عمران خان کے بیٹےگرفتار ہوں گے تو لیڈر بنیں گے، رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران...
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران...
لیّہ ( صبح پاکستان ) فتح پور میں پی ٹی ائی کی احتجاجی ریلی ,اے ایس آئی سمیت پولیس کے3...
لاہور ۔اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے گرفتار ہونے والے 9 اراکین گرفتاری کی رہائی اور ایف آئی...
لیہ۔( صبح پاکستان )حکومت پنجاب کی ہدایت پر حصول آزادی سے تحفظ آزادی تک سلوگن کے تحت جشن آزادی کے...
لاہور۔برطانوی جریدے ’’ دی اکانومسٹ‘‘ نے اپنے آرٹیکل میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین...
لیہ( صبح پاکستان )04اگست یوم شہدائے پولیس،ملک بھر کی طرح ضلع لیہ میں بھی پولیس شہداء کوخراج عقیدت پیش کرنے...
لیہ (صبح پاکستان) تفصیلات کے مطابق فوڈ سیفٹی ٹیم نے سٹی پولیس اسٹیشن لیہ کے قریب گوشت سپلائی کرنے والی...
کوٹ سلطان (فہیم منجوٹھ سے )چوری اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہنے والے نوجوان امجد نے اپنے جرائم...
کروڑ لعل عیسن (حافظ خلیل سے)رانا انیس الرحمن، سفیر راجپوت رانا جہانزیب اکبر، بانی و قائد RMMP راؤ فخر عباس...
راولپنڈی اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی...
Read moreDetailsوزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں، رہائی کی تحریک کو لیڈ کرنا چاہتے ہیں تو پھر گرفتاری ان کے لیے بڑی ضروری ہے، وہ گرفتار ہوں گے تو لیڈر بنیں گے‘۔
ڈان نیوز کے پروگرام لائیو ود عادل شاہ زیب میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’عمران خان کے بیٹوں کو ویزے دیئے جائیں گے، اگر تو وہ والد سے صرف ملاقات کرنے آئیں تو ان کی ملاقات کی بھی کروائی جائے گی اور سیکیورٹی بھی دی جائے گی، بحفاظت جب تک وہ واپس جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں‘۔
’لیکن اگر وہ یہاں آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں، اور انہوں نے تحریک کو لیڈ کرنا ہے تو پھر انہیں گرفتار کرنا اس بھی لیے ضروری ہے کہ پھر وہ لیڈر بنیں اور عمران خان کی پارٹی کو لیڈ کریں‘۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ’اگر وہ یہاں آکر پارٹی کو لیڈ کرتے ہیں تو یقینا اس سے پارٹی کو ایک چہرہ ملے گا، یہی اعتراض ہم پر اور پیپلز پارٹی پر کیا کرتے تھے کہ وہاں مورروثی سیاست ہو رہی ہے تاہم اس کی اپنی ایک ویلیو ہے جس کی اب ان کو بھی ضرورت بھی پیش آگئی ہے۔ اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا‘۔
وزیر اعظم کے سیاسی مشیر کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کو سیاست کرنی چاہیے، پولیٹیکل پارٹیز اور لیڈر شپ کےساتھ بیٹھنا چاہیے‘۔
’انہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے کہ ہم صرف اسٹیبلیشمنٹ سے ہی بات کریں گے، سیاست دانوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، راستہ جو بھی نکلنا ہے ِادھر سے ہی نکلنا ہے، حالات اور معاملات کو اگر ٹھیک ہونا ہے تو پولیٹیکل پارٹیز اور فورسز نے ہی کرنے ہیں، کوئی اگر یہ کہے کہ باقی سب کو نہیں چھوڑوں گا یا میں ختم کر دوں گا، تو ایسا نہیں ہو سکے گا‘۔