ہو ئے اس وقت میرے بیٹے نعمان اور فیضان پرائمری اسکول نمبر 2 کی ابتدائی کلاسوں میں زیر تعلیم تھے ما سٹر غلام حسن اسکول کے ہیڈ ما سٹر تھے ، غلام حسن منجوٹھہ میرے بھی استاد تھے اور میرے بچوں کے پہلے استاد بھی یہی بنے کوٹ سلطان میں حبیب کتاب گھر اور حفیظ کتاب گھر کے نام سے دو کتابوںؓ کی دکا نیں تھیں میں اپنے بچوں کی کتا بیں کا پیاں اکثر انہی سے خریدا کرتا تھا نقد بہت کم ادھار زیادہ ۔ یہ دو نوں بھا ئی میرا بڑا لحاظ کرتے اور کبھی بھی نجھے ما یوس نہ کرتے ۔ جب نعمان اور فیضان نے اسکول جانا شروع کیا تو مجھے پتہ چلا کہ بہت سے بچے ایسے ہو تے ہیں جن کے پاس سلیبس کی کتا بیں نہیں ہو تیں یا کم ہو تی ہیں بعض کی یو نیفارم بہت خستہ حا لت میں ہو تی ہے یہ سب میری کہا نی تھی میں ایسے حالات سے گزرا ہوا تھا سو تب میں نے سو چا کہ اگر میں اپنے بچوں کے لئے کتابوں اور کا پیوں اور یو نیفارم کے لئے ادھار کر سکتا ہوں تو میں اسکول کے دوسرے بچوں کے لئے کیوں ادھار نہیں کر سکتا تو میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا میں جہاں اپنے بچوں کے لئے بستے خریدتا وہاں ایسے بچوں کے لئے جن کے والدین غریب ہو تے ان کے لئے بھی کتا بیں ، کا پیاں اور یو نیفارم خرید لیتا کوٹ سلطان پو لیس اسٹیشن میں ان دنوں چو ہدری مختیار ایس ایچ او تھے ہم نے ایک بار ایک تقریب میں ان کے ہا تھوں سے بہت سے طلبا بچوں میں کتا بیں کا پیاں اور یو نیفارم تقسیم کرا ئیں اس تقریب کی رپورٹ روزنا مہ نوائے وقت میں بھی شا ئع ہو ئی ۔ہم جب تک کوٹ سلطان رہے یہ سلسلہ چلتا رہا میری کو شش ہو تی کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کی خد مت کر سکیں مجھے یقین ہے کہاس وقت کتا بیں کا پیاں لینے والے بہت سے بچے یقیناًاپنی عملی زند گی میں خا صے کا میاب رہے ہوں گے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ میرے اس چھوٹے سے عمل نے میرے بچوں کی زند گی پر بڑا مثبت اثر ڈالا میرے سارے بچوں نے بظا ہر انتہا ئی نا مسا عد حالات میں اعلی تعلیم حا صل کی ۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ میرے بچے لیہ پبلک اسکول جیسے ادارہ میں قیا مت کی ادھار پر پڑ ھتے رہے اور کبھی واجبات کی بر وقت ادائیگی نہ ہو نے کے سبب نام خارج نہیں ہوا ۔ مجھ سے کبھی کسی استاواور پرو فیسر نے بچوں کی ٹیو شن فیس طلب نہیں کی ۔مجھے اپنے بچوں کی ملاز مت کے لئے زمین کے سیاسی اور با ختیار نا خداؤں کے سا منے اپنا دامن نہیں پھیلا نا پڑا ان سے شفارش کی بھیک نہیں ما نگنا پڑی ۔۔
یہ کو ئی میرا کمال ہے؟ ۔۔ نہیں قارئین محترم یہ میرا کمال نہیں۔۔۔ یہ کمال ہے اس خالق کا جو اپنے کمزور اور محتاج بندوں کی طرف سے بندوں پر کئے جا نے والے احسان کو اپنے لئے قرض حسنہ قرار دیتا ہے کھرا سچ یہی ہے کہ اپنے دامن کو اللہ کے بندوں کے لئے وسیع کر لو اللہ تمہارا دامن بھر دے گا ۔اپنے رزق میں اللہ کے بندوں کو حصہ دار بنا لو تمہاری تنگ دستی دور ہو جا ئے گی ۔ دوسروں کی خو شیوں کی خیرات ما نگو تمہارا آ نگن میں خو شیوں کی بارات اتر آ ئے گی ۔ با قی اگلی قسط میں