زرعی شعبہ کی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی وزیر اعلیٰ پنجاب کی ترجیحات میں سرفہرست،سید عاشق حسین کرمانی وزیر زراعت پنجاب
ملتان( صبح پاکستان )وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کی ترقی اور کاشتکاروں ...
ملتان( صبح پاکستان )وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کی ترقی اور کاشتکاروں ...
ملتان:[صبح پا کستان } : صوبہ پنجاب میں روئی کی 6 ملین گانٹھوں کے حصول کیلئے فیلڈ فارمیشنز مزید متحرک ...
ملتان ( صبح پاکستان )ایم ڈی اے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کے ویژن ستھرا پنجاب کے تحت ڈائریکٹر ...
. ملتان . چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو دھمکی آمیز پیغام ملنے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس کا ...
ملتان ۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے) کے امیگریشن سیل نے ملتان ایئرپورٹ پر پاکستان کی تاریخ کی سب ...
ملتان . تھانہ سیتل ماڑی میں پولیس نے ماں کے ساتھ کمسن بچی کو بھی حوالات میں بند کردیا۔ تھانہ ...
ملتان.پیپلز پارٹی کے رہنما رانا محمودالحسن نے سینٹ کیلئے اسلام آباد کی جنرل نشست سے کاغذات نامزدگی داخل کرادیئے ہیں ...
ملتان ۔ ملتان سے تحریک انصاف کے مر کزی رہنماء سابق ممبر قومی اسمبلی عامر ڈوگر کو گرفتار کر لیا ...
ملتان ۔ ہائی کورٹ ملتان بنچ کے عدالت عالیہ کے جج جسٹس مزمل اختر شبیر نے میونسپل کمیٹی لیہ کے ...
ملتان(صبح پا کستان)ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے سالانہ انتخابات کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے، جنرل سیکرٹری بار ...
اسلام آباد ۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران ، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال...
Read moreDetailsملتان( صبح پاکستان )وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی وزیر اعلیٰ پنجاب کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ موجودہ حکومت کے زرعی شعبہ کی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے انقلابی پروگرامز جاری ہیں جن سے صوبہ میں زرعی شعبہ کو تقویت ملی ہے۔ بعض عناصر حقائق کو تروڑ مروڑ کر حکومت پنجاب کے تاریخی اقدامات کے بار ے میں غلط فہمی پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے حکومت سنبھالنے کے ایک ماہ کے اندر 400ارب روپے کی لاگت سے زرعی ترقی کے متعدد پروگراموں پر عملدرآمد شروع کیا۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی دفعہ کاشتکاروں کیلئے بڑے بڑے پروگرامز شروع کئے گئے۔جن میں اربوں روپے سے کسان کارڈ کے ذریعے بلاسود قرض،گرین ٹریکٹرز پروگرام کے تحت ہزاروں ٹریکٹرز کی سبسڈی پر فراہمی،جدید زرعی مشینری کی60فیصد سبسڈی پر فراہمی ودیگر متعدد پروگرامز شامل ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد دور حکومت ہے جب کھاد کی قلت نہیں ہوئی۔کھاد مارکیٹ میں کمپنیوں کی مقررکردہ قیمتوں سے کم نرخوں پر وافر مقدار میں دستیاب ہے۔صوبہ میں کھادوں کی مصنوعی قلت،ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا مکمل خاتمہ کردیاگیا ہے۔اس کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ رواں سیزن تمام صوبائی حکومتوں نے گندم کی سرکاری خریداری آئی ایم ایف کے معاہدے کے تحت بند کردی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں حکومت نے گندم کے چھوٹے کاشتکاروں کو14ارب روپے کی براہ راست مالی امداد فراہم کی۔
صوبہ پنجاب کے کاشتکاروں کو خریف کی فصلات کیلئے کھاد،بیج اور زرعی ادویات کی خریداری کیلئے صرف دوماہ کے قلیل عرصہ کے دوران 85ارب روپے سے زائد کے بلاسود قرضے جاری کئے جاچکے ہیں۔ جن میں سے کاشتکاروں نے اب تک45ارب روپے سے زائد کھاد، زرعی ا دویات اورڈیزل کی خریداری کیلئے استعمال کرلئے ہیں۔رواں مالی سال کے دوران کاشتکاروں کی فلاح وزرعی ترقی کیلئے جو قابل ذکرپروگرامز متعارف کرائے گئے ہیں ان میں کسان کارڈ کے ذریعے 200ارب روپے کے بلاسود قرضہ جات،20ہزار ٹریکٹرز کی سبسڈی پر فراہمی،10ہزار سے زائد زرعی ٹیوب ویلز کی شمسی توانائی پر منتقلی،10ماڈل ایگریکلچر مالز کا قیام،فیلڈ میں ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرنے کیلئے 2ہزار نواجون زرعی گریجوایٹس کی بھرتی،کھالہ جات کی اصلاح و پختگی،30ارب روپے کی خطیر رقم کی لاگت سے زرعی مشینری کی فراہمی کے پروگرام سمیت متعدد منصوبے شامل ہیں۔حکومت پنجاب گندم کی آئندہ فصل کو منافع بخش بنانے کیلئے اس کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے ایک جامع منصوبہ تیاررکررہی ہے تاکہ کسانوں کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ مل سکے۔