لیہ میں ملک الموت کے ڈیرے بے حس حکمران و افسران
لیہ میں ملک الموت کے ڈیرے بے حس حکمران و افسران تحریر:عبدالرحمن فریدی Abdul Rehman Faridi آج سنجیدگی اعتدال،توازن،صداقت،مقصدیت...
لیہ میں ملک الموت کے ڈیرے بے حس حکمران و افسران تحریر:عبدالرحمن فریدی Abdul Rehman Faridi آج سنجیدگی اعتدال،توازن،صداقت،مقصدیت...
زہریلی مٹھا ئی سے جاں بحق ہو نے والے ایک ہی خاندان کے13 تیرہ افراد کے ایصال ثواب کیلئے قل...
Breaking News سانحہ چک 105 . وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کا متوقع دورہ لیہ ضلعی حکام کی...
حکومت پنجاب اور منتخب عوامی نما ئندے زہریلی مٹھائی سے متاثرہ افراد و جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے...
وزیر اعظم پاکستان کی بلاسود قرضہ سیکیم۔ڈیڑھ سو مستحقین میں چیک تقسیم کئے گئے zahid wander لیہ(صبح پا کستان) عوامی...
مٹھائی کھا کر مرنے والےاور ہماری بے حسی تحریر محمد عمر شاکر مرنے والوں پر سیاست یا صحافت نہیں کرنی...
ایم پی اے کے حواریوں نے کھڑی گندم کو آگ لگا دی ۔ پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر...
سابق گورنر کی جانب سے زہریلی مٹھائی سے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے لئے چالیس ہزار روپے فی کس...
چک نمبر150ٹی ڈی اے ، ایک ہی گھر کے چار بچوں سمیت چھ افراد شربت پینے سے فوڈ پوزننگ کا...
حقائق کاتعین کرنے کیلئے تمام ترتوانائیاں صرف کی جائیں۔رحمت اللہ خان نیازی آرپی اوڈیرہ غازیخان آرپی او متاثرین کے گھر...
وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں...
Read moreDetails


سوچنا چاہئے۔اپنی ذاتی سوچ سے باہر نکلیں،اپنے عوامی خدمت کو صرف نمائش کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی طرز حکومت کرنا سیکھنا ہو گااگر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ عوام کی صحت،تعلیم کے بارے میں کیا اقدامات کر رہے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ خزانہ خالی ہے۔ہم بجلی کی لوڈشیڈنگ ،گیس بحران، دہشتگردی،مہنگائی جیسے بڑے مسائل کی طرف متوجہ ہیں۔یہ درست ہے کہ ہمارا ملک بے شمار مسائل میں گھرا ہے لیکن کیا یہ نئی بات ہے؟کئی ممالک اس سے بھی بدتر حالات سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی دانشمندی سے ایسے حالات کا مقابلہ کیا ہے۔آپ سری لنکا کی مثال لے لیں کیا وہاں دہشتگردی نہیں تھی۔ وہاں پبلک ٹراسپورٹ میں بم بلاسٹ ہوتے تھے۔ کوئی شخص یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ آج گھر واپس آؤں گا یا نہیں لیکن انہوں نے ان حالات میں بھی تعلیم اور صحت کے معاملات میں کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔مفت تعلیم اور مفت صحت کی سہولیات ہر کسی کے لئے میسر رہیں۔ہمارا اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔اگر ہم زکوۃ کے نظام کو شفاف کر دیں تو کوئی غریب ادویات نہ ملنے کی وجہ سے نہ مرے۔عام آدمی سمجھتا ہے کہ یہ حکمران طبقہ ان باتوں سے نا آشنا ہے،ایسا نہیں،ہمارے حکمران ،اشرافیہ ہر بات سے باخوبی واقف ہیں۔ ابھی کوئی میڈیا پر کسی کی غمزدہ داستاں نشر ہو تو اسی وقت ہسپتال میں حکم نامہ چلا جائے گا،لیکن ان لاکھو ں غریبوں کی کوئی شنوائی نہیں جو علاج نہ ہونے کی صورت میں خاموشی سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ غلام ذہن رکھنے والے حکمران جو یورپین ممالک کی نقل کرنے کو فخر محسوس کرتے ہیں،وہاں پر موجود انسانیت انہیں مرعوب کرتی ہے لیکن اپنی عوام کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔اگر کسی کا بچہ مر جائے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے خاندانوں کے علاج ملک سے باہر مہنگے ترین ہسپتالوں میں ہوتے ہیں۔ کبھی اپنے ہسپتالوں میں بھی اپنے بچوں کا علاج کروائیں۔ یہاں کی جعلی ادویات انہیں بھی دیں۔ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر دو دو مریضوں کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی لٹائیں۔ پھر شاید انہیں احساس ہو ،جناب وزیر اعلیٰ صاحب اگر اپر پنجاب میں کوئی عام سا واقعہ یا سانحہ ہوجائے تو پوری انتظامیہ،پوری حکومت متحرک ہو جاتی ہے وزیر اعظم پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت اعلیٰ ترین شخصیات کے ڈیرے لگ جاتے ہیں کیا جنوبی پنجاب کے لوگ آپ کی کسی بھی نظر کرم کے مستحق نہیں جناب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب آپ کو حضرت عمرؓ کی طرز حکمرانی کا ایک انداز گوش گذار کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے پیاس سے اگر کوئی کتا بھی مر جائے تو اس کی موت کا جوابدہ میں ہونگا ،ضلع لیہ میں 30سے زائد معصوم شہریوں کی موتیں ہو چکی ہیں کیا ان کی موت کی ذمہ داری کوئی قبول کرے گا ضلع لیہ کی عوام جواب کے منتظر رہیں گے۔